Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»قبائلی اضلاع میں برائے نام انتخابات
    کالم

    قبائلی اضلاع میں برائے نام انتخابات

    سجاد علیBy سجاد علیجولائی 8, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں  صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر پہلی دفعہ ہونے والے انتخابات میں صرف دو ہفتے باقی ہیں، اس کے باوجود تاحال الیکشن جیسا ماحول نہیں بن سکا ہے۔ نہ صرف اپوزیشن جماعتوں کے بلکہ حکمران جماعت کے امیدوار بھی انتخابات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ نہ کہیں جلسہ دیکھنے کو مل رہا ہے نہ کوئی جلوس نکالا جارہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور امیدواروں کی جانب سے بھی عوام کے ساتھ موثر رابطوں کا سلسلہ نظر نہیں آتا۔

    خیبر پختونخوا حکومت کی درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات کو دو جولائی سے بیس جولائی تک ملتوی کردیا تھا۔ صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال اور انتظامات مکمل نہ ہونے کا جواز بنا کر الیکشن کمیشن سے انتخابات تین ہفتوں کےلیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

    شمالی وزیرستان بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور یہاں انتخابات کے باوجود امیدواروں کے جلسہ کرنے اور جلوس نکالنے پر پابندی ہے۔ جنہوں نے خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا کیا انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ جنوبی وزیرستان سے پختون تحفظ تحریک کے حمایت یافتہ امیدوار محمد عارف وزیر پی کے-113 اور محمود اقبال محسود پی کے-114 کئی دنوں تک سیکورٹی فورسز کی حراست میں رہے۔ دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی بھی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف انتقامی کاروائی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی دفاتر پر چھاپوں اور کارکنوں کی گرفتاری کا شکوہ کررہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی صورتحال بھی اے این پی سے مختلف نہیں ہے۔ جمعہ کے روز پشاور پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس‘‘ سے بات چیت کے دوران چیرمین پاکستان پیپلز پارٹی  بلاول بھٹو زرداری نے واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ قبائلی اضلاع میں شفاف الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں اور ہم کسی بھی طور پر پولنگ سٹیشن کے اندر فوج کی تعیناتی قبول نہیں کریں گے۔ اسی دن  جمعیت العلماء اسلام (ف) کی سربراہی میں ہونے والی  متحدہ اپوزیشن پارٹیوں نے اجلاس میں اس مطالبے کو دہرایا کہ  فوج کو قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں پولنگ سٹیشن کے اندر تعیناتی سے روکا جائے۔

    ایسی صورت حال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان انتخابات میں پہلوانوں کو ہاتھ باندھ کر میدان میں اتارا گیا ہے

    ماضی قریب میں قبائلی اضلاع میں سامنے آنے والے والی ایک اور سیاسی قوت پختون تحفظ تحریک کے بیشتر رہنما بشمول علی وزیر، محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال و دیگر گرفتار ہیں۔ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے موجودہ صورتحال میں قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات کو برائے نام الیکشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ  پہلے ہی سے الیکشن کمیشن نے فوج کو نگران بنادیا ہے۔ ایسی صورت میں  انتخابات کے نتائج پچھلے سا ل کے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات سے مختلف نہیں ہوں گے۔ حزب اختلاف میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے علاوہ پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے امیداوروں اور کارکنوں کے انتخابی مہم میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ہمایوں خان نے کہا کہ حکومت اور حکومتی ادارے حکمران جماعت کے علاوہ حزب اختلاف میں شامل جماعتوں کے امیداوروں اور کارکنوں کے لیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ تاہم  آئین کے مطابق حکومت کو یہ انتخابی عمل  25 جولائی تک مکمل کرنا ہوگا۔

    قبائلی اضلاع میں ہونےوالے صوبائی اسمبلی کے پہلے انتخابات کی صورتحال ملک کے باقی علاقوں میں ہونے والے انتخابات سے یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ یہاں نہ تو امیدوار کو جلسہ کرنے کی اجازت ہے اور نہ ہی کوئی جلوس نکال سکتا ہے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، حکومت یا ریاستی ادارے جب چاہیں جسے چاہیں ایم پی او دفعہ تین کے تحت گرفتار کرلیں اور سرکاری مہمان بنا لیں۔ ایسی صورت حال میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان انتخابات میں پہلوانوں کو ہاتھ باندھ کر میدان میں اتارا گیا ہے۔ اب شفاف انتخابات تو دور کی بات، بروقت انتخابات منعقد ہوسکیں اس بارے میں نہ صرف اپوزیشن جماعتیں بلکہ خود تحریک انصاف کے امیدوار بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔

    ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے سابق ممبر قومی اسمبلی شہاب الدین نے کہا کہ لوگ انتہائی تذبذب کا شکار ہیں اور یوں دکھائی دیتا ہے کہ حکومت ازخود اس انتخابی عمل کو مکمل کرنے میں مخلص دکھائی نہیں دیتی۔ ان کے بقول حکمران جماعت انتخابی نتائج کو اپنے حق میں لانے کےلیے ہر قسم کے حربے استعمال کر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 16 عام نشستوں پر نامزد 1297 امیدارو ں میں سے اب تک 12 امیداروں نے دستبرداری کا اعلان کردیا ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاوہ باجوڑ اور کرم ایجنسی میں بم دھماکوں اور گھاٹ لگاکر قتل کے واردات کے وجہ سے امن وامان کی صورتحال غیر اطمینان بخش ہے۔

    تحریک انصاف کے اقبال آفریدی نے کہا کہ جنوبی وشمالی وزیرستان میں امن وامان کی صورتحال کے باعث انتخابی مہم زیادہ موثر نہیں ہے۔ وہاں پر حکومت اور حکومتی اداروں کے خلاف احتجاج کے باعث دفعہ 144 نافذ ہے۔ البتہ ان علاقوں میں بھی دیگر اضلاع کی طرح  انتخابات شیڈول کے مطابق ہوں گے۔

    انتخابی مہم کے دوران پر امن ماحول کی فراہمی اور جلسہ جلوس کے ذریعے اپنے حلقے کے عوام تک اپنا منشور پہنچانا اور انتخابی مہم چلانا ہر امیدوار کا بنیادی حق ہے تاہم انہیں اس حق سے محروم کرنا حکومت وقت اور ریاستی اداروں کی ناکامی ہے، روکاوٹوں اور پابندیوں کے ماحول میں انتخابات کا انعقاد یقینا ملک میں جمہوریت کے لئے نیک شکون نہ ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleحکومت تمام سیاسی جماعتوں سے ایک ساتھ نہیں لڑ سکتی
    Next Article پاکستانی سیاست کا اکیڈمک تجزیہ
    سجاد علی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by