Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خوشحالی کا راستہ
    کالم

    خوشحالی کا راستہ

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامارچ 25, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ بحر ہند کی معاشی اور جغرافیاتی حیثیت بدل سکتا ہے۔ تاہم چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تمام صلاحیتوں کو ابھی تک بروئے کار نہیں لایا گیا۔ گوادر سٹی کو 19 بلین بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبوں کے تحت جبکہ سعودی عرب سے بھی  11 بلین آئل ریفائنری کے قیام کے لئے مل چکے ہیں مگر شہر کو صحت‘ صاف پانی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا اب بھی سامنا ہے۔ صحت اور تعلیم کی دستیاب سہولیات ناکافی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سہولیات عام شہریوں کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ تاہم حال ہی میں مکران کے ساحلی علاقوں میں تقریباً چار سال بعد ہونے والی بارش نہ صرف پانی کے مسئلہ کے حل میں معاون ثابت ہوئی بلکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی(GDA)پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سب کے باوجود یہاں کے رہائشیوں کو آنے والی گرمیوں میں توانائی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    گوادر کے لوگ وزیر اعظم عمران خان کا انتظار کر رہے ہیں جو اس ماہ کے آخر میں گوادر ایکسپو 2019ء کا افتتاح کرنے کے لئے بندرگاہ کا دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر کئی منصوبوں کے سنگ بنیاد رکھے جانے کی امید ہے جن میں گوادر پاور پلانٹ، نیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ، ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور ہسپتال شامل ہیں۔ تاہم گوادر کے رہائشیوں کو خوشیوں کے ساتھ کچھ تشویش بھی لاحق ہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی گوادر کی ترقی کے لئے 1 بلین ڈالر کا صرف اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کے گوادر کے دورے سے اس بات کے امکانات ہیں کہ مصنوعی طور پر شہر کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کو فروغ ملے گاجو ملک بھر سے سرمایہ داروں کے کروڑوں روپے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور جو تجارتی شہر کے ماسٹر پلان کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ گوادر کے لوگ طویل عرصے سے گوادر سمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ منصوبہ پر اتفاق رائے ہو چکا ہے مگر ابھی تک اس کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی اور نہ ہی ابھی تک یہ منظور ہوا ہے۔ چینی کمپنیاں جو بندرگاہ اور سپیشل اکنامک زونز کے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں وہ بھی اکثر اوقات اس تاخیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔ تاہم گوادر کے رہائشی وزیراعظم کا انتظارعلاقائی اور ذاتی وجوہات کی بنا پر بھی کر رہے ہیں۔ ان کو امید ہے کہ وزیر اعظم ماہی گیروں کے مسائل بھی حل کریں گے جو گوادر کے منصوبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اس حوالے سے کئی ماہ سے احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ وہ مقامی نمائندے ہونے کی وجہ سے اور جگہ کی تبدیلی کے حوالے سے بھی تحفظات کا شکاراور اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔ اگرچہ صوبائی حکومت اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کئی بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مقامی لوگوں کا انخلا ماسٹر سٹی پلان کا حصہ نہیں ہے مگر مقامی رہائشی تب مطمئن ہوں گے جب حتمی ماسٹر پلان ان کے سامنے آئے گا۔ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال نے بھی اعلان کیا ہے کہ گوادر میونسپل کمیٹی کو گوادر میٹروپولیٹن کارپوریشن میں ضم کر دیا جائے گا۔ مگر امید ہے کہ اس عمل کا آغاز وزیر اعظم کے دورہ کے موقع پر ہو گا۔

    گوادر کے لوگ اپنی ثقافت اور تاریخ سے محبت کرتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ان کے پرانے قصبے کو محفوظ کیا جائے جو اپنے زرخیز ورثے کی بدولت مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی دلکشی کے تمام لوازمات رکھتا ہے۔ بیورو کریسی کی مداخلت نے بظاہر عام اور سادہ نظر آنے والے ماہی گیروں کے مسائل کو بھی گھمبیر بنا دیا ہے۔ ماہی گیروں کے مطالبات 6 لین ایسٹ بے ایکسپریس کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو مکران کے ساحلی ہائی وے پر 2300 ایکڑ رقبے کو گوادر کے فری ٹریڈزون کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ماہی گیروں کا خیال ہے کہ یہ سڑک سمندر کے اہم علاقے تک ان کی رسائی میں حائل ہے جس کے اردگرد وہ جہاز رانی کرتے ہیں۔ اصل منصوبے میں ماہی گیروں کو سمندر کے پانی تک رسائی دینے کے لئے ایک چھوٹا سا راستہ دیا گیا تھا مگر ماہی گیروں کا موقف ہے کہ یہ راستہ تنگ ہے جو کھلا ہونا چاہیے یا انہیں پلوں کے ذریعے سمندر تک رسائی دی جائے۔ حکومت نے کئی بار وعدے کئے جو ابھی تک وفا نہ ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ جام کمال نے ایک میٹنگ میں یہ دعویٰ کیا کہ حکومت سڑکوں کے منصوبے میں تبدیلی کے لئے کام کر رہی ہے اور اس حوالے سے پہلے ہی ایک پرپوزل وفاقی حکومت کو بھیجی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موریوں کی بجائے پل تعمیر کئے جائیں۔ تاہم گوادر پورٹ اتھارٹی (GDA) کے چیئرمین نصیر خان کاشانی کے مطابق ایک پل کی تعمیراتی لاگت لاکھوں ڈالرز ہے جبکہ ماہی گیر تین پلوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسرے عہدیدار کے مطابق بیورو کریسی نے اس ایشو کو پیچیدہ بنا دیا ہے کہ چینی پل کی قیمت ادا کریں گے۔ وزیر اعظم نے اس ایشو کا نوٹس لیا ہے مگر یہ صوبائی حکومت، جی ڈی اے اور جی بی اے کے لئے حقیقی ٹیسٹ کیس ثابت ہو گا۔

    ماہی گیروں کے مطالبات کو پورا کرنے کی تاخیر سی پیک کے حوالے سے غیر ضروری تلخی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ راقم کے حالیہ دورہ گوادر میں تاجروں اور دکانداروں نے سی پیک اور چینیوں کی بندرگاہ پر موجودگی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ایک چیز جس کو وہ ضروری سمجھتے ہیں وہ چینیوں کے ساتھ بالواسطہ تعلق ہے۔ کچھ لوگوں نے 2006ء سے پہلے کا دور یاد کیا جب چینی بلا روک ٹوک گھومتے تھے اور اس سے مقامی کاروبار کو فروغ ملتا تھا۔ تاہم بندرگاہ پر دہشت گرد حملے نے ساری صورتحال تبدیل کر کے رکھ دی اور اب عام آدمی چینیوں کو صرف بلٹ پروف گاڑیوں میں سخت سکیورٹی میں گزرتے یا بندرگاہ کے اندر دیکھ سکتا ہے۔ مقامی صحافی اپنے مسائل رپورٹ نہیں کر سکتے حتیٰ کہ پانی جیسے مسائل پر بھی بات نہیں کی جا سکتی۔ شاید وزیر اعظم کا آمدہ دورہ اور ان مسائل کے حوالے سے ان کے متوقع احکامات کی روشنی میں مقامی لوگوں کی زندگی میں خوف اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو سکے۔

    (بشکریہ ڈان)

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاقلیت کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے
    Next Article سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیوں کیا؟ تاریخی دستاویزات ٹرمپ کو کیا سبق دے رہی ہیں
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by