شک کرنا نفسیاتی و اخلاقی مرض ہے

89

شک ایک نفسیاتی مرض اور اخلاقی عیب ہے۔ یہ انسان کی شخصیت کا دشمن ہے۔ شک کا نتیجہ بگاڑ و انتشار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر اس شک کو بیوی پا لے تو میاں کا آرام و سکون تباہ وبرباد، اگر میاں پا لے تو بیوی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اگر یہ بیماری انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہو تو اس کی زندگی بوجھل اور بے مزا ہو کر رہ جاتی ہے۔ شک کرنے والے کی شخصیت  نہ صرف اپنی نظروں میں گرجاتی ہے بلکہ نفسیاتی اور اخلاقی حوالے سے وہ اپنے آپ کو کمزور بھی کر تا ہے۔

اس کی وجہ سے اولاد، والدین، زوجین، دوست اور ہمسائے سب پریشان ہو کر رہ جاتے ہیں۔ یہ فساد کے اسباب  میں سے ایک سبب ہے۔ اس کی وجہ سے نوبت قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ کسی نے کچھ کہا یا نہ کہا شکی انسان نے خود ہی شک پیدا کیا، اپنے ذہن سے کہانی بنائی اور خود ہی اس کہانی کو کلائمکس تک لے گیا۔ اکثر اوقات، کلائمکس بہت خطرناک اور خوفناک بھی ہوتا ہے۔ اسی شک کی وجہ سے ایک شخص اپنی بیوی کو بےدردی سے پیٹتا ہے۔ اگر اپنی بیوی کا سفاکانہ قتل کرتا ہے تو اسی شک کی وجہ سے۔ اگر بیوی اپنے بچوں اور بچیوں کی جان لیتی اور انہیں قتل کر دیتی ہے توصرف اس شک کی بنیاد پہ۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں بیوی نے صرف شک کی بنیاد پہ طلاق لے لی اور ہنستی بستی زندگی کو تباہ کردیا۔ جب حقیقت کھل کر سامنے آئی تو اس میں سوائے وہم اور پچھتاوے کے کچھ نہ ملا۔ اگر بیوی خوبصورت ہے خاوند ویسا خوبصورت نہیں ہے۔ بیوی تعلیم یافتہ ہے اور خاوند کی ویسی تعلیم نہیں ہے۔ اس کے برعکس صورت حال ہو تو بھی شک کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔

مسائل کو زیر بحث نہ لانا بھی جھگڑے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک  وجہ ہے

یہ مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب شادی سے پہلے معاملات طے نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں نکاح فارم پڑھنے کے لیے نہیں دیا جاتا تاکہ لڑکا اور لڑکی تمام شرائط سمجھ کر آزادانہ طور پر شادی کا فیصلہ کریں۔ ہمارے ہاں اکثر شادیاں خاندانی اور سماجی دباؤ کے تحت ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد بہت سے اختلافات سامنے آتے ہیں۔ مسائل کو زیر بحث نہ لانا بھی جھگڑے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک  وجہ ہے۔ شک کا علاج یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور اعتماد کا رشتہ قائم کریں۔ کبھی کسی معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں اور نہ فیصلہ کریں بلکہ صبر، دوراندیشی اور حوصلے کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ حقیقت کبھی چھپتی نہیں ہے جلد کھل کرسامنے آہی جاتی ہے۔

اسلام ہمیں گمان و ظن سے منع کرتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی کوئی حقیقت ہوتی ہے، اس لئے اسلام اجتماعی اور قانونی مسئلہ میں یقین و ثبوت کی بات کرتا ہے۔ اگر ایک شخص کسی پہ الزام لگاتا ہے اور ثبوت مہیا نہیں کرتا تو الزام لگانے والا اس  پہ سزا کا حقدار ٹھرتا ہے۔ شک سے شروع ہونے والا سفر، سزا کے خوف سے آگے نہیں بڑھ پاتا ورنہ اس کے آگے بند باندھنا مشکل ہو جائے۔ یہ معاشرے کے ہر شریف النفس انسان اور عزت مآب خاتون کی عزت اور زندگی کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...