Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»یہ دہشت کیسے تھمے گی؟
    کالم

    یہ دہشت کیسے تھمے گی؟

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامارچ 10, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مغرب میں ہونے والے دہشت گردی کے ان واقعات کو داعش کے پھیلاؤ اور اثر و نفوذ سے جوڑا جاتا ہے لیکن پیرس اور کیلی فورنیا کے واقعات سے منسلک دو پہلو اہم ہیں۔ ایک مختلف النوع پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصاً خواتین کا دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونا اور دوسرا مذہبی اداروں کا کردار، جیسا کہ تاشفین ملک کے سلسلے میں الھدیٰ کا ذکر عام ہوا ہے۔

    پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں یہ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ اس کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں اور ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عامل ہے جو فرد کی یک دم تقلیب کر دیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔

    غیر عسکری مذہبی تحریکیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالف کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ مثلاً پاکستان میں دہشت گردی کے بارے میں تو یہ تحریکیں اور جماعتیں تقریباً اتفاق کرتی ہیں کہ یہاں پر یہ عمل جائز نہیں۔ لیکن دیگر ممالک حتیٰ کہ مسلم ممالک کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر مختلف ہے۔ دہشت گرد رہنماؤں کی تکفیر سے اجتناب کرتی ہیں۔ ایسے بے شمار تضادات اور ابہامات ان جماعتوں کے پیروکاروں میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتے ہیں اور وہ واضح نقطہ نظر کی تحریکوں جو کہ عموماً عسکری نوعیت کی ہیں اور دہشت گردی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتی ہیں کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں۔

    مذہبی جماعتیں اور تحریکیں اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔

    یہ مسئلے کے ادارک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ مذہبی ادارے پاکستان میں ایک مذہبی سماج کو تشکیل دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور مذہبیت کے رجحانات فروغ پذیر ہیں لیکن مذہبی رجحانات کو دہشت گردی کی دیمک سے شدید خطرات لاحق ہیں اس کا ادارک تمام مذہبی اداروں اور تحریکوں کو کرنا پڑے گا خواہ ان کا تعلق جدید اسلامی رجحانات کی تشکیل کرنے والے اداروں سے ہو یا روایتی مذہبی اداروں سے، ان کی مشترکہ کاوشوں کے بغیر مذہبی سماج کو دہشت گردی کے طوفان سے نہیں بچایا جا سکتا۔ اندازہ ہو جانا چاہیے کہ بات تاشفین ملک اور الھدیٰ تک پہنچ چکی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپیرس کے واقعات اور اہل اسلام
    Next Article نیشنل ایکشن پلان اور دینی مدارس کا قضیّہ: خدشات، امکانات اور عملی تجاویز
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by