Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اپنوں کواپنا بنانا ہو گا
    کالم

    اپنوں کواپنا بنانا ہو گا

    محمد اشتیاقBy محمد اشتیاقجون 30, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاڑا چنار کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے سرحدی علاقوں میں داعش اور طالبان کی موجودگی دیکھی ہے

    افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے مرکزی شہر پاڑا چنار کے تین اطراف میں افغانستان ہے جب کہ ایک سمت میں وفاق کے زیرانتظام پاکستان کے قبائلی علاقے ہیں۔

    اس شہر کی اکثریت آبادی کا تعلق شیعہ طوری برادری سے ہے۔ کرم ایجنسی کا علاقہ طویل عرصے تک فرقہ واریت کی لپیٹ میں رہا اور 2005 کے بعد کئی سالوں تک پاڑا چنار کے لوگ افغانستان کے راستے ایک طویل سفر طے کرنے کے بعد پشاور اور دیگر شہروں تک پہنچتے تھے۔

    کیوں کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث پاڑا چنار سے تعلق رکھنے والوں کی گاڑیوں کو پاکستانی قبائلی و نیم قبائلی اور دیگر علاقوں سے گزرتے وقت نشانہ بنایا جاتا۔

    تاہم طویل کوشش کے بعد پولیٹکل انتظامیہ کی کوششوں سے مری میں ایک امن معاہدہ طے پایا، جس پر اوائل میں تو عمل درآمد نا ہوا لیکن بعد میں صورت حال معمول پر آنا شروع ہوئی اور قبائلیوں کے درمیان شیعہ سنی واقعات تقریباً ختم ہو گئے۔

    واضح رہے کہ پاڑا چنار کے درہ پیوار سے ہو کر ایک اہم راستہ افغانستان کو جاتا ہے، جس سے اس علاقے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

    رواں سال اگرچہ ملک بھر بشمول قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی لیکن کرم ایجنسی کا شہر پاڑا چنار وہ واحد علاقہ ہے جہاں اس سال اب تک دہشت گردی کے تین واقعات ہو چکے ہیں اور اُن میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق شیعہ برادری ہی سے ہے۔

    یہ بات بھی اہم ہے کہ رواں سال کے اوائل میں پشتو زبان میں چھاپے گئے پمفلٹ بھی اس قبائلی علاقے میں پھینکے گئے، جن کے ذریعے ’داعش‘ نے کرم، اورکزئی، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان میں آباد  شیعہ برداری سے تعلق رکھنے والوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

    پاڑا چنار کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے سرحدی علاقوں میں داعش اور طالبان کی موجودگی دیکھی ہے۔

    لیکن اہم بات یہ ہے کہ پاڑا چنار کیوں نشانے پر ہے، اس کی ایک بڑی وجہ بظاہر یہ ہے کہ یہاں کی شعیہ برداری کو نشانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دی جا سکتی ہے۔

    عیدالفطر سے محض تین روز قبل طوری مارکیٹ میں خریداری میں مصروف شعیہ برادری سے تعلق رکھنے والے قبائلیوں کو نشانہ بنانے کے بعد جس طرح پاڑا چنار اور وفاقی دارالحکومت میں احتجاج ہو رہا ہے اور جس انداز میں اس معاملے پر ’’سوشل میڈیا‘‘ پر بحث کا سلسلہ چل نکلا، اس سے یہ بات تو واضح ہے کہ کسی نا کسی حد تک بعض عناصر نے ’’فرقہ واریت‘‘ کو ہوا دینے کی کوشش کی۔

    اس خطرے کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وفاقی حکومت نے بھی محسوس کیا۔

    آرمی چیف نے تو ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں حالیہ واقعات کو بنیاد بنا پر پاکستان میں فرقہ واریت اور لسانی منافرت کو ہوا دے رہی ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ فوج کے سربراہ کو یہ بھی کہنا تھا پڑا کہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے ’’شہید‘‘ ہوں وہ ہمارے ہیں۔

    جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کو ہدایت کہ سوشل میڈیا کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینے کا سراغ لگا کر اُن کے خلاف کارروائی کی جائے۔

    یہ تشویش اپنی جگہ لیکن صرف سوشل میڈیا پر جاری ’فرقے اور لسانی‘ منافرت کی مبینہ مہم کو ہی دوش دیا جانا درست ہو گا۔

    یہ اچھا نا ہوتا کہ دھماکے کے فوراً بعد اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت یا اُن کے نمائندے پاڑا چنار پہنچ کر متاثرین کے دل کی بات سنتے اور اُنھیں بیانات کے ذریعے نہیں بلکہ  سینے سے لگا کر یہ بتایا جاتا کہ ’’آپ بھی ہمارے اپنے ہیں‘‘۔

    کیوں کہ احتجاج میں شامل افراد آج بھی یہ ہی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ’’اپنا سمجھو‘‘ اور تحفظ دو۔

    جب اپنوں کو یہ یقین دہانی نا کروائی جائے کہ وہ بھی اہم ہیں تو پھر دوریاں بڑھنے لگتی ہیں اور خدشات گہرے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جس فائدہ یقیناً دشمن اٹھا تو سکتا ہے۔

    لیکن تمام تر خرابی کی ذمہ داری دشمن پر ڈال دینے سے نا تو مسائل حل ہوئے ہیں اور نا ہی ہوں گے۔ خامیوں کو دور کرنا ہو گا اور اپنوں کا اپنا بنانا ہو گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپارا چنار حادثہ کو میڈیا میں کوریج کیوں نہیں ملی ؟
    Next Article انتشارساانتشار ہے
    محمد اشتیاق

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by