Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قانون کی بالادستی نہ ہو تو ہر گروہ اشرافیہ مزاج بن سکتا ہے
    کالم

    قانون کی بالادستی نہ ہو تو ہر گروہ اشرافیہ مزاج بن سکتا ہے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزاداگست 30, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    تاریخ انسانی کے زرعی دور میں جب کہ بیشتر آبادی زراعت کے پیشے کےساتھ وابستہ  ہوتی تھی، سماج کےعام آدمی کے معاشی حالات میں بہتری لانے کا کوئی طریقہ کارموجود نہیں تھا۔ مملکت خواہ سونا اگلتی لیکن کسان اپنی فاضل فصل کو ذخیرہ کرکے کوئی دیرپا فائدہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ وہ اپنی زمین کا مالک نہ تھا۔ فاضل فصل کا سارا فائدہ جاگیردار اور پھر اشرافیہ بشمول بادشاہ کو ہوتا تھا۔ تجارت اسی بنا پر صرف اشراف کے لیے کی جاتی تھی جن کے پاس یہ فاضل مال ہوتا تھا۔ اور یہ تجارت زیادہ تر لگثری اشیا سے متعلق تھی۔ عام آدمی کی قوت خرید نہ ہونے کے برابر تھی اس لیے تجارت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ بادشاہتوں کے ہزاروں سالہ دور میں دنیا بھر کے تقریباً ہر سماج میں یہی صورت حال رہی۔ ہندوستان کی خوش حالی کے سارے قصے بھی دراصل اشرافیہ کی خوش حالی کی داستانیں ہیں۔  عام آدمی ہمیشہ بھاڑ ہی جھونکتا رہا۔

    عام آدمی کی معاشی بہتری اور سماجی عزت کی راہ بادشاہتوں کے دور کے اختتام پر انگریز کے زمانے میں وا ہوئی جب انہوں نے جمہوریت اور مقابلے کے امتحانات کے نظام متعارف کرائے۔ انھوں نے جہاں مقامی اور دیگر غیر ملکی بادشاہوں کی طرح یہاں کے وسائل سمیٹے، وہاں عام آدمی کے لیے قابلیت یعنی میرٹ کی بنیادی پر ملازمتوں کے حصول کی نیو بھی رکھی۔ اس سے پہلے ملازمتیں بادشاہوں اور وزرا کے درباروں میں صرف تعلق اور سفارش کی بنیاد پر ملا کرتی تھیں۔ انہیں کی صوابدید اور خوش نودی تک برقرار رہتیں اور انہیں کی جنبش ابرو پر ختم ہو جاتیں۔ اس سے غلامانہ ذہنیت پیدا ہوتی تھی جس کا مقصد اپنے معاشی مفاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنے آقا کی ہر جائز و ناجائز ماننا ضروری تھا۔ انگریز کے دور میں ملازمتوں کی نصب و عزل کے قوانین نے بڑی حد تک باس کی مداخلت کو قانون کی حدود میں محدود کر دیا۔یوں سرکاری ملازموں کے لیے ملازمت کے تحفظ کا احساس پیدا ہوا جس سے ان کی انا اور خوداری  کے تحفظ کا امکان پیدا ہوا۔

    عام آدمی کی معاشی بہتری اور سماجی عزت کی راہ بادشاہتوں کے دور کے اختتام پر انگریز کے زمانے میں وا ہوئی جب انہوں نے جمہوریت اور مقابلے کے امتحانات کے نظام متعارف کرائے

    انگریز اور ان سے پہلے کے حکمرانوں میں یہ نمایاں فرق ہے کہ استحصال تو سب نے کیا لیکن انگریز نے جمہوریت، آئین اور قانون کی راہ بھی دکھائی جس سے انسانیت کی فلاح کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انگریز چلے گئے لیکن برصغیر میں اس جدید بندوبست سے نئی مڈل کلاس ترقی کر کے ابھری جو بیوروکریسی اورفوج کی شکل میں ایک نئی اشرافیہ کی صورت اختیار کر گئی۔ اس نے طاقت پاتے ہی بالکل روایتی اشرافیہ ہی کی طرز پر سیاسی گروہ بندی کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور روایتی اشرافیہ کو اپنا باج گزار بنا لیا یا اس کا وجود ہی ختم کر دیا۔ کسان کے دن البتہ پھر بھی نہ پھرے۔اس نچلے طبقے کے لیے  سوشلزم نے مزدور کی حکومت کا خیال پیش کیا۔

    سوال یہ ہے کہ کسی بھی طبقے کو جب طاقت و حکومت ملے گی تو وہ کیوں استحصال نہیں کرے گا؟ حکومت اور طاقت کی راہ جس گروہ کے لیے بھی کھولی جائے گی وہ بغیر کسی کے سکھائے اشرافیہ کی دیرینہ خصوصیات کا حامل گروہ ہی بنے گا چاہے حکومت کسان اور مزدور ہی کی کیوں نہ آ جائے۔ جب تک انفرادی واجتماعی سطح پر تکثیریت پسندی اور انصاف  کو مزاج و ماحول کا حصہ نہ بنادیا جائے اس وقت تک تبدیلی کا امکان نہیں ہوتا۔ لہذا اصل مسئلہ گروہ بدلنے کانہیں، جمہوریت اور قانون کی بالادستی  کے لیے جگہ بنانے اور ان کے لیے طبعی آمادگی پیدا کرنے کا ہے۔ پاکستان میں بھی موجودہ اشرافیہ کی  جگہ چاہے کوئی اور طبقہ یا جماعت کیوں نہ برسراقتدار آجائے، کچھ نہیں تبدیل ہوگا جب تک کہ مجموعی طور پہ عدلِ اجتماعی، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کا طبعی و غیرجابرانہ ماحول نہیں تشکیل دے دیا جاتا۔ بہتر یہ ہے کہ ہم گروہ اور جماعتیں بدلنے کی بجائے سیاسی وسماجی کلچر کو تبدیل کریں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایڈز: تیزی سے پھیلتا مہلک مرض اور حکومت کی بے توجہی
    Next Article اہلِ سکردو کو کیا ہوگیا ہے؟
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by