Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خیبر پختونخواہ میں چھ سال گزرنے کی باوجود کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون نافد نہ ہوسکا۔
    کالم

    خیبر پختونخواہ میں چھ سال گزرنے کی باوجود کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون نافد نہ ہوسکا۔

    سجاد علیBy سجاد علیمئی 21, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ’’دا حوا لور‘‘نامی فلاحی ادارے نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کررکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محتسب کی اسامی خالی ہونے کے باعث متاثرین کے پاس کوئی ایسا فورم نہیں ہے جہاں سے انہیں انصاف مل سکے۔

    خیبر پختونخواہ کی اسمبلی ہال میں اجلاس شروع ہونے کی تھوڑی دیربعد کچھ خواتین اراکین اسمبلی نے کھڑے ہوکر اپنے مطالبا ت کے حق میں احتجاج شروع کردیا، انکا یہ احتجاج ایک بنیادی مطالبے کیلئے تھا کہ چارسال گزرنے کی باوجود ان کے حلقوں میں پینے کیلئے صاف پانی بھی میسر نہیں۔ خواتین اراکین اسمبلی کا احتجاج اور اپنے حلقے کے عوام کیلئے صاف پانی کی فراہمی کا مطالبہ حکمران جماعت کے اراکین کو بالکل پسند نہ آیااور انہوں نے خواتین کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جس میں انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، خواتین اراکین اسمبلی کے احتجاج پر ناراض صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ شاہ فرمان نے خواتین کو ہراساں کرنا شروع کیااور خاتون رکن اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر اپنے مطالبات منواناچاہتی ہوتو اکیلے میں آکر ملو‘‘صوبائی وزیر کی جانب سے فلور آف دا ہاؤس اس قسم کے نازیبا الفاظ کو معاشرے حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے خواتین کو ہراساں کرنے کی بدترین قسم تصور کیا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر کے اس بیان پر نہ صرف ایوان میں بلکہ مختلف شہروں میں خواتین کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اگرچہ صوبائی وزیر شاہ فرمان نے اگلے دن معافی مانگ لی لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک عورت کی عزت و آبرو اسمبلی میں محفوظ نہ ہو تو کیا وہ دوسری جگہوں پر محفوظ ہوگی؟
    وفاقی حکومت نے2010ء میں کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے
    Harassment of Women at Workplace Act 2010
    کے نام سے ایک قانون پاس کیا تھا جو بدقسمتی سے آج تک خیبر پختونخواہ میں نافذ نہیں کیا جاسکا۔’’اگر یہ قانون صوبے میں لاگو کیا جاچکا ہوتا تو کیا شاہ فرمان میری ساتھ اس طرح حرکت کرتے ؟ ‘‘نگہت اورکزئی نے کہا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’جان بوجھ کر اس قانون کو نافذ نہیں کیا جارہا، یہ نہیں چاہتے کہ قانون کے گرفت میں آئیں۔
    مذکورہ قانون وفاقی دالحکومت سمیت پنجاب اور سند ھ میں لاگو کیا جاچکا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں اس قانون کا انفاد کئی سالوں سے التواء کا شکا ر ہے، اس قانون کا سیکشن سات کہتا ہیں کہ یہ صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ عورتوں کی شکایات سننے کیلئے محتسب کا انتخاب کریں ’’صوبائی حکومت اس قانون کو نافذ کرنے میں لیت و لال سے کام لے رہی ہے۔
    اس ایکٹ کے مطابق ہائی کور ٹ کا کوئی جج یا ہائی کورٹ کا جج بننے کی صلاحیت رکھنے والے فرد کو محتسب مقرر کیاجاسکتا ہے لیکن وفاقی محتسب ادارجاتی اصلاحات ایکٹ 2013میں یہ گنجائش دی گئی ہے کہ کوئی بھی عورت جو گزشتہ دس سال سے خواتین کو ہراساں کئے جانے کے خلاف کام کررہی ہو اسے محتسب کے طور پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔ محتسب کے پا س سول کورٹ کے برابر اختیارات ہونگے جو شکایت کنندہ کی تحریری شکایت پر ملوث فرد سے تین روز میں رابطہ کرے گا اور اسے آئندہ سات یوم میں اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کرے گا۔ جواب جمع نہ کرنے کی صورت میں محتسب یکطرفہ فیصلہ دینے کا مجاز ہوگا۔محتسب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ گواہوں کو طلب کرے یا شواہد ریکارڈ کرنے کیلئے کمیشن کو بھیجے، اس کے ساتھ ساتھ جرم ثابت ہونے پر محتسب کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سزا وجرمانہ بھی عائد کرسکے۔

    ’’دا حوا لور‘‘نامی فلاحی ادارے نے خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کررکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ محتسب کی اسامی خالی ہونے کے باعث متاثرین کے پاس کوئی ایسا فورم نہیں ہے جہاں سے انہیں انصاف مل سکے۔ ’’دا حوا لور‘‘کی شریک چیئرمین شا ہ وانہشاہ نے اس حوالے سے بتایا کہ محتسب نہ ہونے کے باعث اس قسم کے مسائل کی صحیح طور پر شنوائی نہیں ہوتی، عوام کو اس قانون کے حوالے سے آگاہی نہیں ہے یہی وجہ سے اس قسم کے مسائل عموماًباہمی اتفاق رائے سے حل کرلئے جاتے ہیں ٗ بہت کم شکایت کنندہ اپنی شکایت لیکر وفاقی دارالحکومت جاتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہائی کورٹ نے حکومت کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے لیکن تاحال انہوں نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا۔
    خیبرپختونخوا کمیشن کے افیسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہوں نے محتسب کی تقرری کیلئے چند نام چیف سیکرٹری کو بھیجے ہیں لیکن ان کی جانب سے تاحال کوئی جواب نہیں آیا ، ان کا کہنا تھا کہ اس مسلے کو سیاست کی بھینٹ چڑھائے جارہا ہے، چار سال کی طویل جدوجہد کے بعد بھی ہم کوئی نام منظور کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکمران جماعت اس منصب پر اپنے بندے کو فائز کرنا چاہتی ہے جبکہ انکی اتحادی جماعتیں اپنے من پسند فرد کو یہ عہدہ نوازنے کی خواہش مند ہے، جس کی وجہ سے یہ عہدہ کئی سال خالی ہے۔
    صوبائی وزیر برائے اطلاعات مشتاق غنی نے اس حوالے سے بتایا کہ وفاقی قانون کے تحت صوبے میں محتسب کا دفتر قائم کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، کام کرنے والی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، خواتین کی عزت و آبرو کو محفوظ بنانے کیلئے خصوصی اقدامات کررہے ہیں۔
    مذکورہ قانون کے نفاد سے خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر مکمل قابو پالینا تو ممکن نہیں تاہم اس سے اس قسم کے واقعات میں واضح کمی ضرور واقع ہوسکتی ہے اور ہراساں کی جانی والی عورتوں میں انصاف ملنے کی امید پیدا ہوگی ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم کیسے بھول جاتے ہیں؟
    Next Article فقہی قوانین اور معاصر ریاستی قوانین میں ترجیحات
    سجاد علی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by