سندھ میں کاروکاری کے بڑھتے واقعات: کیا یہ ظلم میں شمار نہیں ہوتے؟

100

گزشتہ روز سندھ کے ضلع دادو میں علاقے کے بااثر افراد نے جرگے کے فیصلے میں 14 سالہ گل سما کو کاری قرار دے کر سنگسار کرادیا اور اسے ایک حادثہ قرار دے کر تدفین کردی۔

سندھ میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں ہرسال اضافہ ہورہا ہے۔ سماجی کارکن عائشہ دھریجو کے مطابق رواں سال جنوری سے اب تک کاروکاری سے اور رشتے داروں کے ہاتھوں صوبے میں ایک سو اُنتالیس مرد و خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے کاروکاری کے ذریعے قتل کیے جانے والوں کی تعداد 79 ہے۔ جن میں پچاس خواتین اور اُنتیس مرد شامل ہیں۔ ان واقعات میں سے اکثر کی پولیس کو رپورٹ درج کرائی گئی ہے لیکن زیادہ تر کے مقدمات کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچے۔

قومی اسمبلی سے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بِل منظور کیا جاچکا ہے اور سندھ ہائی کورٹ بھی جرگوں میں ہونے والے فیصلوں کو غیرقانونی قرار دے چکی ہے اس کے باوجود سندھ میں بالخصوص یہ رسم اب تک جاری ہے۔ اس کی وجہ ان قوانین پر عملدآمد نہ ہونا اور خواتین کو سرکاری سرپرستی نہ ملنا ہے۔ سندھ کے سماجی کارکنان کہتے ہیں کہ یہ رسم اب دیہی علاقوں میں سماجی روایت کے بطور ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے، اس کے پیچھے دراصل دشمنی اور بااثر افراد کا جبر ہوتا ہے جن کے باعث ایسے واقعات رُونما ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں درج کردہ مقدمات میں پیش رفت نہ ہونے کی وجہ جہاں جرگے کی بااثر شخصیات کا انتظامیہ پر دباؤ ہوتا ہے وہیں اس کے ساتھ بعض اہل خانہ کا قتل کو معاف کردینا اور خواتین کے  تحفظ کے لیے معتمد و معاون شیلٹر ہاؤسز کا نہ ہونا بھی ہے۔

اس طرح کے غیرانسانی واقعات کی روک تھام حکومت اور عدلیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس کے لیے دیہی علاقوں میں سنجیدہ آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی غیرت کے نام پر قتل کے خلاف فتویٰ دے چکی ہے، متأثرہ علاقوں کے علما کی تربیت کرکے ان کے ذریعے بھی اس ناروا عمل کی روک تھام میں مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ مددگار ہیلپ لائن نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ وہ ازخود نوٹس لے کر پولیس سے کاروکاری کے مقدمات میں پیش رفت کی رپورٹ طلب کرے، اور یہ کہ اس طرح کے مقدمات کودہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا جانا چاہیے، لیکن عدالت اب تک خاموش ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ہونے والے ظلم پر بھی ترجیحی سطح پر یکساں توجہ دیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...