Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تراجم»مکالمے کی گھٹتی ہوئی گنجائش
    تراجم

    مکالمے کی گھٹتی ہوئی گنجائش

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامئی 24, 2023Updated:جولائی 22, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read7 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ملک میں جاری حالیہ بحران کے دوران پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے مفاہمت کی بچی کھچی گنجائش کو بھی ضائع کردیا ہے۔ سیاسی انجینئرنگ کا ایک اور ظالمانہ دور قریب نظر آتا نظر آرہا ہے۔ بظاہر لگ رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ ان تمام عناصر کی بیخ کُنی کے لیے تیار بیٹھی ہے جو اس کے غلبے کو چیلنج  کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں۔اسٹبلشمنٹ ان کی راہ میں مزاحم ہونے  کی مقدور بھر کوشش کررہی ہے۔ اس بات سے قطعِ نظر کہ   اکھاڑ پچھاڑ کی اس جنگ میں کون جیتتا ہے، ایک بات طے ہے کہ شکست کھانے والے یہ ملک اور اس کے عوام ہی ہوں گے۔

    اسٹبلشمنٹ کا غصہ قابلِ فہم ہے کیوں کہ انہیں چیلنج کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ اسی کا سابقہ پسندیدہ وزیرِ اعظم ہے جو اب  ان کے اس نظام کو تلپٹ کرنے کے در پہ ہے جو وہ  ترتیب دینا چاہتی ہے۔ یہ سب کچھ پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔ اسٹبلشمنٹ کی یاد داشت میں  اس طرح کی  کئی تلخ یادیں ہیں  جن سے اس نے اپنے انداز میں نمٹنے کی کوشش کی۔البتہ عمران خان مزاحمت اس حد تک لے گیا ہے جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں ملتی۔جب اس کی گرفتاری کے بعد پُرتشدد واقعات ہونا  شروع ہوئے تو اسٹبلشمنٹ نے مفاہمت یا مکالمے کے لیے کوئی امکان یا گنجائش ظاہر نہیں کی۔ کچھ مبصروں نے موجودہ صورتحال کا عرب بہار کے بعد کے مصر یا میانمار میں جاری حالیہ سیاسی بحران سے موازنہ کیا ہے۔ مصر میں فوج نے بالآخر اخوان  کو شکست دی اور میانمار میں فوج نے آنگ سان سو کی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کو حاشیے میں دھکیل دیا۔ امید کی جاتی ہے کہ ایسا کچھ پاکستان میں نہیں ہوگا کیوں کہ یہاں کا سیاق و سباق اور حالات مکمل طور پر مختلف ہیں۔

    کچھ لوگ موجودہ صورتحال کا 1971 کے بحران سے بھی موازنہ کرتے ہیں کیوں  کہ عموماً ایسے بحرانوں  کے درمیان سیاسی   ذہنیت اسی طرح کی انتہاؤں کو  پہنچ جاتی ہے۔ اگر سیاسی اور فوجی قیادت نے افہام و تفہیم کا راستہ اپنایا ہوتا  تو تاریخ آج بہت مختلف ہوتی۔  یہ ایک عام آدمی کی سمجھ بوجھ  ہے جو کہ شاید درست ہو۔ آج کی سیاسی افراتفری 1971 کے حالات سے مختلف ہے مگر  ملک کی معاشی اور سفارتی  مشکلات  بد تر ہیں۔پاکستان کے وہ قریبی دوست جنہوں نے 1970 کی دہائی میں  مدد کا ہاتھ بڑھایا تھا وہ بھی آج پاکستان کے حالات سے پریشان ہوں گے۔بہرحال ہر کسی کا   ملک کے حکمران اشرافیہ سے اپنے تعلقات کی تلخ یادیں ہوتی ہیں جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ شاید وہ سب سے زیادہ چالاک ہو۔

    کوئی بھی  ملک اندرونی اتحاد سے اپنی قوت حاصل کرتا ہے۔ تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار حکومتی اشرافیہ  اپنے ماتحتوں یا سماج میں اتحاد پیدا نہیں کرسکتا۔ایسی اشرافیہ تقسیم سے طاقت حاصل کرتی ہے اور ان میں سے طاقتور ایسا نظام مرتب کرتے ہیں جس میں طاقت کا خود ان کے بیچ بندر بانٹ ہوتا ہے اور یوں ان کے اپنے مفادات کی حفاظت ہوتی ہے۔ مذاکرات اور مکالمہ ایسا آلہ ہے جس سے طاقت کی منصفانہ تقسیم ہوتی ہے مگر طاقتور لوگ اپنی طاقت تقسیم کرنا نہیں چاہتے۔ اسٹبلشمنٹ اور عمران خان دونوں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاقتور ہیں ۔ اس لیے اسٹبلشمنٹ عمران خان سے مکالمے کے لیے در وا نہیں کرنا چاہتی  اور  عمران خان  پی ڈی ایم کی قیادت میں موجود اتحادی حکومت سے بات کرنے کو تیار نہیں۔

    عمران خان اپنے خود ساختہ یقین پر انحصار کرتا ہے  اور عوامیت پسند بیانیے کے ذریعے متاثر کُن حمایت حاصل کی ہے۔ وہ ملک میں سیاسی اداروں کو مضبوط کرنا نہیں چاہتا جو جو حکمرانوں کو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ بہتر انداز میں   گفت و شنید کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ وہ اپنے سیاسی  سرمایے کو تقسیم کرنا نہیں چاہتا۔ اپنے زہریلے بیانیے کے ذریعے انہوں نے پی ڈی ایم کو اسٹبلشمنٹ کے بہت قریب دھکیل دیا ہے۔

    لگتا ہے عمران خان  پی ڈی ایم اور اسٹبلشمنٹ  کو  کرپشن کے خلاف اپنے بیانیے میں قصداً ایک ساتھ باندھ رہا ہے۔ وہ اسٹبلشمنٹ کو اس موڑ تک دھکیل دینا چاہتا ہے جہاں اس کے پاس آئین توڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ بچے۔بلاشبہ اسٹبلشمنٹ ایک تجربہ کار سیاسی کردار ہے  اور عمران خان کی طاقت کو کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ نتیجہ جو بھی ہو مگر  سیاسی مبصرین یہ کہتے ہوئے کچھ زیادہ غلط نہیں ہیں کہ اس کھیل میں واضح طور پر جیتنے اورہارنے والا کوئی نہیں ہے۔

    موجودہ تنازعات   مفاہمت کے عمل میں  رکاوٹ ہیں اور پاکستان مسلم لیگ ن  ‘سیاسی انجینئرنگ کے عمل’ میں تحریکِ انصاف کو بھی اسی طریقے سے نشانہ بناتے  ہوئے دیکھ کر خوش ہوگی جس طرح 2018 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو نشانہ  بنایا  گیا تھا۔ جب خود سیاسی جماعتوں کے  اندر جمہوری فضا کا فقدان ہو تو ان کا اسٹبلشمنٹ پہ انحصار بڑھ جاتا ہے اور وہ دور اندیشی پر مبنی فیصلے کرنے سے قاصر ہوتی ہیں۔

    ایسی صورتِ حال میں چھوٹی سیاسی جماعتیں مداخلت نہیں کرتیں اور اس بحران میں چھپے مواقعوں کی تلاش میں ہوتی ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی سے زیادہ مفاہمت اور تصفیے کی اہمیت سے کون آگاہ ہوگا جن کے  مرحوم قائد  نے نہ صرف اس موضوع  پر  "Islam, Democracy, and the West” کے نام سے ایک کتاب لکھی بلکہ اپنی جماعت کے سب بڑے حریف مسلم لیگ ن  کے ساتھ  میثاقِ جمہوریت پر بھی دستخط کیا  اور فوجی آمر جنرل مشرف کے ساتھ تصفیہ کرکے سیاست کے لیے گنجائش پیدا کی۔ البتہ یہ جماعت اب محتاط ہے اور اپنے آپ کو مستقبل میں  اسٹبلشمنٹ کا انتخاب سمجھ کر تصفیے اور مفاہمت کے لیے محض دھیمی آواز میں بات کررہی ہے  ۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں سیاسی  انجینئرنگ میں دوسری جماعتوں  کی تباہی سے سبق نہیں سیکھتیں۔ یہ منحوس چکر معاشرے  اور اس کے سماجی  خصوصیات  کو کمزور کررہا ہے۔ اسٹبلشمنٹ سمیت تمام سیاسی کردار اپنے مفادات  کی سرمایہ کاری کررہے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ ریاست اور اس کے ادارے  بگاڑ کا شکار ہوکر اعتماد کھو رہے ہیں جو ملک کی   سلامتی کی بنیادی ضرورت ہے۔

    اشرافیہ  زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرنے کے لیے عوامی حمایت  کا استعمال کرتے ہوئے طاقت کا کھیل کھیل رہی ہے۔ اگر عوام کا اعتبار اس نظام سے اٹھ گیا اور وہ  تماشا بین بن گئے تو  یہ انہیں مزید اجنبی بنائے گا۔ ایسے میں مذہبی شدت پسندی مزید بڑھے گی۔ابھی تک  شدت پسند   اسٹبلشمنٹ اور سیاسی کرداروں کو صرف تنگ کر رہے ہیں لیکن جیسے ہی انہیں معلوم ہوتا ہےکہ ایک وسیع خلا پیدا ہوچکی ہے، وہ آگے بڑھ کر یہ خلا بھرنے میں ہچکچاہت محسوس نہیں کریں گے۔اس بات کا خدشہ پاکستان کے کئی دوستوں کو ہے۔  ان کا  حکمران اشرافیہ    کے ملک سے متعلق رویے  کے حوالے سے خدشات ہوسکتے ہیں البتہ شدت پسندی معاشرے  کے منطقی انداز میں سوچنے کی صلاحیت کو مفقود کردے گی اور حکمران طبقہ مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا۔

    پوچھنے پر سیاسی اقتصادیات کے بعض ماہرین بتاتے ہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار حکمران طبقہ شدت پسندی سے زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ ایسے میں  اشرافیہ میں سے کچھ عناصر کمزور اور منجمد جمہوری اداروں کے خلاف گروہ بندی کرسکتےہیں۔اگر کوئی ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے باوجود  ہنوز پُرامید ہے تو اسے Fragile States Index کا قریب سے مشاہد کرنا چاہیے۔ منقسم سیاسی طبقے کی حامل ریاستیں ضروری نہیں کہ ٹوٹ جائیں مگر ان کے  معاشرتی اور معاشی اشاریے  کمزور رہتے ہیں۔

    Muhammad Amir Rana Political Dialogue in Pakistan
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleطارق فتح کا مسئلہ کیا تھا؟
    Next Article پشتون قوم پرست اور مذہبی طبقے کے کرنے کا کام
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    ایران جنگ شیعہ عسکریت پسندی اور عالمی جہاد کی نئی لہر

    جون 12, 2026

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by