Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»گلگت بلتستان سے اسٹیٹ سبجیکٹ رُولز کا خاتمہ حکومت پاکستان نے نہیں کیا
    کالم

    گلگت بلتستان سے اسٹیٹ سبجیکٹ رُولز کا خاتمہ حکومت پاکستان نے نہیں کیا

    قاسم نسیمBy قاسم نسیماکتوبر 2, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پانچ اگست کو بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی مخصوص حیثیت میں تبدیلی کے بعد گلگت بلتستان میں، بالخصوص نوجوان طبقے کی ظرف سے ایک بحث چھڑی ہوئی ہے کہ پاکستان نے گلگت بلتستان میں پہلے ہی SSR (سٹیٹ سبجیکٹ رولز) کو ختم کردیا تھا۔ اب بھارت نے کشمیر میں اس قانون کو ختم کردیا تو اس پر احتجاج کیوں؟ بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 70 کے عشرے میں ذوالفقار علی بھٹو نے جی بی سے ایس ایس آر کا خاتمہ کردیا تھاتو کچھ لوگ اسے ایوب خان کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یوں اس اقدام سے گلگت بلتستان کے لوگوں کو ان کی زمینوں سے محروم کردیا گیا اور ان زمینوں کو خالصہ سرکار کا نام دیدیا۔

    عام لوگ اس دعوے کو سچ تسلیم کرتے ہیں، بلکہ ذمہ دار سممجھے جانے والے اور پڑھے لکھے لوگ بھی تحقیق کیے بنا اس بات کو درست خیال کر لیتے ہیں اور اس کا ذکر بڑے فورمز بھی سننے کو ملتا ہے کہ گلگت بلتستان سے ایس ایس آر کا خاتمہ کرکے ظلم کیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک صحافی نے تو حد کردی اور بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ آپ کے نانا نے جی بی سے سٹیٹ سبجیکٹ رولز کو معطل کیا لیکن آپ آج کشمیر میں اس قانون کے خاتمے پر شور مچا رہے ہیں۔

    جب مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد بہت ہی وثوق اور اعتماد کے ساتھ اس بارے گفتگو کر رہے تھے تو میں نے بڑی کوشش کی کہ کسی ایسے نوٹیفکیشن تک پہنچا جاسکے  جس کی بنیاد پر گلگت بلتستان سے ایس ایس آر کا خاتمہ کیا گیا۔ لیکن مسلسل کئی روز صرف کرنے کے باوجود ایسے کسی نوٹیفکیشن تک رسائی نہ ہوسکی۔ مجھے اس بات کا یقین تھا کہ اس ضمن میں کسی نوٹیفکیشن کا جواز بنتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں انقلاب کے بعد تو ایس ایس آر کا کوئی جواز تھا ہی نہیں تو اسے ختم کرنے کی نوبت کہاں سے آتی۔

    ایس ایس آر ریاست جموں کشمیر کے مہاراجہ کی حکومت کا بنایا ہوا قانون تھا جو گلگت بلتستان کے ریاست جموں و کشمیر کا حصہ بننے سے لے کر جی بی سے اس کی حکومت کے خاتمے، یعنی 1947/48 تک نافذ رہا۔ نومبر 1947میں گلگت، ہنزہ نگر اور 48 میں بلتستان آزاد ہوئے اور پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1951 اور 52 میں داریل اور تانگیر پاکستان میں شامل ہوگئے۔ جی بی کے لوگوں نے ریاست جموں کشمیر اور مہاراجہ کی حکومت کے خلاف باقاعدہ جنگ آزادی لڑی جس میں مہاراجہ کو شکست ہوئی۔ جنگ کے نتیجے میں انہوں نے خود کو مہاراجہ کی ریاست اور اس کے قوانین سے آزاد کرایا۔ جب انہوں نے یہ کیا تو اسی مرحلے ہی عملی طور پہ مہاراجہ کی حکمرانی اور ایس ایس آر سمیت ان کے لاگو کردہ تمام قوانین کا حود بخود خاتمہ ہوگبا۔ جی بی نے اپنے آپ کو غیرمشروط طور پہ پاکستان میں شامل کردیا۔

    کامیاب جنگ آزادی لڑنے اور پاکستان کے ساتھ غیرمشروط الحاق کے باوجود گلگت بلتستان کی قسمت کو کشمیر مسئلے کے ساتھ منسلک کیے رکھنا انصاف نہیں ہے

    جس دن ہم نے یہ قدام اٹھایا اسی روز سے اس خطے پر پاکستانی قوانین کا اطلاق شروع ہوگیا۔ ان قوانین میں سے ایک پاکستان کا سٹیزن شپ ایکٹ 1952 بھی تھا۔ اس ایکٹ کے بعد جی بی کے لوگ عملاََ پاکستان کے شہری بن گئے اور یہاں پاکستان کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور قومی جھنڈا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ جی بی میں ایس ایس آر تھا جسے حکومت پاکستان نے ختم کیا منطقی طور پہ ٹھیک نہیں ہے۔ البتہ آزاد کشمیر چونکہ جموں وکشمیر کا حصہ ہے اس لیے اسے ایک عبوری آئین دیدیا گیا۔ اس آئین کے ساتھ حکومت آزاد کشمیر نے سٹیٹ سبجیکٹ رولز میں معمولی ردوبدل کے ساتھ اسے جاری رکھنے کی منظوری دیدی۔ اور یہ قانون وہاں مہاراجہ کی ریاست کا نہیں بلکہ خود آزاد کشمیر کا نافذ کردہ ہے۔ انہوں نے اس قانون کو اس لیے بھی جاری رکھا کیونکہ وہاں کے لوگ آج بھی کشمیری ریاست کے شہری ہیں جبکہ اس کے برعکس گلگت بلتستان پاکستان کا انتظامی صوبہ ہے اور اس میں پاکستان کا سٹیزن ایکٹ نافذ ہے۔

    آزادکشمیر والے استصواب رائے کے انتظار میں ہیں جبکہ ہمارے لیے ایک کمیٹی بنی ہوئی ہے کہ کس طرح جی بی کو ملک کا عبوری یا آئینی صوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ کشمیری استصواب رائے کے لیے قربانی دے رہے ہیں اور ہم ملک آئینی صوبہ بننے کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ ہم پاکستان کے زیرانتظام رہ کر مہاراجہ کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ ہاں، اگر یہاں کے باشندے ایس ایس آر طرز کے کسی قانون کو ضروری سمجھتے ہیں تو ہماری اسمبلی کو چاہیے کہ خود سے قانون سازی کرکے اس کا نفاذ کرے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ ایس ایس آر کا ہم نے کرنا کیا ہے جب تمام اضلاع کی بیشتر زمینوں کی بندر بانٹ ہوچکی ہے۔

    جہاں تک اس موقف کا تعلق ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی طرح جی بی میں بھی کسی ایس ایس آر کا خاتمہ کیا گیا ہے یہ حقیقت نہیں ہے۔ کشمیر کی پوزیشن میں واضح فرق ہے کہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد کی رُو سے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ ایسے میں بھارت پابند ہے کہ وہ استصواب رائے تک اس کی خصوصی حیثیت کو ختم نہ کرے۔ کشمیر صرف زمین کی ملیکت کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک انسانی المیہ بھی ہے جس میں مزید جبر اس کی حالت میں خرابی پیدا کرے گا۔ البتہ گلگت بلتستان کی حیثیت میں فرق کے باوجود یہ آج بھی قومی دھارے میں نہیں تو اس کی ایک وجہ کشمیر کاز کے لیے ہماری قربانی ہے تو اس کے ساتھ ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی حقائق سے لاعلمی اور نااہلی کا بھی اس میں بڑا عمل دخل ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستانی جامعات میں دم توڑتی طلبہ سوسائٹیز
    Next Article استنبول میں شناخت کا نیا معرکہ
    قاسم نسیم

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by