مساویانہ حقوق کے لیے دستوری و قانونی پیش رفت اور ثمرات سے محروم عوام

635

ویسے تو کیلنڈر کا ہر دن انسانی حقوق کا دن ہونا چاہیے، تاہم 10 دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کا آغاز کب ہوا؟ غالباََ اسی دن جب روئے زمین پر دوسرا انسان آیا انسانی حقوق کی پامالی کی کہانی بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ قابیل کے ہاتھوں ہابیل کا قتل الہامی کتابوں میں رقم ہے۔ گویا انسان ہی انسانوں کے حقوق غضب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی و دنیاوی مذاہب اور فکر و فلسفہ کے مباحث کا مرکز و محور حرمتِ انسانی ہے۔ حضرت موسیٰؐ کے احکاماتِ ربانی سے لے کر حضرت محمدﷺ کے آخری خطبہ تک ہمیں حقوق العباد کا ایک مکمل بیانیہ ملتا ہے۔

انسانی حقوق کی کہانی میں اگر تہذیبی ارتقاء کا پہلو دیکھیں تو جدوجہد ’’مساویانہ حقوق‘‘ کی رہی ہے۔ ہمورابی کے کوڈ میں انسان برابر نظر نہیں آتا۔ غلام کے قتل کی سزا اور طبقہ اشرافیہ کے کسی فرد کے قتل کی سزا مختلف تھی۔ آقا اور غلام کی تفریق کے مظاہر جابجا ملتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 10 دسمبر 1948ء اہم ہے کہ اس روز انسانی حقوق کا عالمی چارٹر منظور ہوا جس میں انسانی برابری کے لیے دستوری اور قانون سازی کی راہیں کھلیں۔ آج یہ دستاویز دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔

اگست 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد ہم نے بحیثیتِ قوم اِس دستایز کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ کے پیرس میں منعقدہ اجلاس میں جب اِس دستاویز پر رائے شماری ہوئی تو پاکستان نے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستانی وفد میں اُس وقت کی رکن دستورساز اسمبلی بیگم شائستہ اکرام اللہ شامل تھیں۔ سر ظفراللہ خان نے انسانی حقوق کے چارٹر کا عقائد کے تناظر میں تجزیہ کرنے کے لیے پوری کتاب لکھ ڈالی۔

پارلیمان نے دستور کے ذریعہ بنیادی حقوق کے باب کے علاوہ قانون سازی کے ذریعے کئی اداروں کو بھی جنم دیا ہے لیکن ہم ان کے ثمرات اور اس کلچر سے ابھی تک محروم ہیں جس میں عوام کو یہ تمام حقوق حاصل ہوں

پاکستان کا اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق دینے کے لیے غوروفکر کا سلسلہ اِس سے بھی پہلے تب شروع ہوا جب 12 اگست 1947ء کو دستورساز اسمبلی نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی۔ اِس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان کے دستوری ڈھانچہ کی عمارت استوار ہونی تھی۔ اُس وقت کے پارلیمانی مباحث بتاتے ہیں کہ اراکین اسمبلی کا نقطہ نظر یہ بنا کہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر تو ہم مان آئے ہیں، اب بتائیے کہ دستور میں اس سے زیادہ کیا دے سکتے ہیں؟ اتنے اچھے آغاز والے ملک میں انسانی حقوق کی جابجا پامالی پر بہت دکھ ہوتا ہے۔ 1956ء کے دستور میں بنیادی حقوق کا باب شامل تھا جوکہ اِس کمیٹی کی محنت تھی۔ 1962ء میں فردِ واحد نے آئین دیا تو حقوق کا باب غائب تھا۔ جب یہ دستور اسمبلی میں آیا تو اُس میں پہلی ترمیم حقوق کا باب واپس لائی۔ 1973ء کے دستور میں بھی بنیادی حقوق کا باب شامل ہے۔

مارشل لاء ادوار میں کئی عبوری آئینی حکم نامے آئے لیکن بنیادی انسانی حقوق کے باب میں ایک حرف کا اضافہ نہ ہوا۔ 2010ء میں اٹھارویں ترمیم نے منصفانہ ٹرائیل، آزادی اطلاعات اور تعلیم کو حق تسلیم کیا۔ تاہم اگر دستورِ پاکستان کے بنیادی حقوق کے باب کا مطالعہ کریں تو یہ بہت زیادہ ’اگر ، ’مگر‘ ، ’قانون‘ ، ’پبلک اخلاقیات‘ وغیرہ کے بوجھ تلے دبا ہے۔ کیا ہم اس باب کو متحرک اور لازمی عمل کی زبان میں نہیں ڈھال سکتے؟

جب دستور معطل ہوتا ہے تو سب سے پہلے یہ باب غیرفعال ہوجاتا ہے۔ کیا ہم اس باب کو غیرفعالیت کے عذاب سے مبرا نہیں کرسکتے۔ پارلیمان نے دستور کے ذریعہ بنیادی حقوق کے باب کے علاوہ قانون سازی کے ذریعے کئی اداروں کو بھی جنم دیا ہے جن میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق، خواتین کی حثیت کمیشن اور کمیشن برائے حقوقِ اطفال شامل ہیں۔ سپریم کورٹ نے بھی انسانی حقوق کا سیل بنا رکھا ہے۔ ایگزیکٹو کی وزارت برائے انسانی حقوق بھی قائم ہے لیکن ہم انسانی حقوق کے ثمرات او اُس کلچر سے محروم ہیں جس میں عوام کو یہ تمام حقوق حاصل ہوں۔ عدلیہ کے کئی اہم فیصلے بھی آئے، خصوصاََ اقلیتوں کے حوالے سے، لیکن لگتا ہے کہ ہم نے عمل نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ انسانی حقوق کا دن منانے کا سب سے اچھا انداز یہ ہوسکتا ہے کہ ہم عزم کریں کہ ہمارے لوگ ہی ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں اور ہم انہیں تمام حقوق کے پھل پہنچائیں گے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...