Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے کیوں ناخوش ہے ؟
    کالم

    ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے کیوں ناخوش ہے ؟

    سرتاج خانBy سرتاج خانجولائی 26, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    امریکہ کوپاکستان کی طرف سے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے میں کردارادا کرنے پربھی سراہاگیاہے۔ جس کامقصد افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن کی راہیں تلاش کرناہیں۔

    امریکی کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے جائزہ رپورٹ برائے سال 2016کے سامنے آنے کے بعد ابتدائی اقدام کے طورپرپاکستان کوامریکی جنگ کاساتھ دینے کے صلہ میں ملنے والی امداد کے پانچ کروڑڈالرزکی امداد روکنے کافیصلہ کیاگیاہے۔ اس کی اہم وجہ امریکی وزیردفاع جیمزمیٹس نے پاکستان کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ناکافی اقدامات کوٹھہرایاہے۔ ہرسال وزیردفاع کوکانگریس کوبتاناپڑتاہےکہ پاکستان نے دہشت کے خلاف جنگ میں امریکہ کوکس حدتک سپورٹ کیاہے ۔ اگرچہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پینٹاگون نے پاکستان کے لئے فوجی امدادی رقم روکی مگریہ غالباً گزشتہ 16سال میں پہلی مرتبہ کسی امریکی وزیردفاع نے پاکستانی کوششوں پراس قدرکھل کرعدم اعتماد کااظہارکیاہے۔ اوریہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ حکومت کے تحت پہلی رپورٹ کے بعداٹھایاگیا ہے۔ وزیردفاع نے کہاکہ وہ اس امرکی تصدیق کرنے سے قاصرہے کہ پاکستان اس معیارپرپورااتراجس کی توقع امریکی حکومت کرتی ہے۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ موجودہ امریکی حکومت کارویہ ماضی کی  نسبت سخت ترہوتاجارہاہے۔ اس اقدام کے پیچھے وہ رپورٹ ہے جوانسداد دہشت گردی اورمتشدد شدت پسندی کے بیوروکی طرف سے 2016کے جائزہ میں پیش کیاگیاہے۔

    افغانستان اورپاکستان سے متعلق رپورٹ اس کے ’’باب دوم، جنوبی اوروسطی ایشیاء‘‘ میں ہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ اگرچہ القاعدہ کی پاکستان اورافغانستان میں سخت زوال پذیری دیکھنے میں آئی، پھربھی اس کی عالمی سطح کی باقیات پرمنبی لیڈرشپ خطے میں کاروائیوں کو دورسے کنٹرول کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان کے جارحانہ حملے جاری ہیں۔ جس میں خاص کرحقانی نیٹ ورک اوردیگردہشت گرد گروپ شامل ہیں۔ حقانی نیٹ کیلئے پاکستان کی حمایت  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کئی ایک حملوں کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوتی ہے  بلکہ یہ پاکستان سے کئے جاتے ہیں جہاں اس کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔

    پاکستان کے اندردہشت گردی کی حقیقت کوتسلیم کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق تشدد میں دوسرے سال بھی مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود غیرمحفوظ سویلین اورحکومت اب بھی دہشت گردوں کے نشانے پرہیں، اوروہ ان سے متاثربھی ہیں۔ پاکستانی فوج اورسیکورٹی فورسزنے ملک کے اندر سرگرم گروپوں جیسے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن کئے۔ لیکن پاکستان نے افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطرخواہ اقدامات نہیں کئے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ملک کے اندرطالبان کے خلاف پاکستانی فوج اورحکومت کے اقدامات سے توخاصی حدتک مطمئن ہے مگراس کواعتراض افغانستان کے اندرمتحرک گروپوں کے پاکستان سے ملحقہ سرحدی پٹی فاٹا میں محفوظ ٹھکانوں اوروہاں سے کاروائیوں پر ہے۔ رپورٹ کےمطابق پاکستان، افغانستان میں امریکہ مفادات کودرپیش خطرات کاتدارک نہ کرسکایا نہیں کرناچاہتا۔ دوسری طرف امریکہ تسلیم کرتاہے کہ پاکستان نے افغانستان میں امن کی خاطرہونے والی کوششوں میں ہاتھ بٹایاہے۔ امریکہ کوشکوہ ہے کہ پاکستان نے لشکرطیبہ اورجیش محمد جیسی تنظیموں کے خلاف 2016میں کچھ نہیں کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیمیں نہ صرف اس دوران متحرک رہیں بلکہ یہ تربیت اورچندہ جمع کرنے جیسے کھلے عام امورمیں بھی آزادی کے ساتھ مصروف رہیں۔

    پاکستان سے متعلق رپورٹ کی ابتداء مثبت اندازمیں کرتے ہوئے اسے 2016میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم پارٹنرکے طورپرپیش کرنے سے کی گئی ہے۔ پاکستان کی اندرونی صورتحال سے ابتداء کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں نےسویلین، سرکاری اہلکاراور مذہبی اقلیتوں کو ہدف بنایا۔ بڑے دہشت گردوں گروپوں میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الااحرار اورفرقہ پرست لشکرجھنگوی، اورداعش گردانے گئے۔رپورٹ میں پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے نتائج کوملاجلاقراردیاگیاہے۔ مدارس کوقابوکرنے، دہشت گردوں کی فنڈنگ اورنیکٹا کوبااخیتاربنانے جیسے اقدامات کوسست روی کاشکاربتایاگیاہے۔

    امریکہ کوپاکستان کی طرف سے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے میں کردارادا کرنے پربھی سراہاگیاہے۔ جس کامقصد افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن کی راہیں تلاش کرناہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہی اس امرپرناامیدی اورناپسندیدگی ظاہرکی گئی ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اورحقانی نیٹ ورک کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے میں سنجیدگی نہیں دکھائی۔ عام طورپرکہاجاتاہے کہ حقانی نیٹ ورک فاٹاکےایک سے زائد علاقوں میں متحرک ہوکر کام کرتاہے۔ جبکہ افغان طالبان کاہیڈکوارٹرکوئٹہ کے قریب کچلاک میں بتایاجاتاہے، جہاں سے اس کے اعلانات برملاسامنے آتے ہیں اوران میں اختلافات اورجھگڑوں کی خبریں بھی آتی ہیں۔

    ایک اہم نکتہ جوا س رپورٹ میں اٹھاگیاہے وہ یہ ہے کہ پاکستان داعش (آئی ایس آئی ایس) کے خلاف گلوبل کولیشن کاحصہ نہ بنا، اگرچہ پاکستان نے 2015میں اس تنظیم کودہشت گرد قراردے دیاتھااوراس کےخلاف خاطرخواہ کارروائیاں بھی کی گئیں۔

    امریکہ انتظامیہ نے البتہ اس امرکی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سے متعلق مستقل پالیسی کاحصہ نہیں ہے۔ یہ محض سال 2016میں پاکستان کے اقدامات کے جائزہ رپورٹ کے پس منظرمیں اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔ البتہ اخباری بیانات اورماہرین کی رائے سے ظاہرہوتاہے کہ مستقبل قریب میں بھی پاکستان کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کاسخت موقف برقراررہنے کی توقع ہے۔

    رپورٹ کے منظرعام آنے کے بعد پاکستان کی فوجی امدادمیں بندش اورالزامات کی توقع کی جارہی تھی۔ ٹرمپ انتظامیہ مسلسل پاکستان پرسرحد پارپڑوسی ممالک جیسے انڈیا اورافغانستان میں دہشت گردی کوسپورٹ کرنے کاالزام دیتے رہے ہیں۔ یہ پاکستانی فوج پردباوبڑھانےکے سلسلہ میں اٹھائے گئے اقدامات کاحصہ ہے۔ کیونکہ عام طورپرکہاجاتاہے کہ افغان ،انڈیا اورجغرافیائی حوالے  سے  فیصلے فوج کرتی ہے ۔ اگرچہ امریکی انتظامیہ کی 2016کی رپورٹ  میں کوئی نیا انکشاف نہیں کیاگیاجوچیزنئی ہے وہ نتیجہ کے طورپر پاکستان پرکھلے عدم اعتماد کااظہارکرتے ہوئے  امدادکی بندش کااعلان ہے۔

    مضمون نگارکراچی میں مقیم محقق ہے۔

    Sartaj2000@yahoo.com

    Tweet: @sartajku

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleقومی مفاد اور احتساب سب کا
    Next Article ہزارہ قوم کی شناخت بدلنے کو ہے
    سرتاج خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by