نوجوانوں کا مسئلہ اور مقتدر اشرافیہ کے مفادات

314

ہمارے ہاں ”سیاست“ کا لفظ ایک گالی کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کوچہِ خراباں میں نوجوانوں کا قدم دھرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ تصور پنپ رہا ہے کہ مقتدر اشرافیہ ملک میں سیاسی سماج کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں کو متحرک کرنے اور ان میں بیداریِ شعورپیدا کرنے پر مائل نظر آتی ہے۔ دوسری طرف یہ رائے بھی سامنے آتی ہے کہ یہ سچ ادھورا ہے، مقتدر اشرافیہ سیاست پر یقین ضرور رکھتی ہے لیکن وہ اسے مخصوص طبقات تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔

پاکستان کا سیاسی میدان ایسے مختلف النوع  نظریاتی، مذہبی اور سیاسی آرا و خیالات کے لیے کھلا ہے جو مقتدر اشرافیہ کے مفادات سے میل کھاتے ہیں، لیکن متبادل، ترقی پسند اور تنقیدی نظریات و افکار کے لیے یہاں جگہ انتہائی محدود ہے۔

مقتدراشرافیہ کے نزدیک سیاست اپنی عملداری کو یقینی بنانے اور اختیار و اقتدار مستحکم کرنے کا نام ہے جسےعوام کے سیاسی حقوق اور سیاسی مضبوطی و استحکام سے کوئی ناطہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ”حقوق کی سیاست“ دراصل دشمنوں کی چال ہے جس سے ریاست کے خلاف نسل در نسل مخاصمت کا رجحان جنم لیتا ہے۔ طلبہ یونینز ہوں یا تجارتی انجمنیں، حقوق کے نام پر سیاسی عمل میں حصہ لینے والی تمام تر قوتوں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا اور ایسے تابعدار ذرائع ابلاغ سامنے لائے گئے جو طے شدہ بیانیوں کی تشہیر و اشاعت کی ذمہ داری بخوبی انجام دیتے نظر آتے ہیں۔ طاقتور اشرافیہ کا خیال ہے کہ ان کی اس کوشش سے لوگ ایک جیسا سوچنے لگیں گے اور ان میں مثبت رویے جنم لیں گے۔

ذرائع ابلاغ کے بعد تعلیمی ادارے ایسی جگہیں ہیں جہاں مقتدر اشرافیہ اپنا تسلط قائم کیے ہوئے ہے۔ واقفانِ حال جانتے ہیں کہ اسلام آباد یا دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اعلیٰ سطحی پالیسی ساز اجلاسوں اور مکالموں میں طلبہ یونینز کی بحالی کا موضوع گویا حرام ہے۔ بیوروکریسی سے لے کر تعلیمی اداروں کے منتظمین و اساتذہ، سبھی طلبہ کی طاقت کے تصور سے سہم جاتے ہیں۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ انہی  طبقات کو مذہبی، سیاسی اور کالعدم جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ تعلیمی اداروں میں کھلے عام سرگرم ہیں۔ ایک نقطہِ نظر کے مطابق یہ تنظیمیں انتظامیہ یا اساتذہ میں موجود ہم خیال افراد کی شہہ پر کام کرتی ہیں۔ یہ خیال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ مقتدر اشرافیہ کو بھی ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیوں کہ مذکورہ تنظیمیں ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے یا ان مفادات کو زک پہنچائے بغیراپنی بقا قائم رکھنے کا ہنر سیکھ چکی ہیں۔

متفقہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر مناسب طرح سے  منظم اور فعال طلبہ یونینزکا وجود نوجوانوں میں انتہا پسندی کے عمل کو روکنے کے لیے کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر صوبائی حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بناتی ہیں تو اس سے بھی متعلقہ میدانوں میں نوجوانوں کی ضروریات کی تکمیل کا سامان بہم پہنچایا جا سکتا ہے

بنیاد پرست تنظیموں کی موجودگی نے تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی کو پروان چڑھانے میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ اس کے برعکس متفقہ قواعد و ضوابط کی بنیاد پر مناسب طرح سے  منظم اور فعال طلبہ یونینزکا وجود نوجوانوں میں انتہا پسندی کے عمل کو روکنے کے لیے کارگر ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی طرح اگر صوبائی حکومتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو یقینی بناتی ہیں تو اس سے بھی متعلقہ میدانوں میں نوجوانوں کی ضروریات کی تکمیل کا سامان بہم پہنچایا جا سکتا ہے۔

طلبہ یونینز کی بحالی کے منفی نتائج و مضمرات کے حوالے سے مقتدر اشرافیہ کا موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کے نزدیک طلبہ یونینز کی بحالی سے تشدد اور تعلیمی اداروں کے ماحول میں خرابی جنم لیتی ہے۔ دوسری طرف کا موقف بھی انتہائی واضح اور موزوں ہے جو 80ء کی دہائی میں جنم لینے والی اسلحہ ثقافت اور سیاست سے متعلق فوجی آمروں کے مخصوص نقطہِ نظر کا حوالہ فراہم کرتا ہے۔

تاہم اصلاحِ احوال کے ذرائع و مواقع موجود ہیں۔ طلبہ کو سیاست میں شمولیت پر مائل کرنے کے لیے متعدد تنظیمیں تعلیمی اداروں میں کام کررہی ہیں۔ وہ طلبہ یونینز کے لیے نئے قواعد و ضوابط بھی سامنے لے آئی ہیں تاکہ تعلیمی اداروں کے سیاسی ماحول کو آزاد و خود مختار اور محفوظ بنایا جا سکے۔ لیکن مقتدر اشرافیہ طلبہ سیاست کی بحالی کے لیے کسی طور رضامند نہیں ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے عمل اور نجی تعلیمی اداروں کے کاروباری رجحانات نے ملک میں طلبہ سیاست کی بحالی کی بحث کو مزید مشکل بنا دینے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان حالات میں طلبہ یکجہتی مارچ ایک حوصلہ افزا امر ہے اور طلبہ میں موجود اضطراب کی عکاسی کرتا ہے۔

معلوم نہیں طلبہ یکجہتی مارچ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تاہم اس مارچ سے ملک کو درپیش ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ دینے کا امکان ضرورپیدا ہوا ہے۔ مقتدر اشرافیہ کی جانب سے ملک میں پابند سیاسی کلچر کو فروغ دینے کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستانی نوجوانوں میں تین طرح کےسیاسی رجحانات نے جنم لیا ہے۔

اولاً پبلک سیکٹر تعلیم کے بارے میں ان کی خوش فہمی کو ختم کیاہے۔ گذشتہ تین دہائیوں میں نوجوان عسکریت پسندی اور انتہا پسند جماعتوں کا آسان ”ہدف“ رہے ہیں۔ وہ عسکریت پسندی اور قوم پرستی کے غلط بیانیوں کا بری طرح شکار رہے ہیں، جس سے ان کی ذات کو کوئی فائدہ پہنچا ہے نہ ہی ریاست کو ان سے کچھ حاصل ہو پایا ہے۔ اس کے برعکس شاید یہ بے سمت نوجوان مذہبی و سیاسی جماعتوں کےلیے سیاسی سرمایہ کاری کا بہترین میدان رہے ہیں۔ 90ء کی دہائی کے اوائل میں جماعتِ اسلامی نے نا انصافی کے خلاف نوجوانوں کو ”پاسبان“ کے پلیٹ فارم سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی، تاہم اس تحریک کو وہ انتخابی کامیابی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے۔ ان جماعتوں کے بیانیے مگرسیاسی سرمائے کےطور پر اسٹیبلشمنٹ کے لیے بے حد سود مند رہے۔ان جماعتوں کے کئی رہنما اور قائدین 90ء کی دہائی میں اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ سیاسی جماعتوں میں شامل رہے۔

دوسرا رجحان طلبہ مدارس کے اندر موجود رہا جو ابھی تک اپنی صحیح سیاسی طاقت نہیں دکھا سکا۔ یہ نوجوان بلا واسطہ انتہا پسند، فرقہ وارانہ اور عسکریت پسند تنظیموں کے زیرِ اثررہے۔ طلبہ مدارس کی موجودہ نسل سیاسی گنجائشوں اور مواقع کی جانب متوجہ ہوئی ہے۔ ممکن ہے انہیں اس بات سے غرض نہ ہو کہ انہیں یہ سیاسی مواقع کون فراہم کرتا ہے لیکن جمعیت علماے اسلام (ف) ان کی نبض پر ہاتھ رکھ چکی ہے۔

تیسرا سیاسی رجحان 90ء کی دہائی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اوائل میں نجی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوانوں میں پیدا ہوا جن کے والدین کو مابعد نائن الیون پاکستان میں شعبہ خدمات ِ عامہ کے پھیلاؤ سے کافی فائدہ پہنچا تھا، یہ طبقہ کنٹونمنٹ اور دیگر پوش علاقوں کا رہائشی ہے۔ نوجوانوں کے اس طبقہ کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے تعلیمی اداروں میں کوئی مواقع میسر نہیں رہے اور یہ سیاسی شعور سے نابلد تھے، تاہم سماجی ارتقاء کے عمل  اور سائبر اسپیس کی نمو نے ان کے سیاسی رویے میں کافی تبدیلی پیدا کی۔ ان نوجوانوں میں سیاسی تحرک کا آغاز مقتدر اشرافیہ کی خواہش اور انہی کی خواہش کے عین توسط سےہوا۔

موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو اس رجحان کے باعث سب سے زیادہ فائدہ پہنچا۔ عمران خان حالیہ پاپولسٹ رجحانات کے گرویدہ متوسط طبقہ کے لیے سیاسی رومانویت کا استعارہ بن کر سامنے آئے۔ یہ طبقہ سیاسی طور پر خود مختار اور ثابت قدم پاکستان دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ طبقہ کسی بھی ذمہ داری اور باہمی تعامل کے بغیر عالمی تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی آرزو رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ لوگ عالمی گنجائشوں اور مواقع کی مدد کی موجودگی کے ساتھ خود انحصار معیشت کی تمنا کریں گے لیکن عالمی حوالےسے جذباتی ردِ عمل اور اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی نفسیات سے باہر نہیں آئیں گے۔

پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ انہی تین طرح کے رجحانات کے گرد گھومتی ہے۔ طلبہ سیاست نے اگرچہ پہلے رجحان کی نمو و افزائش میں کردار ادا کیا ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ مختلف اوقات میں تینوں رجحانات کو پنپنے کے لیے آزادانہ راستہ فراہم کرتی رہی ہے۔ مقتدر اشرافیہ ان رجحانات سے معاملہ کرنے کے فن میں تاک ہو چکی ہے لیکن جونہی حقوق کے نام پرکوئی تحریک سامنے آتی ہے اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگتے ہیں۔ اسے ان تحاریک سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ آتا ہے کہ انہیں بزورِ طاقت دبا دیا جائے۔ ہم صرف یہ تمنا ہی کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی آوازوں اور آرزوؤں کے ساتھ سیاسی طریقے سے معاملات طے کرنے کا رجحان پیدا ہو سکے۔

مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...