Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»باچاخان کےورثے کی جنگ
    کالم

    باچاخان کےورثے کی جنگ

    سرتاج خانBy سرتاج خانجنوری 23, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    20جنوری باچاخان (1890-1988) کا 31واں یوم وفات ہے۔ صوبہ پختونخوا سے تعلق رکھنے والےعدم تشدد کے پیروکاراورجنگ آزادی کے رہنماکے ورثے کے حوالے سےبحث جاری ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ اس خطے میں چلنے والی جنگیں اورعوامی تحریکیں ہیں۔ اگرحالیہ چند سالوں کوسامنے رکھاجائے تو اس حوالے سے سب سے اہم مباحث میں سے دو  اہم ہیں۔ اوراسی حوالے سے اس مضمون میں باچاخان کے حوالے بات کی جائے گی۔ سب سے اہم باچاخان کاطالبان اورجہادکے حوالے سے معاملہ ہے۔ دوسرا اس کا منظورپشتین کی قیادت میں چلنے والی تحریک پشتون تحفظ مومنٹ اوراس کے خلاف باچاخان کےسیاسی وارث  ہونے کادعوی کرنے والی جماعت اےاین پی اوراس کےقائدین کاردعمل ہے۔

    ماضی کے برعکس، چندسالوں سےباچاخان اوراسکی خدائی خدمتگارتحریک کو مثبت اندازمیں پیش کیاجاتاہے۔ اس کی اہم وجہ خطے میں امریکی جنگ اورطالبان تحریک ہے۔ 20 جنوری 2016کوباچاخان یونیورسٹی پرعین اسی دن حملہ کرکے 19طلبہ کوماراگیا جس دن اس عظیم تعلیمی مصلح کایوم وفات منایاجارہاتھا۔ مصنفہ موکولیکا بنرجی اورناول نگارکمیلہ شمسی نے اسے باچاخان کے سوچ وفکراورورثہ پرحملہ قراردیا۔ یہی نہیں بلکہ پشتون خطے میں جاری مذہبی سوچ اورشدت پسندی کے خلاف باچاخان کے فکرکوایک موثرہتھیارکے طورپراستعمال کرنے پرزوردیاجاتاہے۔ علی اوسط کہتاہے کہ باچاخان کی تعلیمات شدت پسندی کوروک سکتی ہیں۔ ہنری میلسٹین کے نزدیک باچاخان اورطالبان کے اسلام کے بارے میں خیالات ایک دوسرے سےبہت مختلف ہیں۔

    علاقہ کے چھوٹے خان کے بیٹے نے روایت کے مطابق ابتدائی تعلیم مقامی مسجد میں حاصل کی تھی اورحج پربھی گئے تھے۔ باچاخان نے 1910میں علاقہ کے مشہوراصلاح پسند حاجی فضل واحد، جو حاجی صاحب ترنگزئی کے نام سے مشہورتھے، کے سنگ تعلیمی مدرسوں کی بنیادرکھی۔ اس کارخیرمیں دیوبند کے کئی دیگرعلماء جیسے مولوی فضل ربی، مولوی تاج محمد، فضل محمودمخفی اورعبدالعزیز بھی شریک رہے۔ ناصرف یہ کہ یہ سب دیوبند سے فارغ التحصیل تھے بلکہ باچاخان کےبھی استعمارمخالف دیوبندکے مدرسہ کےمولانا محمود الحسن اوران کے شاگرد مولاناعبیداللہ سندھی سے تعلقات تھے۔ وہ بعدازاں مشہورریشمی رومال تحریک کاحصہ بھی بنے جس کامقصد افغانستان کی مددسے برصغیرمیں اسلامی حکومت کاقیام تھا۔ دیوبند کے علماء تعلیم کے خلاف نہ تھے بلکہ استعماری تعلیم کے خلاف تھے جولارڈکلائیوکی پالیسی کے تحت ایک تابعدارذہن پیداکرنی کی پالیسی پرگامزن تھی۔ علماء اورباچاخان حریت آزادی سےآراستہ تعلیم کوعام کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے، اسی لیے یہ سرکاری عمل دخل سے "آزاد مدارس” کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔

    حاجی صاحب ترنگزئی وادی پشاورمیں عزت وتکریم کی نظرسے دیکھے جاتے تھے۔ جب انگریزوں نے اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھنی چاہی توعوام کی طرف  سےممکنہ مخالفت کے خدشہ کے پیش نظراس کاافتتاح حاجی صاحب سے کروایا۔ اس سے ان کی سماجی حیثیت واضح ہوتی ہے۔ لیکن انگریزسرکارایک حدتک ہی اصلاحات کی اجازت دے سکتے تھے۔ یوں حاجی صاحب کو پرامن اصلاحات کی کوششوں کوادھوراچھوڑکرقریبی قبائلی پٹی کی طرف ہجرت کرکے انگریزوں کے خلاف مسلح جدوجہد کی مہم شروع کرناپڑی۔  باچاخان نے فضل محمودمخفی کے ہمراہ اس مشن کودیرتک جاری رکھنے کی کوشش کی۔ باچاخان کی سیاست کاآغازبھی برصغیرکے کئی مسلمان رہنماؤں کی طرح 1918میں خلافت تحریک سے ہوا۔ بعدازاں علماءکے کہنے پرہجرت تحریک کاحصہ بھی بنے۔ ابتداء میں باچاخان کے علماء کے ساتھ اتحادکی کئی ایک وجوہات تھیں۔ چھوٹے خوانین یاخوشحال زمیندار اصلاحات کے متمنی تھے تاکہ بڑےخوانین کی طرح ان کوبھی اقتدارمیں حصہ ملے۔ 1901میں صوبہ سرحد کاقیام عمل میں آیالیکن یہاں ہندوستان کے دیگرحصوں کی طرح اصلاحات نہیں کیے گئے اور 1933تک انہیں ان  اصلاحات سے محروم رکھاگیا۔ اس کی ایک وجہ اس کااسٹرٹیجک پوزیشن اورپشتونوں کی طرف سے مسلسل مزاحمت تھی۔ جبکہ دوسری طرف علماء بھی سرپرستی سے محروم تھے۔ دراصل برطانیہ نے بڑے جاگیردار، نواب اورپیر ومشائخ کی سرپرستی کی۔ محروم رہنے والے چھوٹے خوانین اوردیوبندی علماء کااتحاد بن گیا۔ سیدوقارعلی شاہ کہتے ہیں کہ برصغیرکے دیگرعلاقوں کے برعکس برطانیہ نے صوبہ سرحد کے علماء کی سرپرستی نہ کی جوکہ ان کو جہاد کرکے برصغیرکے اس حصہ نکالنے کیلئے سرگرم تھے۔

    خدائی خدمتگارتحریک پرقصہ خوانی بازارمیں حملہ کے جواب میں سارے خطے کے پشتون اٹھ کھڑے ہوئے توولی خان نے اس کومثبت اندازمیں بیان کیا:

    سب سے پہلے وزیراپنے پشتون بھائیوں کی ہمدردی کیلئے جہاد کی نیت سے کھڑے ہوئے۔ ان پربمباری ہوئی اوران کے گھراڑائے گئے۔ بہت سارےشہید کردیے گئے۔ وزیرکے فوری بعد مسحود بھائی کھڑےہوگئے۔ حاجی صاحب ترنگزئی کی سربراہی میں ایک بہت بڑا مہمندلشکر، ڈھیری شبقدرکی طرف آیا۔ اس پرجہازوں سے بمباری پرہمارے گاؤں ہل جاتے تھے۔ ان کے لوگ غازیوں کیلئے راشن اورپکی ہوئی روٹیاں پہنچاتے۔
    باچاخان نے قابض برطانوی استعمارکے خلاف آزادی کی جنگ لڑی اورپاکستان میں حقوق اورجمہوریت کی جنگ میں حصہ لیا۔ باچاخان نے فاٹامیں برطانوی استعمارکے خلاف لڑنے والے حاجی صاحب ترنگزئی اورفقیرآف ایپی کی جدوجہد کی مخالفت نہیں کی۔ بلکہ فاٹامیں استعمارکے خلاف ایک جہادی مرکزکھولنے کی منصوبہ بندی بھی کی جس پرعمل نہ ہوسکا۔ البتہ 1980کی دہائی میں افغان جہادسے وہ مطمئن دکھائی نہیں دیتےتھے اوراس کودوعالمی طاقتوں کےدرمیان رسہ کشی کے طورپردیکھتے تھے جس میں پشتون پس رہے تھے۔

    باچاخان کی عدم تشددکی پالیسی کوسامراجی قبضہ سے جداکرکے پیش کیاجاتاہے۔ حالانکہ باچاخان کی سیاسی جدوجہد اوراصلاحی کوششوں کامعراج، سامراج سے آزادی کی کوششیں تھیں۔ عدم تشدد کی پالیسی برطانوی استعمارسے آزادی کیلئے کوششوں کے لازمی حصے کے طورپرتھی۔ یوں باچاخان کی عدم کی پالیسی کواستعماری قبضہ کے خاتمے، حقوق کی جدوجہدسے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔ یہی بحث پشتون تحفظ مومنٹ کے حوالے سے ہے جوابھی تک عدم تشددکی پالیسی پرعمل پیراء ہے ،اسی وجہ سے اس کوباچاخان کی تحریک کے آئینہ میں دیکھاجاتاہے۔  باچاخان کانواسہ اسفندیارولی خان اس تحریک کے خلاف ہے اوردعویٰ کرتاہے کہ وہی اصل وارث ہے۔ اسفندیارولی خان کوباچاخان کی جائیداد اس وجہ سے وراثت میں ملی کہ وہ ولی خان کی اولادہے اوراسی ناطے سے عوامی نیشنل پارٹی بھی ان کی خاندانی جماعت بن کررہ گئی ہے۔  جہاں تک پشتون قوم کی تحریک کی بات ہےتواس کی وراثت کے حوالے البتہ اس کادعویٰ زیادہ وزنی دکھائی نہیں دیتا۔ نہ ہی اے این پی کہیں سے بھی خدائی خدمتگارتحریک کاتسلسل ہے۔ اکثرلکھاری پشتون تحفظ مومنٹ کوباچاخان کی تحریک سےزیادہ قریب سمجھتے ہیں۔

    باچاخان کا استعمارمخالف، امن وخوشحالی اورحقوق کی جدوجہدسے وابستہ بیانیہ پھرسے تازہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی اورجمہوری حقوق کے لیے پرامن سیاسی جدوجہدکی راہ اپناکرہم ان کی جدوجہد کوجلا بخش سکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleرواداری طرزِ فکر میں تبدیلی سے آسکتی ہے
    Next Article سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟
    سرتاج خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by