آئیڈیالوجیکل بیانیوں کی بجائے انسانی حقوق کی زبان کو فروغ دینے کی ضرورت

365

آج 10 دسمبر کو دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آج کے دن تمام ممالک میں سرکاری و نجی سطح پر حقوق کے حوالے سے آگہی کے فروغ کے لیے سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں اور انسانی خوشحالی، رواداری اور یکساں مواقع کی فراہمی کا عزم کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی تحریک آزادی کا بنیادی سبب انسانی حقوق کی پامالی تھی جس کا مسلم طبقے کو سامنا تھا، اس اساس پر ایک الگ ملک وجود میں آیا، لیکن جیسے جیسے ہم آگے کی جانب سفر کرتے گئے ہیں انسانی حقوق کا مسئلہ ملک کا سب سے بڑا بحران بن گیا ہے۔ ہمارا سماجی، سیاسی و مذہبی ڈھانچہ نہ صرف شکست وریخت کا شکار ہے بلکہ اس کا عملی کردار مثبت و تعمیری کی بجائے منفی ہے۔ تقسیم، جبر اور نفرت کا بیانیہ ملک کے اندر امن و رواداری کو متأثر کر رہا ہے اور خوشحالی وترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

یہ درست ہے کہ انسانی حقوق کے بحران کے حوالے سے دنیا میں پاکستان کوئی استثنائی حیثیت نہیں رکھتا، تاہم ہمارے ہاں صرف یہ بحران ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس پر کنفیوژن کا ہونا اور غبارآلود صورتحال کا پیدا کیا جانا زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ سماج کی اکثریت انسانی حقوق کے بارے میں واضح تصورات نہیں رکھتی۔ اس کنفیوژن کے ماحول کو جنم دینے کا ذمہ دار کوئی ایک حلقہ نہیں ہے بلکہ انتظامیہ، سیاستدان، عدالتیں، تعلیمی درسگاہیں، سب یہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ مخمصہ حقوق کی ہر آواز کو آسانی سے خاموش کرادینے میں معاونت کرتا ہے اور مجموعی طور پہ سماج کو اپنے حقوق سے دستبردار ہوجانے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔ یہ تسلسل جس نوعیت کی معاشرتی، سیاسی و معاشی پیچیدگیاں پیدا کررہا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔

پاکستان میں حقوق کے حوالے سے اظہار رائے پر قدغن، معاشی عدم مساوات، مذہبی غیررواداری، خواتین کی مشکلات اور بچوں کے مسائل سرفہرست ہیں۔ بالخصوص پچھلے چند ماہ سے بچوں کے ساتھ زیادتی اور ان کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس پر کوئی ٹھوس اقدامات اب تک نہیں اٹھائے گئے۔ رواں سال یونیسف کے اشتراک سے حکومت کی طرف سے تیارکردہ رپورٹ کے مطابق ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد کسی یقینی تحفظ کے بغیر زندگی گزارتی ہے۔ عسکری آپریشنز والے اور شورش زدہ علاقوں میں یتیمی، معذوری اور تنگدستی کا شکار بچوں کا ترجیحاََ ریاستی توجہ وسرپرستی کی ضرورت ہے۔

اپنے تمام بنیادی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ہم معاشرے کو آئیڈیالوجیکل بیانیوں کے ماحول سے نکال کر کنفیوژن کا خاتمہ کریں اور انسانی حقوق کی زبان کو فروغ دے سکیں۔ اس فضا کی تبدیلی کے بغیر پرامن ترقی یافتہ معاشرے کا خواب ایک خواب رہے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...