Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»کیا افغان طالبان پاکستان سے دُور ہو رہے ہیں؟
    کالم

    کیا افغان طالبان پاکستان سے دُور ہو رہے ہیں؟

    شمیم شاہدBy شمیم شاہدمارچ 16, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    امریکہ کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی اور سابق سفیر ڈاکٹر زلمے خلیل زاد نے 12 مارچ  2019 کی شام قطر کے دارلخلافہ دوحہ میں تحریک طالبان افغانستان کے رہنماؤں کے ساتھ 27 فروری سے جاری مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر زلمے اور  طالبان  کے ترجمان کی جانب سےعلیحدہ علیحدہ بیانات جاری کیے گئے جن کے مطابق فریقین کے مابین چار میں سے دو نکات پر اتفاق رائے پیدا ہوگیاہے تاہم انہوں نے مزید غوروفکر اور صلاح مشوروں کے لیے باضابطہ معاہدے کو کچھ وقت کے لیے مؤخر کردیا ہے۔

    جن دو نکات پر اتفاق کیا گیا وہ یہ ہیں کہ ملک کے اندر تشدد ودہشت گردی کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون کیا جائے گا اور غیر ملکی افواج کا انخلا یقینی بنایا جائے گا۔اس کے بعد طالبان ملک کے سیاسی دھارے میں شریک ہوجائیں گے۔اس پیش رفت پر افغانستان کےعام شہریوں نے خوشی واطمینان کا اظہار کیا ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی نے بھی اس مرحلے کو خوش آئند قرار دیا۔ لیکن  جو بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی وہ یہ ہے کہ ابھی تک موجودہ صدر اشرف غنی کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی پاکستان نے کوئی بیان جاری کیا ہے۔

    پچھلے سال ستمبر کے اواخر میں شروع کیے گئے امن مذاکرات میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ اُس وقت بند ہوا جب رواں سال جنوری کے وسط میں متحدہ عرب امارات میں طالبان،امریکی ایلچی ڈاکٹر زلمے خلیل زاد اور پاکستان کے نمائندوں کے درمیان ہونی والی بات چیت میں ’’متحارب افغان رہنماؤں ‘‘ کے آپس میں مذاکرات شروع ہونے پر اتفاق ہواتھا۔  پچھلے ہی سال اکتوبر میں پاکستان نے تحریک طالبان افغانستان کے رہنما اور ملامحمد عمر اخوند کے قریبی ساتھی ملا عبدالعنی برادر کو رہاکیاتھا مگر انہیں نہ توافغانستان جانے کی اجازت ملی اور نہ دوحہ وقطر جانے دیاگیا۔ جس پر  طالبان  نمائندوں نے اِس ماہ فروری کے وسط میں  پاکستان آنے سے انکار کردیاتھا جب سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے تاریخی دورے پر آئے ہوئے تھے۔ اس سے قبل طالبان  نے 13 جنوری 2019 کو سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض جانے سے بھی انکار کیا تھا حالانکہ پچھلے سال کے اواخر میں متحدہ عرب امارات کے دارالخلافہ ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت میں طالبان رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا کہ ڈاکٹر زلمے خلیل زاد کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور سعودی عرب میں ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ طالبان راہنماؤں نے ماسکو میں افغان حکومت کے نمائندوں کی بجائے روس کے مدعوکردہ افغان سیاسی نمائندوں سے ملاقات کی تھی جن کی قیادت سابق صدر حامد کرزئی کررہے تھے۔

    یوں دکھائی دیتا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور تقاضوں کے مطابق اب تحریک طالبان افغانستان مبینہ طور پر پاکستان کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش میں ہے۔ دعوت اور وعدوں کے مطابق پاکستان نہ آنا اور پاکستان میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کوملنے سے انکار کوئی معمولی فیصلہ نہیں تھا۔ اگرچہ اس سے پہلے افغانستان کے سابق صدر پروفیسر برہانی الدین ربانی نے بھی 1994 میں نہ صرف پاکستان سے انکار کیاتھا بلکہ بعد میں اُنہوں نے اور ان کے رفیق خاص احمد شاہ مسعود نے پاکستان پر افغانستان کے اندرونی معاملات مین مداخلت کا الزام بھی لگایا تھا اور طالبان کے وزیراعظم ملا ربانی، جو پشاور ہی کے ہسپتالوں میں زیرعلاج تھے نے بسترمرگ پرپاکستان کی جانب سے پیش کیے جانےوالے کا غذات پر دستخط سے انکار کردیاتھا ۔لیکن موجودہ تناظر میں طالبان کی جانب سے پاکستان کو نظرانداز کیے جانے کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔

    یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے چند سالوں سے پاکستان کی جانب سے یکطرفہ اقدامات اور فیصلوں کی وجہ سے افغانستان کے تمام طبقات اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ خفاہیں ۔ان یکطرفہ اقدامات میں سرفہرست سرحدی پابندیاں ہیں، ان سرحدی پابندیوں  کے سبب جنگ سے تباہ حال افغان قوم کی مشکلات میں بے تحاشا اضافہ ہواہے ۔افغان حکومت نے  پاکستان کے متبادل کے طور پروسطی ایشیااور ایران کے راستوں کو حاصل تو کرلیا ہےمگر ان راستوں کے کھلنے سے افغان عوام کی مشکلات ابھی تک کم نہیں ہوئی ہیں۔ مستقبل میں وسطی اشیاء اور ایران کے راستے افغان تجارت شروع ہونے سے خودپاکستان پر بھی بہت منفی اثرات پڑنے کا ندیشہ ہے۔ افغانستان کوایران کی وجہ سےہندوستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کا بھی موقع مل گیاہے۔ افغانستان کے سیاسی رہنماآپسی اختلافات کے باوجود ڈیورنڈلائن پرایک ہی موقف رکھتے ہیں لہذا اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے یکطرفہ فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید متاثر ہورہے ہیں۔

    پاکستانی فیصلہ ساز حلقوں کےلیے اب سوچنے کا مقام ہے کہ افغان سیاسی ذمہ داران تو مخالف ہیں ہی، اب سابق افغان مجاہدین کے ساتھ ساتھ  تحریک طالبان افغانستان کے رہنما بھی ان سے دور ہوتے جارہے ہیں جو کسی بھی طورپر پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں متنوع شناختیں اور بقائے باہمی
    Next Article نیوزی لینڈسانحہ: یورپ کے لیے خطرے کی علامت
    شمیم شاہد

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by