دینِ اسلام میں پاپائیت نہیں ہے، لیکن مذہبی طبقے کے اندر ایک نوع کی بالادستی کی نفسیات راسخ ہے جو اسے پاپائیت کی حیثیت تو عطا نہیں کرتی تاہم اس کے اندر عوامیت کا احساس بھی موجود نہیں ہے۔ مذہبی طبقہ خود کو عوام کا حصہ شمار نہیں کرتا۔ عوام کالانعام (عوام مثل چوپائے) کا مقولہ اس کے ہاں عام استعمال ہوتا ہے۔ اسے یہ حیثیت مذہب کو ادارہ جاتی شکل دینے کے ساتھ حاصل ہوئی۔
مذہب عام آدمی کو مخاطب کرتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے جگہ جگہ یاایھا الناس کہہ کر تعلیمات نازل کیں۔ عوام اصل کا درجہ رکھتے تھے اور دین حقیقت میں عوامی وثقافتی تھا۔ دینداری پیشہ نہیں تھا اور اجتہاد کا مطلب تعبیر پیش کرنے اور رائے دینے تک محدود تھا، اور یہ کردار مذہبی طبقے کو عوام سے بالاتر نہیں بناتا، نہ ہی عوامی حیثیت وشعور کو کم درجہ بناتا ہے۔ لیکن آہستہ آہستہ یہ تصور پروان چڑھا کہ دین دو طرح کا ہوتا ہے، ایک علما کا دین اور دوسرا عوامی دین۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ علما کا دین اصل اور خالص ہوتا ہے جبکہ عوام اس بارے میں متساہل ہوتے ہیں اور ان کے دین پر شک کیا جاسکتا ہے۔ مذہبی حلقہ سماوی احکامات کا تحفظ کرنے والا اور عوام ان کو ضائع کرنے والے ہوتے ہیں۔ مذہب کا ایک مثالیت پسند تصور تشکیل دیاگیا اور ایک طبقہ اس کا محافظ گردانا گیا۔
مذہب کا یہ مثالیت پسند تصور اور دین کی طبقاتی تقسیم تاریخ وجدیدیت کے راستے میں حائل ہوئے اور اس سے سماج میں اضطراب کی کیفیت نے جنم لیا۔ لیکن رفتہ رفتہ ایک مسلسل مشق کے نتیجے میں عوام بھی اس کے قائل ہوگئے ہیں کہ ان کا دین کی روح سے بھلا کیا لینا دینا، اصل تو ادارہ ہے۔ عوامی وثقافتی دین تسامح پر یقین رکھتا ہے اور یہ تاریخی پراسس کے آگے رکاٹ نہیں بنتا لیکن مثالیت پسند تصور اس کے برعکس ہوتا ہے۔ علما اس کا اداراک رکھتے ہیں لیکن یہی چیز مذہبی طبقے کو عوام سے ممتاز بناتی ہے اور اس کی علامتی سیاسی بالادستی کو اساس فراہم کرتی ہے۔
یہ’’رائے“ سے فتوے تک کا سفر ہے۔ فتویٰ دین سے متعلق کسی مسئلے میں رائے کا اظہار یا کسی نص کی تاویل وتعبیر نہیں ہے بلکہ طبقاتی اتھارٹی کا مظہر ہے۔
مذہب کو ادارہ جاتی حیثیت ریاست نے اپنے مفادات کے لیے عطا کی تھی۔ اس کی سب سے پہلی کوشش دوسری صدی ہجری میں عباسی خلیفہ ابوجعفر المنصور کے عہد میں ہوئی جب اس نے امام مالک کو کہا کہ ہم مسلم سلطنت میں متنوع مسالک واجتہادات کو ختم کرکے آپ کی کتاب کو لاگو کرتے ہوئے ایک فکر کی تنفیذ کرتے ہیں، تو امام مالک نے کہا کہ عوام اس کے عادی نہیں، وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ تب ہر شہر میں الگ مذہبی فقہی رجحانات تھے اور عوام مرضی سے جس پر چاہے عمل کرتے، وہ حقیقی اتھارٹی تھے۔ ابوجعفر المنصور علویوں کی معتبر دینی شبیہ کے مقابل ریاستی حمایت یافتہ طاقتور شبیہ کھڑی کرنا چاہتا تھا۔ امام مالک کے انکار پر بعد میں انہیں سزا بھی ملی۔ انہیں کوڑے مارے گئے اور ان کے بازو کا جوڑ جھٹکے کے ساتھ کندھے سے الگ کردیا گیا۔ مذہبی طبقے میں ایک فکر کی تنفیذ کے لیے خلیفہ کا اقدام اپنے مخصوص مفاد کے لیے تھا اور اس کا مقصد دین کے مثالیت پسند تصور کا رسوخ بھی نہیں تھا، تاہم یہ اقدام مذہب کی عوامیت پسند شکل کو ختم کرنے اور مذہبی طبقے کو عوامیت سے ہٹا کر اس وقت کے بالادست ریاستی ڈھانچے کے ساتھ جوڑنے پرمنتج ہوتا۔
طاقت کی اس ادارہ جاتی شکل کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ خود کو عوامی تصور نہیں کرتی۔ لہذا منطقی طور پر یہ یا تو خود مقتدر بننا چاہے گی یا پھر ریاستی مقتدرہ کے ساتھ بیٹھے گی
شروع میں جو علما سلطانی محلات کے ساتھ قرب رکھتے ان کی ثقاہت مشکوک سمجھی جاتی تھی، لیکن حکام نے اپنے استبدادی طرزحکومت کو سہارا دینے کے لیے مذہبی طبقے کو آہستہ آہستہ اپنے قریب کرلیاجوعوام میں ان کے لیے رائے ہموار کرتے تھے۔ بدلے میں حکام نے انہیں ’خواص‘ کی حیثیت دی۔ سیاسی فقہ کے ادب میں عامہ اور خاصہ کی اصطلاحات موجود ہیں۔ اس سے وہ ایسا طبقہ بن گئے جو اپنے آپ کو عوام سے الگ محسوس کرتا ہے۔ یہ اتنے طاقتور ہوگئے کہ ریاستی امور میں پر بھی اثر انداز ہونے لگے۔ تیسری صدی ہجری میں جب امین اور مامون کے مابین اختلافات ہوئے اور ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوا تو ان میں سے ایک طبقے نے باہر نکل کر اپنی تحریک چلالی، لوگوں سے بیعت لینے لگے۔ ابن کثیر نے تحریک کے ایک فقیہ بارے لکھا ہے کہ ’اس کے گھرکا دروازہ سلطان کے دروازے کی منزلت رکھتا تھا‘۔ جب مامون اقتدار میں آیا تو یہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہوچکے تھے۔ بلکہ ان کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوتا چلاگیا۔ عثمانی خلافت میں ”شیخ الاسلام“ کا طاقتور ترین عہدہ علامتی سیاسی بالادستی کے عروج کی تمثیل ہے۔
مذہبی طبقہ آج بھی’شیخ الاسلام‘ کا لقب زندہ رکھے ہوئے ہے۔ ان کے ہاں مسلم سلطنت پر براجمان امیرالمؤمنین کے لقب کی طرح امیرالمؤمنین فی الحدیث، امیرالمؤمنین فی الفقہ وغیرہ جیسے القاب آج بھی موجود ہیں ۔یہ اصل میں اسی علامتی سیاسی بالادستی کی راسخ نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ جو کسی بھی طرح عوامی نہیں ہے۔
مذہبی طبقہ ریاست کا کنٹرول تو نہیں سنبھالتا لیکن اس کا مزاج یہ ہے کہ وہ ریاستی لہجے میں خطاب کرتا ہے، نہ کہ عوامی لہجے میں۔ اگر اقتدار میں نہ بھی ہو تب بھی خود کو اصل حاکم تصور کرتا ہے اور اس سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی فرد جب عوام سے بات کرتا ہے تو یہ بطور ادارہ ہوتا ہے اور اپنی توہین کو ادارے کی توہین گردانتا ہے۔
گویا طاقت کی اس ادارہ جاتی شکل کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ خود کو عوامی تصور نہیں کرتی۔ لہذا منطقی طور پر یہ یاتو خود مقتدر بننا چاہے گی یا پھر ریاستی مقتدرہ کے ساتھ بیٹھے گی۔ جب تک اس کی ادارہ جاتی حیثیت تحلیل نہیں ہوتی اس وقت تک یہ امید نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ جمہوری نظم اجتماعی کو کھلی راہ دے گی، یا اگر اقتدار میں آئے تو ”شہریت“ کی قدر کی رعایت رکھے گی۔ اس کا تشکیلی ڈھانچہ اسے یہ اجازت ہی نہیں دیتا۔
گلوبلائزیشن نے لامرکزیت کی بنا رکھی ہے، مذہبی طبقہ بھی اس سے متأثر ہوا ہے کہ اس سے ادارہ جاتی مراکز یا تو تبدیل ہوئے یا ان کے وزن میں فرق آیا ہے، لیکن ادارہ جاتی مزاج تبدیل نہیں ہوا جو علامتی سیاسی بالادستی کاحامل ہے۔ نہ انفرادی سطح پر، نہ ہی جماعتی وتحریکی سطح پر۔ مذہبی طبقے کی ادارہ جاتی حیثیت و اتھارٹی کو تبلیغی جماعت وتصوف کے حلقے بھی تسلیم کرتے ہیں۔
مذہبی طبقے کی جدید عہد کی ادارہ جاتی شکل جو سیاسی اسلام کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی وہ ماضی سے زیادہ مشکل ہے۔ کیونکہ ماضی میں یہ ایک نوع کی علامتی سیاسی بالادستی رکھنے کے باوجود براہ راست اقتدار میں نہیں تھی۔ لیکن اب یہ خلافت کے احیا یا اسلامی ریاست کے قیام کے مطالبے کے ساتھ عملاََ اقتدار بھی چاہتی ہے۔ بالکل ایران کی ولایت فقیہ کی طرح۔
مذہبی طبقہ جدیدیت اور اس کے مظاہر کو راستہ نہیں دیتا کیونکہ اس طرح اس کی ادارہ جاتی حیثیت میں شگاف پڑتا ہے۔ تسامح، رواداری اور ارتقا کو راستہ دینے کا مطلب دین کاعوامی و ثقافتی حیثیت میں بحال ہونا ہے۔ کیونکہ اس میں عرف، زمانے کی ضروریات وتقاضوں کی جہت اہم ہوجاتی ہے، جو سراسر عوامی چہرہ رکھتی ہے کہ اس سب میں عوام کی بہبود مرکزی ہوتی ہے۔ اس میں فتوے کا لہجہ ختم ہوتا ہے۔ جب تک مذہبی طبقے کی ’فتوے‘ سے ’رائے‘ کی طرف واپسی نہیں ہوتی اور وہ خود کو عوام کا حصہ شمار نہیں کرتا، شہریت، حقوق اور آزادی کے حوالے سے اس کی باتوں پر اعتبارمشکل ہے۔

