افغانستان میں ڈرون حملے میں مارے جانے والاخلیفہ عمرمنصور کون تھا ؟

317

خلیفہ منصور کے بارے میں خیال ہے کہ وہ یہاں سے نکل کر افغانستان چلا گیا جہاں نورستان سے ننگر ہار کے درمیان وہ اپنی جگہیں بدلتا رہا .

آرمی پبلک سکول پشاور اور باچا خان یونیورسٹی پر حملے کا ماسٹر مائینڈ خلیفہ عمرمنصور افغانستان میں  ایک ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ عالمی میڈیا نے اسے پاکستان کا سب سے” قابلِ نفرت شخص “قرار دیا تھا ۔ اس کا نام سب سے پہلے اس وقت سامنے آیا تھا جب اس نے آرمی پبلک سکول پشاورپر حملے کی نہ صرف ذمہ داری قبول کی تھی بلکہ ایک وڈیو بھی جاری کی تھی جس میں وہ ان سات دہشت گردوں کے درمیان کھڑانظر آتا ہے جنھوں نے پشاور میں خون کی ہولی کھیلی تھی ، اسی وڈیو میں اس نے مزید ایسے حملے کرنے کی دھمکی بھی دی تھی ۔ اس وڈیو کے سامنے آنے کے چار روز بعد خیبر ایجنسی کے علاقے وادی تیراہ میں ایک فضائی آپریشن میں خلیفہ عمر منصور کی ہلاکت کا دعوی ٰ بھی کیا گیا مگر وہ یہاں سے بچ نکلا ، اس حملے میں اس کا بھائی مصطفیٰ اپنے چار ساتھیوں سمیت مارا گیا ۔

خلیفہ منصور کے بارے میں خیال ہے کہ وہ یہاں سے نکل کر افغانستان چلا گیا جہاں نورستان سے ننگر ہار کے درمیان وہ اپنی جگہیں بدلتا رہا ۔ اس نے گزشتہسال18ستمبر کو پشاور میں پی اے ایف بڈھ بیر ائیر بیس پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی جس میں 29افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ خلیفہ عمر منصورکا اصلی نام اورنگ زیب تھا اور اس کی عمر 38سال کے لگ بھگ تھی ۔اس کا تعلق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تھا جہاں ایک وفاقی تعلیمی ادارے سے اس نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ۔بعد ازاں وہ کسی مقامی مدرسے میں بھی زیر تعلیم رہا اور کچھ عرصہ کراچی میں مزدوری بھی کرتا رہا ۔

تجزیہ کاروں کا خیا ل ہے کہ لال مسجد آپریشن کے بعد وہ طالبان کے ساتھ جا ملا جہاں اس نے درہ آدم خیل کے گاﺅں آدے زئی میں رہائش اختیار کی جہاں طالبان مقامی ملکوں کو علاقے سے بے دخل کرنے میں مصروف تھے اور حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی تھی ۔طالبان کمانڈر طارق آفرید ی کی ہلاکت کے بعد وہ درہ آدم خیل شاخ کا امیر بن گیا اورجلد ہی اپنی بے رحمانہ کارروائیوں کی وجہ سے طالبان قیادت کے قریب ہو گیا ۔اس کے دھڑے سے منسلک افراد میں چارسدہ اور نوشہرہ کے افراد بھی شامل ہیں شاید اسی وجہ سے باچا خان یونیورسٹی ہدف بنی ۔خلیفہ عمر منصور کو ٹی ٹی پی خیبر پختونخواہ کا آپریشنل ہیڈ بھی کہا جاتا تھا۔خلیفہ عمر منصور کا ایک چچا زاد بھائی جنگریز خان بھی علاقے میں طالبان کمانڈر رہ چکا تھا وہ خیبر ایجنسی میں ایف سی کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا تھا ۔

خلیفہ عمر منصور شادی شدہ اور دوبیٹیوں سمیت ایک بیٹے کا باپ تھا ۔خلیفہ عمر منصور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ والی بال کا شیدائی ہے اور جہاں جاتا ہے وہاں والی بال کا نیٹ بھی لگا لیتا ہے ۔اپنی دبلی پتلی جسمانی ساخت کی وجہ سے اسے طالبان حلقوں میں نرے “کے لقب سے پکارا جاتا تھا جس کا مطلب ”دبلا“ ہے ۔اس کا شمار تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے باعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا گزشتہ سال جب خیبر ،مہمند اور مالا کنڈ ایجنسیوں کے طالبان نے ٹی ٹی پی سے اختلافات کی وجہ سے اپنا الگ گروپ بنانے کا عندہ دیا تو اس موقع پر بھی خلیفہ عمر منصور ،کمانڈر شہریار محسود ،شیخ خالد حقانی کے ساتھ فضل اللہ کے ساتھ کھڑا رہا ۔فضل اللہ بھی سخت گیر ہیں اس لئے ان کے قریب بھی خلیفہ عمر منصور جیسے لوگ تھے ۔

عمر منصور کی ہلاکت سے پاکستان میں خوف و دہشت کا ایک باب بند ہو گیا ہے ۔پاکستان  کے سیکورٹی ادارے ایک عرصے سے عمر منصور اور ٹی ٹی پی پاکستان کے امیر  ملا فضل اللہ کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں افغان اور امریکی حکام سے احتجاج کرتے آئے ہیں ۔اب امریکی افواج نے عمر منصورکو نشانہ بنا کر پاکستان کا ایک مطالبہ پورا کر دیا ہے ۔جس سے پاکستان ، افغانستان اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی فضا بڑھے گی ۔اور اس کے ساتھ پاکستان پر دباؤ بھی کہ وہ اب افغانستان میں امن مزاکرات کے مخالف ان  طالبان  رہنماؤں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے  جن کے بارے میں افغانستان اور امریکہ کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...