Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»رسمی تعلیم سب کے لیے ضروری نہیں ہونی چاہیے
    کالم

    رسمی تعلیم سب کے لیے ضروری نہیں ہونی چاہیے

    ڈاکٹر عرفان شہزادBy ڈاکٹر عرفان شہزاداگست 8, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمارے ہاں عمومی طور پر تعلیم کا ایک محدود تصور پایا جاتا ہے۔ سائنس اور سوشل سائنسز کو تعلیم سمجھا گیا ہے جب کہ رسمی یا غیر رسمی طور پر ہنر مندی کا حصول تعلیم میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس مضمون میں تعلیم کا وہی عمومی تصور زیر بحث ہے جس میں ہنر مندی شامل نہیں۔

    تعلیم آج ہر کس وکس کا مسئلہ بنا دی گئی ہے۔ یہ ایک مبالغہ آمیز سماجی رجحان بن گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سماج کا ہر فرد تعلّمی رجحان لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ تمام تر کوشش کے باوجود اور تعلیم پر بھرپور وسائل خرچ کرنے والے ممالک میں بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا کہ ہر بچے کو سائنس یا سوشل سائنسز کے میدان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ بنایا جا سکے۔ فطری رجحانات کو بدلا نہیں جا سکتا۔ تعلیم اسے ہی حاصل کرنی چاہئے جس میں تعلمی کا رجحان پایا جانا معلوم ہو جائے۔  ہمارے ہاں سائنس اور سوشل سائنسز کی تعلیم اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ان مضامین کا رجحان نہ رکھنے والے طلبہ کی ناکامی کے بعد بادل نخواستہ انہیں ہنر مندی یا کاروبار کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے لیکن تب تک عموما طالب علم کا بہت وقت ضائع چکا ہوتا ہے۔

    تعلیم ہمیشہ سے مڈل کلاس کا مسئلہ رہا تھا۔ مگر تعلیم کے کمرشلائز ہو جانے اور اسٹیٹس سمبل بن جانے کی وجہ سے اشرافیہ بھی اس کے گاہک بن گئے ہیں۔ شہنشاہ اکبر کا دربار پڑھے لکھے نو رتنوں سے سجتا تھا مگر اس کے لیے اکبر کا پڑھا لکھا ہونا ضروری نہ تھا۔ اشرافیہ اپنے وسائل سے وہ میدان سجاتے تھے جہاں پڑھے لکھے مڈل کلاس اپنے علم و ہنر سے انہیں اور خود کو بھی فائدہ پہنچایا کرتے تھے۔ تعلیم اشرافیہ کا مسئلہ ہے نہ ان کی فطری صلاحیتوں کا حقیقی میدان۔ مگر محض سماجی رتبے کے حصول کے لیے انہیں بھی کوئی ڈگری حاصل کرنا پڑتی ہے جس کا کوئی استعمال ان کی عملی زندگی میں عموما نہیں ہوتا۔

    تعلیمی ڈگری کو اسٹیٹس سمبل نہیں بنانا چاہیے، اسے بھی ایک مہارت سمجھنا چاہیے

    ادھر غریب اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اس کا بچہ پڑھ لکھ کر اچھا کمانے کے قابل ہو جائے۔ اپنی تمام جمع پونجی اس کی تعلیم پر خرچ کر دیتا ہے مگر وہ معیاری تعلیم نہیں دلوا سکتا۔ کامیابی کے لیے اس کا بچہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہیے اور ایسے کتنے ہوتے ہیں؟ عموما ہوتا یہ ہے کہ میٹرک، ایف اے یا بی اے کرکے اس کا بچہ اب ریڑھی لگانا بھی پسند نہیں کرتا اور نہ کسی دکان پر بیٹھنا پسند کرتاہے، اس لیے کہ دفتر کی ملازمت کا خواب اس کی آنکھوں میں سجایا گیا تھا، ریڑھی لگانے یا دکان پر ملازمت کرنے یا اپنی دکان کھولنے کے بعد وہ ہر بندے کو ساری زندگی یہ دکھڑا سناتا رہتا ہے کہ وہ غربت کی وجہ سے پڑھ نہ سکا ورنہ آج بڑا افسر ہوتا۔

    دوسری طرف حال یہ ہے کہ تعلیم حاصل کر نے والے ملازمتوں کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہیں یا بہت کم تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ یہی حال اس تاجر پیشہ اور کاروباری خاندان کے بچے کا ہوتا ہے جو تعلیم کے حصول میں اپنے دل و دماغ کی توانائیاں خرچ کرنے کے بعد کاروبار کی وسیع آمدنی کے مقابل اپنی کم تر آمدنی والی ملازمت سے پریشان ہو کر اپنی تعلیم میں صرف کیے جانے والے وقت کو کوسنے دیتا ہے۔ وہ اب کاروبار کے قابل نہیں رہتا یا اسے سب نئے سرے سے سیکھنا پڑتا ہے اور عموما وہ اچھا کاروباری وارث ثابت نہیں ہو پاتا۔

    تعلیمی ڈگری کو اسٹیٹس سمبل نہیں بنانا چاہیے، اسے بھی ایک مہارت سمجھنا چاہیے۔ آدمی کی عزت اس کے کنٹریبیوشن کی وجہ سے ہونی چاہیے، چاہے وہ بڑھئی ہو یا معمار۔ محض سند یافتہ ہونا کوئی معیار نہیں۔

    قائدانہ صلاحیتیں رکھنے والے، جسمانی محنت کا طبعی رجحان رکھنے والے، تکینکی قسم کے ذہن رکھنے والے افراد تعلیم کے لیے طبعی رجحان عموما نہیں رکھتے۔ انہیں تعلیم میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پرائمری سطح کی تعلیم تو عام ہونی چاہیے لیکن اس کے بعد بچوں کا رجحان پرکھنے کا جامع طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ ماہرین تعلیم کی زیرنگرانی جامع پلان ترتیب دینا چاہیے اور صرف منتخب بچوں کو ان کے رجحان کے مطابق آگے پڑھانا چاہیے۔اس طرح تعلیمی اداروں پر طلبہ کے ناروا بوجھ میں بھی کمی ہوگی اور سماج ہر فرد کو اس کی صلاحیت کے مطابق تربیت دے کرزیادہ مفید شہری بھی  بنا سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعراق اور شام کی دربدر اقلیتیں
    Next Article عالمگیریت کی طرف پیش رفت اور مذاہب کا مستقبل (آخری قسط)
    ڈاکٹر عرفان شہزاد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by