Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ادھیڑ عمری میں شادی…ایک سماجی مسئلہ
    کالم

    ادھیڑ عمری میں شادی…ایک سماجی مسئلہ

    عاطف ہاشمیBy عاطف ہاشمینومبر 26, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دنیا بھر میں کم عمری کی شادی  کو ایک سماجی مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور  اس کی روک تھام کے لیے بہت سے ممالک میں قانون سازی ہو رہی ہے، وقتا فوقتا اس کی باز گشت ہمارے ہاں بھی سنائی دیتی ہے لیکن  اس کے بالمقابل اسی نوعیت کا  ایک اور مسئلہ بھی  ہے جو  کسی طرح بھی اہمیت میں اس سے کم نہیں ،اور وہ ہے شادی میں تاخیر کا رجحان،لیکن اس کی طرف کسی این جی  او کی نظر جاتی ہے  نہ  اسلامی  اور سماجی ادارے اس   جانب توجہ دیتے ہیں۔

    جس طرح کم عمری میں شادی کی وجوہات معاشی،معاشرتی،تقلیدی اور مذہبی ہیں اس طرح  شادی میں تاخیر  کی بھی چند اہم وجوہات ہیں جن میں سر فہرست تعلیم اور ملازمت  ہیں، لڑکیاں عموماً  پڑھائی کی وجہ سے مناسب رشتے آنے کے باوجودشادی سےانکار کر دیتی ہیں اور لڑکوں کے والدین بھی اس وقت تک شادی نہیں کرواتے جب تک  کہ وہ نان نفقہ کا بار اٹھانے کے قابل نہ ہوجائیں، یا بیرون ممالک میں چند سال رہ کر  اپنے خاندان  کو معاشی طور پر مستحکم نہ کرلیں۔

    یہ  دونوں وجوہات بڑی معقول ہیں اور شاید  اسی بنا پر کھلی آنکھوں سے  اس   کے نفسیاتی ، معاشرتی و دینی نقصانات اور خاندانی نظام پر پڑنے والے منفی اثرات کا مشاہدہ کرنے کے باوجودشادی میں تاخیر کو برداشت کیا جا رہا ہے ۔اگر مختلف مسلم ممالک میں شادی میں تاخیر  کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے  تو  بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس پہلو پر عدم توجہ کی وجہ سے ہم نئی نسل کو ایک خطرناک خاندانی نظام سونپنے جا رہے ہیں۔

    العربیہ نیوز کے مطابق سعودی عرب میں اعداد و شمار کی جنرل اتھارٹی کی جانب سے  2016میں  کیے جانے والے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ مملکت سعودی عرب  میں 20 لاکھ سے زیادہ غیر شادی شدہ خواتین میں 2 لاکھ ایسی خواتین ہیں جن کی شادی کی عمر گزر چکی ہے۔ سروے میں سعودی خواتین کے لیے شادی کی تاخیر کی عمر 32 متعین کی گئی ہے۔ سروے میں تاخیر کی عمر کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ  خاتون کی وہ عمر جس کے بعد اس کی شادی کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔

    سروے نتائج میں یہ بات باور کرائی گئی ہے کہ شادی میں تاخیر کی شرح خواتین کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ مربوط ہے۔ یونی ورسٹی طالبات اور ماسٹرز کی ڈگری رکھنے والی خواتین میں شادی کی شرح 60% تک پہنچ گئی جب کہ انٹرمیڈیٹ پاس خواتین میں یہ شرح 43% سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

    سروے میں متعین کی گئی شادی میں تاخیر کی عمر کی روشنی میں اس وقت سعودی عرب  میں 227806 خواتین کی شادی کی عمر گزر چکی ہے جب کہ 15 برس یا اس سے زائد کی غیر شادی شدہ خواتین کی مجموعی تعداد 2261946 ہو چکی ہے۔

    سروے کے مطابق زندگی میں تین یا اس سے زیادہ مرتبہ شادی کرنے والی سعودی خواتین کی تعداد 12835 سے زیادہ ہے جب کہ دو مرتبہ اس تجربے سے گزرنے والی خواتین کی تعداد 109484 ہے۔ جہاں تک مردوں کا تعلق ہے تو  سعودی عرب میں 107816 مرد تین یا اس سے زیادہ مرتبہ شادی کر چکے ہیں جب کہ دو مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھنے والے مردوں کی تعداد 424756 ہے۔

    شادی  میں تاخیر  کی سب سے زیادہ  شرح لبنان میں بتائی جاتی ہے جہاں 85  فیصد خواتین  کی یا تو شادی کی عمر  ہی گزر چکی یا انہوں نے  35سال کے بعد شادی کی۔اسی طرح   مراکش،شام،الجزائر اور عراق سمیت متعدد مسلم ممالک  میں یہ شرح بڑھتی جا رہی ہے ،عرب سماج میں رائج اس مسئلے کو  ایک ناول (عورتوں کی زنجیریں) میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔جب  لڑکیاں تعلیم یا کسی بھی  وجہ سے بروقت شادی پر رضامند نہیں ہوتیں یا ان کے والدین  کسی آئیڈیل رشتے کی تلاش میں ان کی عمر گزار دیتے ہیں تو   اس سےجہاں  وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں وہاں  معاشرے میں  بھی بگاڑ آتا ہے اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم  میں اضافہ ہوتا ہے۔

    جس طرح عرب معاشرے میں کم عمری میں شادی  کے رجحان  سے نکاح سترہ کے نام سے نکاح کی ایک نئی قسم سامنے آئی،  اسی طرح   شادی میں  تاخیر کے اس رجحان کی کوکھ سے بھی  نکاح کی ایک قسم نے جنم لیا ہے  جسے نکاح مسیار کہا جاتا ہے۔جسے وہ خواتین بخوشی قبول کر لیتی ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی شادی کی ٹرین نکل  گئی ہے۔دوسری طرف  وہ مرد جو   اعلانیہ  دوسری شادی  کرنے  کی طاقت نہیں  رکھتے وہ بھی نکاح مسیار کی آڑ لیتے ہیں،اب چونکہ پاکستان میں بھی عمر گزرنے کے باوجود  مردوں اور عورتوں کی شادی نہ ہونے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اسی لیے  یہاں بھی گزشتہ چند سالوں سےخفیہ طور پر نکاح مسیار کو مقبولیت مل رہی ہے۔

    اگرچہ نکاح کی اس قسم کو شرعی طور پر بہت سے علماء نے جائز قرار دیا ہے لیکن  یہ مسئلے کا ایک عارضی حل ہے،مستقل حل یہی ہے کہ   پچیس سے تیس سال کی عمر میں بہرصورت شادی کو یقینی بنایا جائے، تعلیم کوئی ایسا عمل نہیں ہے جسے شادی کے بعد جاری نہ رکھا جا سکے،ہمارے مشاہدے میں ایسے  جوڑے بھی ہیں  جو شادی کے بعد ملازمت بھی کرتے ہیں   گھریلو امور کو بھی نمٹاتے ہیں اور تعلیم کا عمل بھی جاری  رہتا ہے۔بہرحال سماجیات کے ماہرین کو  چاہیے کہ  وہ اس   مسئلے کو بھی اپنے سماج کا اہم مسئلہ سمجھیں اور اس کے حل  کے لیے  سوچ بچار کر کے  کوئی راستہ نکالیں ورنہ خاندانی نظام کا شیرازہ بکھر جائے گا اور اس سے مزید سماجی و معاشرتی مسائل جنم لیں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم سب مذہبی ہیں
    Next Article ترقی پسند، قوم پرست سیاست کا المیہ
    عاطف ہاشمی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by