Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»تاریخ، تقدیس اور زبان
    کالم

    تاریخ، تقدیس اور زبان

    شفیق منصورBy شفیق منصوراگست 28, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    عصر حاضر کی صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے جب مذاہب اور آئیڈیالوجیز کے درمیان فرق رکھنا مشکل ہوگیا ہے تو اس تناظر میں دونوں سے جنم لینے والی شدت پسندی کی تحلیل ایک ساتھ کرنا غلط نہیں ہوگا۔ شدت پسندی مذہبی ہو یا غیر مذہبی اس کی ہر نوع میں کچھ عناصر مشترک ہوتے ہیں۔ ان عناصر کو شدت پسندی کی وجوہات و اسباب سے زیادہ اس کی علامات و مظاہر سے تعبیر  کیا جاسکتا ہے۔ وہ مظاہر یہ ہیں: ماضی کوعظیم خیال کرنا اور اس کی جانب واپسی کی خواہش۔ اپنی جماعت کو برتر خیال کرنا۔ ہیرو ازم کا تصور اور لڑائی یا جدوجہد جاری رکھنے کا عزم۔ فرد غیر اہم، اصل اجتماعیت ہوتی ہے۔ ان علامات کے علاوہ اور بھی ہیں جو انہیں کا ہی جزو ہیں۔

    ان علامات و مظاہر کے یا مجموعی طور پہ شدت پسندی کے محرکات واسباب تین ہیں: تاریخ، تقدیس اور زبان(لغت)۔

    شدت پسندی کے پس منظر میں تاریخ دو طرح سے متشکل ہوتی ہے۔ ایک تو یوں کہ اس کو حالات و واقعات اور ان کے نتائج  کے تناظر میں نہیں دیکھا پرکھا جاتا جس کے کئی متنوع پہلو ہوتے ہیں۔ شدت پسند ذہن کے ہاں تاریخ سکڑ کر کسی ایک رمز کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور اس رمز میں قربانی یا استحصال جیسے جذبات کار فرما ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سنیوں کے ہاں ساری مسلم تاریخ جہاد سے تعبیر ہے، جبکہ ان کی جدید تاریخ  سقوط خلافت و استعماریت سے پیچھا نہیں چھڑا سکتی۔ اہل تشیع کے ہاں کربلا تاریخ کا محور ہے۔ ہندوتوا کے ہاں مسلم اور اسلام ایک تاریخی عقدہ ہے۔ آجکل امریکا و یورپ  کے ایک طبقے میں سیاسی افق پر جدید تاریخ میں مہاجرت واسلام  کے اثرات نمایاں ہیں۔ شدت پسندی میں تاریخ کا دوسرا پہلو  ناسٹلجیا ہے۔ ہر متشدد ذہن ماضی کی اس طور پوجا کرے گا کہ اس کو واپس لے آنے کی بات کرتا نظر آئے گا۔ موجودہ عہد جتنا بھی آسان وبہتر ہو  گزارا ہوا کل اسے آج سے اچھا محسوس ہوگا۔ ناسٹلیجیا بعض اوقات جنگ پر بھی آمادہ کردیتا ہے۔

    شدت پسندی کا دوسرا محرک تقدس ہے۔ یہ عنصر مذہب نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس سے زیادہ طاقتور احساس ہے، جو اگرچہ اپنی بِنا مذہب کے ابتدائی درجے کے احساس پر ہی رکھتا ہے، یایوں کہیں کہ اس کا ابتدائی احساس مذاہب ہی کا متعارف کردہ ہے۔ اس ابتدائی احساس  کو مذہب کے اندر یا اس سے الگ کرکے کسی اور آئیڈیالوجی میں بے مہار کردینا یا ایک خاص سطح پر  لے آنے کو تقدس سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ تقدس کا عنصر فسطائیت کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہ تاریخ کے رمز  کو انقلابی بناتا اور اس میں ردعمل پیدا کرنے کا کام کرتا ہے۔

    تاریخ  قربانی و استحصال کے تناظر میں ایک فریضہ عائد کرتی ہے۔ تقدس مکالمے کا راستہ روکتا ہے، جبکہ زبان یاد دہانی کراتی اور مہمیز دیتی ہے

    اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  تقدس و شدت پسندی کے مابین ربط پیچیدہ بھی ہے۔ کیونکہ تقدس اپنے ابتدائی درجے میں اخلاقیات و امن  اور قربانی کے مثبت جذبے کو بھی پروان چڑھاسکتا ہے۔ لیکن ہمارے جیسے سماج میں اس کو تولنا آسان نہیں۔ نہ ایسا تنقیدی شعور پایا جاتا ہے اور اتنی حساسیت۔ لہذا یہ انفرادی واجتماعی طور پہ منفی و بے مہار ہی رہتا ہے۔

    شدت پسندی کا تیسرا کردار زبان ہے۔ یہ تاریخی رمز اور تقدس کے عنصر کو روزمرہ میں ایک فرد سے دوسرے فرد اور ایک مقام سے دوسرے مقام  منتقل کرنے کا کام کرتی ہے۔ یہ رمزیت اور تقدس کے جذبات کو خاص الفاظ دیتی اور ان کے اند بارودی صلاحیت پیدا کرتی ہے، جو انگیخت کرسکتی اور بھڑکا دینے کا عمل انجام دیتی ہے۔

    یہ تین عناصر شدت پسندی کی بنیاد ہیں۔ تاریخ  قربانی و استحصال کے تناظر میں ایک فریضہ عائد کرتی ہے۔ تقدس مکالمے کا راستہ روکتا ہے، جبکہ زبان یاد دہانی کراتی اور مہمیز دیتی ہے۔

    شدت پسندی تینوں محرکات کے ساتھ اپنی ذاتی تشکیل میں غیرسیاسی ہے، یا ہوسکتی ہے۔ یہ تشکیل پانے کے بعد بھی ایک سویا ہوا عفریت ہوتا ہے۔ اس عفریت کو جگانے کا کام ریاست اپنے مفادات کے لیے کرتی ہے یا سیاسی عدم استحکام۔ یہ تصور بھی شاید درست نہ ہو کہ شدت پسندی کی وجہ معاشی ناہمواری ہوتی ہے۔ معاشی ناہمواری سیاسی عدام استحکام کو پیدا کرتی ہے، براہ راست شدت پسندی کی بنیاد نہیں ہوتی۔ شدت پسندی ایک ادارے کی شکل  رکھتی ہے جو مستقل بالذات ہے اور اس کے اپنے عناصر ہیں۔

    شدت پسندی کو ورغلایا نہیں جاسکتا۔ یہ اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں مرتی۔ جب تک اس کے اساسی محرکات  کمزور نہیں کیے جاتے، یہ زندہ رہتی ہے  اور کسی نہ کسی طور نشانہ بناتی رہتی ہے۔

    عام طور پہ یہ تصور ہمارے سماج میں موجود ہے اور اس کی  فلسفیانہ و نفسیاتی بنیادیں بھی ہیں کہ شدت پسندی ایک فطری حقیقت ہے اور یہ بہرطور ہر عہد میں موجود رہتی ہے، وغیرہ۔ آج کے دور میں اس تصور کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ شدت پسندی اگر ایک ادارہ و نظام  ہے تو اس کو ختم کرنے کا خواب ایک علمی خواب ہوسکتا ہے، جو فی الوقت اتنا ظاقتور نہیں لیکن اس کی تعبیر ممکن ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبی آر ٹی منصوبے کی لاگت میں مزید اضافے کا خدشہ
    Next Article مسئلہ کشمیر اور فرقہ پرست
    شفیق منصور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by