Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بلتستان یونیورسٹی، خِطے کے روشن مستقبل کی ضامن
    کالم

    بلتستان یونیورسٹی، خِطے کے روشن مستقبل کی ضامن

    قاسم نسیمBy قاسم نسیممئی 28, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بلتستان یونیورسٹی، گلگت بلتستان بالخصوص بلتستان ڈویژن کے طلباء و طالبات کے لئے حکومت کی جانب سے ایک بڑا تحفہ ہے۔ سال2011ء میں قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سب کیمپس سے شروع ہونے والے اس تعلیمی ادارے نے 25 اگست 2017ء کو بلتستان یونیورسٹی کے نام سے باقاعدہ خودمختار وفاقی یونیورسٹی کی حیثیت سے کام شروع کیا ہوا ہے۔ یونیورسٹی میں اس وقت سات شعبوں: بزنس مینجمنٹ اینڈ کامرس، بیالوجیکل سائنس، کمپیو ٹر سائنس، ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ، لینگویجز اینڈ کلچرل اسٹڈیز، کیمسٹری اور میتھ   ڈیپارٹمنٹ میں 843 طلبا و طالبات پوسٹ گریجویشن کورسز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی کے دو کیمپس، حسین آباد اور انچن کیمپس اسکردو سٹی میں قائم ہیں۔ جبکہ طلبا و طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایک نئے کیمپس کے قیام کے لئے کرائے پرعمارت کے حصول کا کام جاری ہے۔

    یونیورسٹی ابھی تک عارضی اِنتظام کے ساتھ چلائی جارہی ہے کیونکہ یونیورسٹی کی اپنی عمارت موجود نہیں ہے۔ یونیورسٹی عمارت کی تعمیر کے لئے حکومت نے 15 سو کنال زمین فراہم کی ہے اور عمارت کی تعمیر کے لئے 1.7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ منصوبے کا پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا جاچکا ہے اور نئے کیمپس کی ماسٹر پلاننگ کے لیے ایک بڑی انٹرنیشنل فرم کی خدمت حاصل کی گئی ہیں، جس نے سائٹ کا معائنہ کر کے عمارت کی ڈیزائننگ کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی کو بھی ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمد نعیم خان بحیثیت وائس چانسلر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامی و قانونی باڈیز بھی تشکیل پاچکی ہیں۔ جن میں سینڈیکیٹ اور سینیٹ کی باڈیز سر فہرست ہیں۔ سینڈیکیٹ کے کئی اہم اجلاس ہوچکے ہیں اور ضروری فیصلے اس پلیٹ فارم سے صادر کئے جا چکے ہیں۔ البتہ کچھ امور زیرالتوا ہیں، ان میں سے ایک سینیٹ کے اجلاس میں تاخیر ہے۔ اس کے ساتھ سینیٹ کے چیئرمین اور سلیکشن بورڈ کے قیام کا مرحلہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ سلیکشن بورڈ نہ ہونے کے باعث کئی ماہ گزرنے کے باوجود یونیورسٹی میں اکیڈیمک اور مختلف شعبوں میں مشتہر شدہ آسامیوں پر تقرری تاحال عمل میں نہیں آئی ہے نتیجتاً  اس وقت یونیورسٹی میں کام کرنے والوں کی اکثریت عارضی ملازمین کی ہے۔ یوں یہ صورت حال یونیورسٹی میں عار ضی طور پرکام کرنے والے اِن ملازمین کے ساتھ ساتھ درجنوں نئے اُمیدواروں جنہوں نے اِن اسامیوں کے لئے درخواست دے رکھی ہیں، کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ یونیورسٹی سینیٹ اجلاس جُون کے آخری عشرے میں متوقع ہے۔ یہ اجلاس ہوجائے تو اس میں پہلے سینیٹ چیئرمین کا انتخاب عمل میں آئے گا، ساتھ ہی رپریزنٹیشن کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کا قیام عمل میں لایا جاسکے گا۔ ان باڈیز کے قیام کے ساتھ ہی یونیورسٹی کے بہت سارے زیرِ التوا معاملات حل ہو جائیں گے۔

      بلتستان کے عوام  یونیورسٹی کے قیام پر بہت پرجوش ہیں، کیونکہ اس ادارے کے قیام کے لیے انہوں نے کافی جدوجہد کی ہے

    بلتستان یونیورسٹی نے گزشتہ ایک سال میں بہت ہی حوصلہ افزا کارکردگی کا مظاہرہ  کیا ہے۔ اہم قانونی باڈیز قائم کی ہیں جن میں سینیٹ، فیکلٹی کونسل اور اکیڈمک کونسل خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس ادارے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اپنے قیام کے ایک سال سے بھی کم عرصے میں پہلے کانوکیشن کا انعقاد کیا جس میں 104 طلبا و طالبات کو ڈگریاں جاری کی گئیں۔ یونیورسٹی نے 6 ملکی اور 3 غیر ملکی یونیورسٹیوں کے ساتھ باہمی اعتماد کی دستاویزات (MOU) پربھی دستخط کیے ہیں، جس کی رُو سے ادارہ اب ان تمام اہم ترین یونیورسٹیوں سے مختلف شعبوں میں ان کی تدریسی مہارتوں اور تجربات سے استفادہ کرسکتاہے اور اپنے طلبا کے لیے سکالر شپ بھی حاصل کرسکتا ہے۔ جامعہ ان یونیورسٹیوں کو علاقےکے جغرافیہ، موسم اور تہذیب و ثقافت کے مختلف گوشوں پر معلومات اور تحقیق میں مدد دے گی۔ فی الحال پاکستان بیت المال سے بھی 50 غریب طلباء کے لئے اسکالرشپ حاصل کی گئی ہے۔ توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے گرین اینڈ کلین پاکستان  منصوبہ کے تحت سولر یونٹ لگانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

    بلتستان کے عوام یونیورسٹی کے قیام پر بہت پرجوش ہیں، کیونکہ اس ادارے کے قیام کے لیے انہوں نے کافی جدوجہد کی ہے۔ عوام اسے اپنا ادارہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے ہمہ وقت کمربستہ ہیں۔ وائس چانسلر نے پورے ملک سے گلگت بلتستان کی اہم ترین شخصیات کو یونیورسٹی کے ساتھ وابستہ کرکے اسے مضبوط تر بنانے کےلئے تعلیم، ادب، تاریخ، تہذیب و ثقافت، آثارِقدیمہ، صحافت، کھیل، کوہ پیمائی اور سماجی خدمات میں نمایاں اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد کو یونیورسٹی کا سفیر ِعمو می مقرر کیا ہے۔ اس طرح ایک روپیہ خرچ کئے بغیر عارضی طور پر درجنوں افراد کی خدمات حاصل کی گئی ہیں  جو اعزازی سفیر کے طور پر یونیورسٹی کی فلاح اور کامیابی کے لیے شبانہ روز سرگرمِ عمل ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپولیس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ عوام میں اشتعال کو ہوا دے رہا ہے
    Next Article ’’کالا دھن سفید کروائیں‘‘ اسکیم
    قاسم نسیم

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by