Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سیاسی تبدیلی پارلیمنٹ کے راستے سے لائی جائے
    کالم

    سیاسی تبدیلی پارلیمنٹ کے راستے سے لائی جائے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزاداکتوبر 8, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مولانا فضل الرحمن کی شہرت جمہوریت اور آئین پسند منجھے ہوئے سیاست دان کی ہے۔ ان کا ایجنڈا درست ہے یا غلط، اس سے قطع نظر، ان کا حکومت گرانے کا اعلان اوراس کے لیے ان کا دھرنے دینے کے اقدام کی جمہوری نظام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کسی بھی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ  اپنی سٹریٹ پاور کے زور پر اپنی ناپسندیدہ حکومت کو گرا دے۔ یہ روایت بد قسمتی سے عمران خان نے خود شروع کی جس کا خمیازہ پورے ملک کو عدم استحکام اور اس کے نتیجے میں سماج اورمعیشیت کی اثراتِ بد کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ اور اب روز مکافات نے وہی منظر مولانا فضل الرحمن کی صورت میں دوبارہ پیش کر دیا ہے۔

    حکومت کی تبدیلی کا میکینزم پارلیمنٹ میں موجود ہے۔ مولانا اکثریت کو قائل کریں تو حکومت تبدیل کرالیں۔ پارلیمنٹ کو عوام کی نمایندگی کا حق حاصل ہے۔ وہ اگر مولانا کے موقف کی حمایت کر دیتی توہم تسلیم کر لیتے۔ ایسا اگر نہیں کیا جا سکا تو مولانا سمیت کسی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بغیر اکثریت کی نمایندگی حاصل کیے حکومت کو اس لیے گرا دیں کہ اس کا قیام ان کی جماعت گوارا نہیں۔ عوام نے انہیں ایسا کرنے کا کوئی مینڈیٹ نہیں دیا ہے۔

    یہ درست ہے کہ حکومت ناقابل رشک کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حکومت ایسے چلائی جا رہی ہے جیسے بازیچہ اطفال تماشہ چل رہا ہو۔ اس کے باوجود یہ کام عوام کی اکثریت کی رضامندی کے بنا نہیں ہوسکتا۔ عوام کی اکثریت بالفرض ایسا چاہتی بھی ہے تو اول تو اس نے اس رائے کا اظہار کسی فورم پر اب تک نہیں کیا، دوسرے یہ کہ کیا عوام یہ کام مولانا کے ہاتھوں کرانا چاہتے ہیں بھی ہیں یانہیں، اس کا دعویٰ کم از کم مولانا نہیں کرسکتے جن کی مقبولیت ایک صوبے کی چند طبقوں تک محدود ہے۔

    کسی دانش، کسی طاقت اور کسی اصلاحی جذبے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی رائے کے علی الرغم خود کو ان پر مسلط کر دے

    سماجی سطح پر ہم جس بحران سے مسلسل گزر رہے ہیں، اس کی طویل عمری کی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ عوام  اپنے فیصلوں اور خود پر مسلط کردہ فیصلوں کے نتائج کا تجربہ اور تجزیہ کرنے نہیں پاتے کہ ایک نیا ہیجان کھڑا کر دیاجاتا ہے۔ نفرت اور نعروں کی سیاست کی گونج عقل و شعور کے چراغ گل کر دیتی ہے۔ عمران خان تو بہت سے لوگوں کے لیے ایک غیر سیاسی اور غیر جمہوری رجحانات رکھنے والے لیڈر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اگر دھرنا سیاست سے ملک و قوم اور حکومت کا نقصان کیا ہے تو ان سے مزید کیا گلہ کریں، مگر مولانا تو ایک سردوگرم چشیدہ سیاست دان ہیں وہ ایک نوآموز کے نقش قدم پر کیوں چل نکلے ہیں جن کی سیاست اور دھرنا پالیسی کی مخالفت وہ خود بھی کرتے رہے ہیں۔ اگر یہ قدم بھی کسی کے اشارہ ابرو کا نتیجہ ہے تو ایسے اقدام کا نتیجہ بھی مولانا کے علم میں ہے۔ یہاں سب کے چراغ بجھا دیے جاتے ہیں، یہ ہوا کسی کی نہیں۔

    حالات کو ان کی فطری رفتار پر چھوڑ دیا جائے۔ اپنا اختلاف رائے سازی تک محدود رکھا جائے۔ سماجی عوامل کی فطری رفتار میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے تاکہ لوگوں کا شعور بلا روک بڑھتا رہے اور وہ ہر حکومت کے دور اختتام پر کچھ بہتر شعور سے فیصلہ کر سکیں کہ اب انہوں نے کیا کرنا ہے۔

    بہرحال مولانا سے حکومت تلپٹ سیاست کی امید نہیں تھی۔ حکومتی پالیسیوں کاناقد ہونے کے باوجود مولانا کے اس حکومت گراؤ دھرنے کی سیاست کی حمایت ہم سے جمہوریت پسندوں سے ممکن نہیں۔ ہم عوام کے شعور کو ہر بار پورا موقع دینے پر یقین رکھتے ہیں، نتیجہ چاہے ہماری پسند کے مطابق نہ آئے کہ ہر قوم کو اپنے عمل سے وہی ملنا چاہیے جس کی وہ مستحق ہے۔ کسی دانش، کسی طاقت اور کسی اصلاحی جذبے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی رائے کے علی الرغم خود کو ان پر مسلط کر دے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleافغان طالبان دوراہے پر
    Next Article مدارس کے اساتذہ: پہلو دار مشکلات
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by