Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ہزارہ قوم کی شناخت بدلنے کو ہے
    کالم

    ہزارہ قوم کی شناخت بدلنے کو ہے

    میمونہ سعیدBy میمونہ سعیدجولائی 27, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    شاہدہ عباسی ہزارہ کا تعلق کوئٹہ کے ہزارہ ٹاون سے ہے جہاں افغانستان سے تعلق رکھنے والی ہزارہ کمیونٹی بستی ہے ۔ یہ وہ علاقہ ہے جو دو دہائیوں سے فرقہ وارانہ دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے ، 2009ء کے دوران ہزارہ افراد کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ۔ کوئٹہ سے براستہ ایران مقدس مقامات کی زیارت کو جانے والی بسوں سے زائرین کو اتار کر مخصوص خدوخال اور سرخ و سفید رنگ سے پہچانے جانے والے ہزارہ افراد کوشناخت کے بعد وہیں قتل کر دیا جاتا ۔

     خوف اور دہشت کی اس فضاء سے ، شاہدہ ہزارہ ، 2006ء میں ہی کراٹے سیکھنے کا فیصلہ کر چکی تھی اور اپنے ٹاون کے ایک کلب ، ہزارہ شوتکان کراٹے اکیڈمی میں استاد غلام علی ہزارہ کی شاگرد بن چکی تھیں لیکن جب فرقہ وارانہ دہشت گردی عروج پر پہنچی اور معاملہ ، ہزارہ افراد کی نسل کشی تک جاتا نظر آیا تو 2009ء سے ہی ، شاہدہ نے اسی کراٹے کلب میں دوسری لڑکیوں کو بھی کراٹے کی تربیت دینا شروع کر دی ۔ 22 سالہ شاہدہ کاتا کراٹے کی ماہر تربیت یافتہ ہو چکی ہیں ۔  (کاتا کراٹے ، کراٹے سے ذاتی دفاع کرنے کی ایک قسم ہے ) شاہدہ سے میری بات ہوئی ، تو ہزارہ فارسی لہجے میں اردو زبان میں بات کرتے ہوئے شاہدہ نے بتایا کہ جب اس نے کراٹے سیکھنے کا فیصلہ کیا تو کسی کو یہ بات پسند نہ آئی ۔ خاندان اور کمیونٹی کے دوسرے افراد کی جانب سے تنقید کا سامنا رہا لیکن جیسے جیسے ان کے قبیلہ کو شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑا تو بہت سے افراد نے اپنے ذہنوں کو تبدیل کیا اور مجھے دیکھتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو کراٹے سکھانا شروع کئے ۔

    اس وقت پاکستان کے پاس ، شاہدہ ہزارہ کی بدولت  ، واحد بین الاقوامی خاتون کاتا کراٹے کھلاڑی ہونے کا اعزاز ہے ۔

    وہ 2016ء میں انڈیا میں ہونے والی ساؤتھ ایشین گیمز میں چاندی اور تابنے کے تمغہ بھی جیت چکی ، ملکی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر منعقدہ مقابلوں میں سونے کے تمغے جیت کر  شاہدہ نے ، یہ ثابت کیا کہ ہزارہ افراد اپنے خلاف ہونے والی فرقہ وارانہ دہشت گردی کا جواب ، جنگ سے نہیں بلکہ امن کا راستہ اپنا کر دیں گے ۔

     16 فروری 2013ء کو ہزارہ ٹاون میں ٹینک میں باردو بھر کر ہونے والے دھماکہ کی ذمہ داری تنظیم لشکر جھنگوی نے قبول کی ۔ یہ دھماکہ شاہدہ کے گھر کے انتہائی قریب ہوا ۔ اس وقت شاہدہ لینگوئج سنٹر میں پڑھنے گئی ہوتی تھی جو اس کے گھر سے 5 میل دور تھا ۔ شاہدہ کا کہنا ہے کہ جب وہ گھر جا رہی تھی تو راستے میں خون اور لاشوں کے سوا اور کچھ نہ تھا ، ہر جانب افرا تفری تھی شاہدہ کے ساتھ دوسری لڑکیاں بھی انسانی اعضاء دیکھ کر انتہائی خوفزدہ ہو گئیں ۔ اس واقعہ پر ہزارہ ٹاون کے رہائشیوں نے جب لاشوں سمیت دھرنا دیا ، ان احتجاج کرنے والوں میں شاہدہ خود بھی شریک تھیں ۔  واقعہ کے ایک سال تک ہزارہ ٹاون میں دہشت طاری رہی ۔ خواتین تو کیا مرد بھی گھر میں محدود ہو چکے تھے اور اب تک یہ خوف کم نہیں ہو سکا ۔ ہزارہ افراد نے اپنے ٹاون کی سیکورٹی کا انتظام بھی خود سے کر رکھا ہے اور وہ اپنے علاقہ کے علاوہ کہیں آزادنہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے ۔ ایسی فضاء ذہنی اور نفسیاتی دباو کا باعث ہے ۔ پہلے صرف مردوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا لیکن اب دہشت گرد بلاتفریق کارروائی کرتے ہوئے ہزارہ خواتین کو بھی ہدف بنا رہے ہیں ۔ 19 جولائی کو بلوچستان کے علاقہ مستونگ میں پیش آنے والا واقعہ اسی کی مثال ہے جس میں کوئٹہ سے کراچی جانے والی کار میں سوار خاتون رخسانہ سمیت 4 افراد کی جان لے لی گئی بعد میں مقتول افراد کی شناخت کوئٹہ ، ہزارہ ٹاون کے ایک ہی خاندان سے ہوئی  ، کسی دوسرے کے مذہبی عقائد کے ساتھ نفرت ، کا اظہار انہیں قتل کر کے کرنا ،  نہایت غیر انسانی فعل ہے جس پر ہزارہ خواتین کہتی ہیں کہ اگر کسی کو ہمارے مذہبی عقائد پر اعتراض ہے تو سامنے آئیں اور کھل کر بات کریں ، لیکن اگر وہ یہ سمجھیں کہ اس سے ہزارہ افراد گھبرا جائیں گے تو غلط ہے ، موجودہ صورتحال نے ہمیں مضبوط کیا ہے اور  مرد تو کیا ، اب ہزارہ خواتین بھی اپنے دفاع کے لئے پرعزم ہیں یہی وجہ ہے کہ کراٹے کلب میں خواتین کو کراٹے سکھانا بند کئے جائیں جیسی بارہا مختلف انداز سے موصول ہونے والی دھمکیوں کے باوجود  ذاتی دفاع کرنے کے لئے 35 ، لڑکیاں کراٹے میں بلیک بیلٹ ہو چکی ہیں جو تمام ہزارہ ہیں اور میں زیادہ تر وہ خواتین شامل ہیں جن کے خاندان کے افراد دہشت گردی کی بھینٹ براہ راست چڑھ چکے ہیں ، قومی وویمن کراٹے ٹیم ، میں شاہدہ کے ساتھ دو اور کھلاڑی لڑکیاں ناز گل اور نرگس بھی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہیں ۔  شاہدہ آج کل رواں سال ماہ آگست سری لنکا میں ہونے والے چوتھے ساؤتھ ایشین گیمز میں حصئہ لینے کی تیاریوں میں ہیں ۔ شاہدہ کا کہنا ہے کہ جلد ، ہزارہ قوم کی شناخت ، فرقہ وارانہ دہشت گردی کا شکار شعیہ مسلم قیبلہ سے نہیں بلکہ آئندہ اولمپکس میں پاکستان کے لئے کراٹے میں پہلا ٹائٹل اپنے نام کرنے والی ہزارہ خواتین  سے ہو گی ۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے کیوں ناخوش ہے ؟
    Next Article اقتدار و اختیار کی کشمکش
    میمونہ سعید

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by