Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قومی ترقی میں تعلیمی معیشت کا کردار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    کالم

    قومی ترقی میں تعلیمی معیشت کا کردار: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    شوذب عسکریBy شوذب عسکریاکتوبر 6, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایک ایسا معاشی نظام جس میں ترقی اور نمو کا دارومدار تعلیم کی مقدار، معیار اور دستیابی پر ہو ناکہ روایتی طرز کے ذرائع پیداوار پر، ایسے معاشی نظام کو نالج اکانومی یا تعلیمی معیشت کہا جاتا ہے۔ اس طرز معیشت میں معاشی ترقی کا انحصار انسانی وسائل پر ہوتا ہے۔ ایک فرد کے باوسائل اور کارآمد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ تعلیم یافتہ، باصلاحیت، منطقی و تنقیدی فکر کا حامل ہو تاکہ اس کی ذہنی و فکری صلاحیتوں سے اٹھاتے ہوئے معیشت کے پہیے کو مسلسل اور تعمیری عمل میں آگے بڑھایا جاسکے۔

    روایتی معاشی نظام کو تعلیمی معیشت میں بدلنے کے لئے لازم ہے کہ کوئی بھی معاشرہ جدید اور موثر نظام تعلیم  کا حامل ہو تاکہ تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اور اس عمل کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے اس میں سرمایہ کاری کی جائے اور اس عمل کے دوران اور اس کے نتیجے میں جدید ٹیکنالوجی ناصرف استعمال ہو بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے کا عمل بھی جاری رہے اور اس سارے عمل میں شریک کارکنان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل ہوں۔

    دنیا بھر کامیاب معاشی طاقتیں اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل پیشہ ورانہ اور تخلیقی اذہان کو اپنی جانب متوجہ  کرنے کے لئے نت نئی ترغیبات متعارف کروارہی ہیں۔ کیونکہ معاشی کامیابی کے روایتی اصول اور ضابطے ہی واحد صورت کے طور پر باقی نہیں رہے کہ جنہیں بروئے کار لا کر معاشی ترقی اور کامیابی کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔ ترقی کے نئے نظریات کے مطابق علم، معیشت کی کامیابی کے لئے لازمی عناصر میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل قرار پاچکاہے۔ حصول ِ علم کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لئے اس شعبے میں نہ صرف سرمایہ کاری کی ضرورت ہے بلکہ اس کے لئے معاون اور سازگار حالات پیدا کرنا بھی بہت اہم ہوچکا ہے۔ خاص طور پہ لازمی ہے کہ اس شعبے میں خدمات اور معاونت کے لئے یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ افراد کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ پاکستان کی معاشی زبوں حالی اور دن بدن بگڑتی ہوئی معیشت کی بحالی کے لئے لازم ہے کہ نئے اور جدید قابل عمل طریق ہائے کار اپنائے جائیں۔ لازم ہے  پاکستان سماج کی بہتری اور ترقی کے لئے انسانی وسائل اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے۔

    کئی ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈنگ کی کمی سے ایک دو منصوبے نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام ہی بیٹھ جائے گا

    پاکستان میں روایتی معیشت کو تعلیمی معیشت میں بدلنے کا عمل نا صرف ہمارے معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لئے ایک موثر قدم ثابت ہوگا بلکہ اسی ذریعے سے ہم اپنے حریفوں کو مات سکتے ہیں۔ عالمی مالیاتی بنک نے تعلیمی معیشت کے قیام کا ایک فریم ورک ترتیب دیا ہے اور اس معیشت کے لئے لازمی ستون واضح کئے ہیں۔ جن میں تعلیم اور تربیت، تحقیق وتخلیق، معاشی وادارہ جاتی اصلاحات، ذرائع ابلاغ و آمدورفت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ تعلیمی معیشت کے قیام کے لئے یونیورسٹی درجے کی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اعلیٰ سطح کے تعلیمی اداروں کی موجودگی ناصرف حصول ِ علم کے لئے لازم ہے بلکہ اس کے ذریعے علم کی تقسیم  بلکہ اس پہ عمل درآمد ممکن ہوتا ہے۔

    تاہم پاکستان میں اعلی ٰ تعلیم کے شعبے میں حکومتی دلچسپی کا جائزہ لیا جائے تو افسوسناک صورت حال نظر آتی ہے۔ موجودہ حکمران جماعت پی ٹی آئی جو کہ اس وعدے کے ساتھ انتخابی عمل میں شریک ہوئی تھی کہ وہ تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لے کر آئے گی، نے اپنی حکومتی مدت کے ایک سال  میں اعلیٰ تعلیم کے لئے مختص بجٹ میں کمی کرتے ہوئے مالی سال سن دو ہزار انیس بیس کے بجٹ میں ایچ ای سی کے لیے انتیس ارب روپے مختص کیے ہیں جب کہ گزشتہ برس اس ادارے کے لیے چھیالیس ارب روپے رکھے گئے تھے۔ یوں اس فنڈنگ میں تقریبا 40 فیصد تک کی کمی کی گئی ہے، جس پر پاکستان میں اعلیٰ تعلیم سے وابستہ حلقے انتہائی ناخوش اور غیر مطمئن ہیں۔ تعلیمی ماہرین کے خیال میں یہ کمی پی ٹی آئی کے ان دعووں کی نفی کرتی ہے، جن میں اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تعلیم اور سماجی شعبے پر زیادہ رقوم خرچ کرے گی۔

    پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2015-16کی رپورٹ کے مطابق 2015-16میں اس کے بجٹ میں بہت اضافہ ہوا تھا اور پہلےسے 144 تعلیمی منصوبے حکومت کی طرف سے منظور کر لیے گئے تھے، جنہیں بعد میں کم کر کے 141 کر دیا گیا تھا۔ ایچ ای سی کے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت 2002 سے 2015تک 1169 ایسے طلبہ کو وظیفے دیے گئے جن کی ڈگریاں ماسٹرز سے لے کر پی ایچ ڈی تک تھیں۔ اسی عرصے میں4901 اسکالرشپس بیرون ملک وظائف کی مد میں بھی دیے گئے تھے۔ اس رپورٹ کے بعد ایچ ای سی کی اگلی سالانہ رپورٹ ابھی تک نہیں آئی۔ ایچ ای سی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ایچ ای سی نے ایک "وژن 2025″نامی پروگرام حکومت کو پیش کیا ہے۔ کئی ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ اس اعلیٰ تعلیم کے لئے فنڈنگ کی کمی سے ایک دو منصوبے نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم کا پورا نظام ہی بیٹھ جائے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبڑا پاکستان اور چھوٹے پاکستان
    Next Article افغان طالبان دوراہے پر
    شوذب عسکری

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by