Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»رحیم یار خان ، اقلیتوں سے سیاسی جماعتیں کیوں گریزاں ہیں ؟ 
    کالم

    رحیم یار خان ، اقلیتوں سے سیاسی جماعتیں کیوں گریزاں ہیں ؟ 

    بلال حبیبBy بلال حبیبنومبر 25, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے 11اگست1947 کو اپنی تقریر میں کہا تھا کہ’’آپ آزاد ہیں،آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے ،آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے، آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔‘ ‘
    قیام پاکستان کے بعدقائد اعظم کی پہلی کابینہ کے وزیر قانون و لیبر جوگندر ناتھ منڈل تھے جو کہ ہندو اقلیت سے تعلق رکھتے تھے۔ ضلع رحیم یار خان میں ہندو، مسیحی ،سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی آبادہیں جن میں ہندو برادری کی تعداد اب لاکھوں میں ہے اور اس وقت ہندو پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ضلع رحیم یار خان میں چھ قومی اور تیرہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے عام انتخابات 2018 میں مختلف جماعتوں سے امیدواروں نے حصہ لیا اور منتخب ہوئے لیکن کسی بھی جماعت نے عام انتخابات کے لئے یہاں کسی اقلیتی نمائندے کو ٹکٹ نہیں دیا باوجود اس کے کہ یہاں سے اقلیتیں تمام سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم پر متحرک سیاسی کردار ادا کر رہی ہیں۔
    رحیم یارخان کی تحصیل کونسل میں چیئر مین مینارٹی افیئرز بابو لیلا رام سے جب اس سلسلہ میں بات کی گئی تو انہوں نے بتا یا کہ وہ گزشتہ پندرہ سال سے پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہیں اور لوکل باڈیز کی سطح پر ن لیگ کی جانب سے الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع رحیم یار خان کی کل آبادی کا دو اعشاریہ چار (2.4) فی صد ہندو اقلیت پر مشتمل ہے اور اس وقت ایک لاکھ پندرہ ہزار نفوس سے زائد آبادی ہندو اقلیت پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ آبادی ہندوں کی رحیم یار خان میں ہے ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات میں جنرل سیٹوں پر الیکشن لڑنا کسی بھی اقلیت کے لئے مشکل ہے لیکن اگر پارٹی سپورٹ کرے اور ٹکٹ جاری کرے تو یہ نا ممکن نہیں۔ انکا کہنا تھا ہندو اور دیگر اقلیتوں میں اس وقت کوئی ایسے قد کاٹھ کا بندہ نہیں ہے جو عام انتخابات میں حصہ لے سکے اور نہ ہی کبھی پارٹی نے انہیں اس قابل سمجھاہے۔ بابو لیلا رام نے کہا کہ انہوں نے پہلی دفعہ مخصوص نشست پر 2018 میں اپلائی کیا تھا لیکن پارٹی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا اور کہا تھا کہ ابھی آپ پارٹی کے لئے مزید کام کریں۔ ان کا انٹرویو نواز شریف نے خود کیا تھا۔ انہوں نے کہا کے آئندہ بھی جو الیکشن ہوں گے ان میں جنرل نشست پر کوئی بھی پارٹی کسی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کو ٹکٹ دینے کا رسک نہیں لے گی اور اگر کوئی پارٹی رسک لے گی تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہی ہو سکتی ہے۔ اس پورے پاکستان میں منتخب نمائندے جو جنرل الیکشن میں جیتے ہیں ان میں اقلیت سے تعلق رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے پنجاب میں اس وقت اقلیتوں کے لئے آٹھ مخصو ص نشستیں ہیں اور اس وقت قومی اور صوبائی اسمبلی میں موجود تمام اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نمائندے مخصوص نشستوں سے ہی ہیں۔ مخصوص نشستوں پر پچانوے کے قریب ہندو اقلیت کے نمائندوں نے پنجاب اسمبلی کے لئے درخواستیں دی تھیں جن میں سے خانپور کے امیدوار کو پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا اور اس بار پنجاب کی مخصوص نشستوں پر جتنے بھی نمائندے منتخب ہوئے ہیں ان میں ہندو کوئی نہیں ہے جبکہ سات نشستوں پر مسیحی اور ایک نشست پر سکھ منتخب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ہو اس میں پہلی تین نشستوں کے لئے ہندو برادری سے نمائندہ لیا جاناچاہئے۔ انہوں نے موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اقلیتوں کے لئے پانچ فی صد کوٹہ مخصوص ہے جس کو موجودہ حکومت کو چاہئے کہ بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان میں کوئی خاص واقعہ ہوتا ہے تو اس کا ری ایکشن پاکستان میں ہوتا ہے انہوں نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ جبری طور پر تبدیلی مذہب کو روکنے کے لئے حکومت اقدامات کے ساتھ ساتھ قانون سازی بھی کرے۔ لیلا رام کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت تبدیلی کے نام پر ووٹ لے کر آئی ہے لیکن اقلیتوں کے لئے کیا اب تک ان کے ذہن میں کیا ویژن ہے کچھ معلوم نہیں ہے ۔
    رحیم یار خان کے رامیش جے پال جو کے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں نے بتایا کہ انہوں نے بھی عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کو مخصوص نشست کے لئے درخواست دی تھی لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ سیاسی سسٹم میں ہر سیاسی پارٹی کے اندر پیسے اور سفارش والے لوگوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ رامیش نے بتایا کہ امریکہ جانے سے پہلے اس نے پاکستان میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی تھی اور امریکہ جاکر انہوں نے قانون اور انسانی حقوق پر تعلیم حاصل کی ۔ تاہم رامیش کو بھی یقین ہے کہ اگر کوئی پارٹی کسی اقلیتی لیڈر کو جنرل سیٹ پر ٹکٹ دے سکتی ہے تو وہ پیپلز پارٹی یا نون لیگ ہو سکتی ہے جبکہ پی ٹی آئی ایسا کرے ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ انہوں نے بتایا کہ آنے والے وقت میں رحیم یار خان شہر کے قریبی حلقوں میں سے کسی حلقے پر جنرل سیٹ پر اقلیتی نمائندہ الیکشن لڑ سکتا ہے کیونکہ ان حلقوں میں اقلیتی آبادی زیادہ ہے۔ رامیش نے بتایا کہ آج تک کسی بھی بڑی پارٹی نے جنرل سیٹوں کے لئے رحیم یار خان کے کسی حلقے سے کسی اقلیتی رکن کو ٹکٹ نہیں دیا تاہم آزاد حیثیت سے کچھ اقلیتی افراد نے الیکشن میں حصہ لیا ہے۔ اقلیتی برادری کے پیٹر جان بھیل نے آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا تھا اور اس کے علاوہ ایک ہینری نامی شخص نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ رامیش کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے دوران الیکشن اقلیتوں کے لئے اعلانات کئے تھے [ کہ ہم آپ کو اداروں میں نمائندگی دیں گے اور آپ کے حقوق کے لئے برابری کی سطح پربھی کام کریں گے لیکن سو دن کے حکومتی پلان میں ابھی تک کچھ نہیں کیا۔وقف متروقہ املاک کا چیئرمین اقلیت سے بنانے لگے تھے لیکن وہ بھی نہیں بنایا۔ الیکشن کے دوران کئے وعدوں میں سے ابھی تک کوئی وعدہ پورا نہیں ہوا۔

    رحیم یار خان میں بسنے والی اقلیتیں اس بات پر زیادہ متفق ہیں کہ اگر اسمبلی میں موجود مخصوص نشستوں پر ایک نمائندہ رحیم یارخان سے بھی منتخب کر لیا جائے تو وہ یہاں پر بڑی تعدا میں موجود اقلیتوں کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے اور وہ خود کو قومی دھارے کا حصہ سمجھیں گی ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسی پیک پر حملہ
    Next Article حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
    بلال حبیب

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by