Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»چمکتا بھارت اور بھارتی بچوں کی زبوں حالی
    کالم

    چمکتا بھارت اور بھارتی بچوں کی زبوں حالی

    عاصم اعجازBy عاصم اعجازدسمبر 3, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پچھلے کچھ برسوں سے بھارتی معیشت کی معاشی ترقی کے ڈھول پیٹے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا میں بالعموم اور بھارتی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور دکھایا جارہا ہے۔جس میں بھارت کا روشن چہرہ ہی دکھایا جارہا ہے۔”شائنگ انڈیا” ہو یا”من موہن سنگھ کی معاشی اصلاحات” یا پھر موجودہ مودی حکومت کی معاشی کامیابیوں کے دعوے ،ان سب کے مطابق بھارتی معیشت دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔بھارتی حکومت کے دعووں کے مطابق 2014 میں بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار 6.9 فی صد تھی جوکہ 2015 میں 7.3 فی صد تک پہنچ گئ،2016  میں ترقی کی یہ رفتار 8 فی صد تک پہنچ گئی ۔ایشین بینک کی رپورٹ کے مطابق2017 میں ترقی کی یہ رفتار7 فی صد سے لے کر 7.4 فی صد ہونے کا امکان ہے۔فی کس آمدنی جو کہ2014 میں 88,533 بھارتی روپے تھی 2015-2016 میں یہ آمدن بڑھ کر 93,293 ہوگئی۔ 2016-17میں یہ فی کس آمدن بڑھ کر 103,077 روپے ہوگئی۔
    معاشی ترقی کے یہ دعوےکس قدر حقیقت پر مبنی ہیں، اس کے بارے میں بھارتی حکومت ہی بہتر بتا سکتی ہے، البتہ یوسفی نے کہیں لکھا تھا کہ جھوٹ تین طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک جھوٹ دوسرا سفید جھوٹ اور تیسرا سرکاری اعداد وشمار۔حالیہ دنوں میں ایک سروے شائع ہوا ہے۔ اس سروے کے مطابق جمہوریہ بھارت میں غریب اور بھوکے بچوں کی تعداد آمریت زدہ شمالی کوریا سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سروے کے لئے 119 ممالک کا انتخاب کیا گیا ۔ اس سروے کے مطابق شمالی کوریا کی درجہ بندی بھارت سے سات درجے بہتر تھی، جب کہ بھارت اس فہرست کے آخر میں موجود افغانستان سے سات درجے بہتر تھا۔اس سروے کو تیار کرنے والے ادارے نے سروے کو تیار کرتے ہوئے بچوں کے لئے خوراک کی عدم دستیابی ، چھوٹے بچوں میں شرح اموات اور ان کی صحت کے لئے دستیاب سہولتوں کو مدنظر رکھا۔
    اس سروے کے مطابق وقت کے ساتھ ساتھ غریب اور بھوکے بھارتی بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔لگتا یوں ہے کہ بھارتی معیشت کی ترقی کے یہ دعوے ان بچوں کو چھو کر بھی نہیں گزرے۔مودی کے "خوش حال بھارت” میں بھوکے بچوں کی اتنی بڑی تعداد شاید کچھ لوگوں کے لئے اچنبھے کا باعث ہو کیونکہ بین الاقوامی سطح پر تو بھارتی خوش حالی کا بھونپو بجایا جا رہا ہے اور اسے سرمایہ کاروں کے لئے آئیڈیل ملک کہا جارہا ہے، لیکن زمینی حقائق بہرطور بھارتی معیشت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول رہے ہیں۔

    اگر اس سارے معاملے کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ بھوکے اور غریب بھارتی بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا مسئلہ خاصا پرانا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے جس میں کچھ لوگ ملکی وسائل کے بڑے حصے پر قابض ہیں اور آبادی کی اکثریت کے لیے کچھ بھی نہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق آج کے بھارت میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم "تقسیم ہند” سے کہیں زیادہ ہے۔
    حیران کن بات تو یہ ہے کہ بھوکے اور غریب بھارتی بچوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد پالیسی ساز وں کے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پالیسی سازی اور حکمرانی امراء کے ہاتھ ہے جن کے لئے "مریخ پر راکٹ” بھیجنا جیسے نمائشی کام غربت ختم یاکم کرنے سے زیادہ اہم ہیں۔ ان کے لیے بڑھتی ہوئی غربت، بچوں کے لئے صحت اور تعلیمی سہولتوں کی کمیابی سے زیادہ جی فور موبائل کا حصول اور تھائی لینڈ میں چھٹیاں گزارنا  اہم ہے۔بڑھتی ہوئی غربت میں اضافے کی ایک اور وجہ ان لوگوں کے مذہبی عقائد بھی ہیں جس میں اپنی موجودہ حالت کو بہتر بنانے سے زیادہ دیوتاؤں کو خوش رکھنا زیادہ ضروری ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ اولاد ان کے دیوتاؤں کی مہربانی ہے اور وہ ہی ان کے حالات کو بہتر بنائیں گے۔

    ان لوگوں کے مزہبی عقائد اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر بھارت ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے ملکی وسائل کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا ۔ ملکی پالیسی سازی میں پسماندہ اور پسے ہوئے لوگوں کو شامل کرنا ہوگا تاکہ ملکی ترقی کے یہ ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ پائیں ورنہ ملکی ترقی کے یہ سب دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبنیادی جمہوریت کا استرداد
    Next Article علامہ محمد اقبال اور آزادی افکار
    عاصم اعجاز

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by