Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»اعظم طارق کے قتل میں مطلوب ملزم کیسے گرفتار ہوا ؟
    کالم

    اعظم طارق کے قتل میں مطلوب ملزم کیسے گرفتار ہوا ؟

    اعزاز سیدBy اعزاز سیدمئی 12, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پولیس اور انٹیلی جنس حکام ملزم سبطین کاظمی سے اعظم طارق کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس قتل کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی لہر آ گئی تھی

    مولانا اعظم طارق کو چھ اکتوبر 2003 کو اسلام آباد کے نواح میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جھنگ سے واپس آ رہے تھے ۔وہ اس وقت ملت ِ اسلامیہ پاکستان کے صدر تھے جو کہ سپاہ ِ صحابہ کی ہی ایک شکل تھی ۔ اعظم طارق کی شہرت آگ اگلتے مقرر کی تھی جو شیعوں کے خلاف فرقہ وارانہ تقریریں کرتے تھے ۔ان کے قتل میں مطلوب ملزم سبطین کاظمی کو  قتل کے تیرہ برس بعد اس وقت اسلام آباد ائیر پورٹ سے گرفتار کر لیا گیا جب وہ   براستہ دوحہ قطر ایئر لائن کی فلائٹ نمبر . QR633کے ذریعے  برطانیہ کے رہائشی کارڈ پر مانچسٹر جانے والے تھے ۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو نے کچھ روز قبل ملزم کی تفصیلات ایف آئی اے کے حوالے کی تھیں ۔اور ساتھ کہا تھا کہ ممکن ہے کہ ملزم ائیر پورٹ پر امیگریشن حکام کے سامنے اپنا حلیہ تبدیل کر کے آئے۔ ملزم لندن میں رہائش پزیرتھا اور حالیہ دنوں میں پاکستان آیا تھاجس کی معلومات آئی بی نے حاصل کر رکھی تھیں ۔سبطین کاظمی کو تھانہ گولڑہ میں درج ایف آئی آر نمبر 119/2003 میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا اور ان کے سر کی قیمت دس لاکھ مقرر کی گئی تھی تاہم ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں درج نہیں تھا۔

    ایف آئی اے کے کارندہ ایم۔ ایس اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا جب ملزم امیگریشن کاؤنٹر کی جانب بڑھا ۔ایم ایس (آفیسر کانام سیکورٹی وجوہات کی بنا پر خفیہ رکھا جا رہا ہے )نے اس کا پاسپورٹ چیک کیا اور اس کی تصویر کا تقابل اس تصویر کے ساتھ کیا جو انہیں ایف آئی اے کی جانب سے پہلے ہی دی جا چکی تھی جس کےبعد آفیسر نے ملزم کو بیٹھنے کو کہا ۔بعد ازاں اس کا موبائل اور سامان ضبط کر کے تھانہ گولڑہ کو اطلاع دی گئی کہ وہ اپنا ملزم لے جائیں ۔ذرائع کے مطابق تھانہ گولڑہ کے پولیس آفیسر اپنی ٹیم کے ہمراہ  فوراًائیرپورٹ پہنچے۔ملزم کو باقاعدہ گرفتار کر کے آئی نائن میں سی آئی اے( کریمینل انوسٹی گیشن ایجنسی ) کے حوالے کر دیا  ۔اس کے فوراً بعد ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرکے اس کا پانچ روزہ جسمانی  ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنس حکام ملزم سبطین کاظمی سے اعظم طارق کے قتل کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ اس قتل کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی لہر آ گئی تھی ۔سبطین کاظمی کانام ان دو درجن سے زائد سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں ہے جو دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کی کئی وارداتوں میں مطلوب ہیں ۔

    سبطین کاظمی کا نام سب سے پہلے اسلام آباد پولیس کے کریمینل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کی ریڈ بک کے 2009  ایڈیشن میں مطلوب دہشت گرد کے طور پر سامنے آیا تھا ۔ریکارڈ کے مطابق وہ شعیہ مکتب فکر کے مطلوب دہشت گردوں میں سر فہرست تھا۔ریڈ بک کے مطابق سبطین کاظمی کو تعلق شیعہ طلبا تنظیم آئی ایس او (امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ) سے تھاجو بعد ازاں جوہر ٹاؤن لاہور منتقل ہو گیا۔ریڈبک کے مطابق اعظم طارق کے قتل کے بعد وہ فوری طور پر لندن چلا گیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سبطین کاظمی کے قتل سے نہ صر ف یہ کہ اعظم طارق کے حقیقی قاتلوں کا چہرہ سامنے آ ئے گا بلکہ  اس سے یہ دیکھنے میں بھی مدد ملے گی کہ کیا ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں کوئی بیرونی ہاتھ تو ملوث نہیں ہے ۔

    (انگریزی سے ترجمہ :سجاد اظہر )

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکیا سرحدیں، رشتے کمزور کر سکتی ہیں؟
    Next Article سیاسی کارکن اور اختلاف رائے کا حق
    اعزاز سید

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by