Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سیاسی کمال کی امید میں لکھا گیا کالم
    کالم

    سیاسی کمال کی امید میں لکھا گیا کالم

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانافروری 19, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

     

    ‎کئی بار ملتوی کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی جان سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ کانفرنس کا مقصد دہشت گردی اور معاشی بحران سمیت ملک کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال اور اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ شائد حکومت کو احساس ہوا ہے کہ اے پی سی قومی امور کے بجائے نئے انتخابات کا بکھیڑا اٹھا دے۔ اس کی دلچسپی اس لئے بھی کم ہو گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں منی بجٹ (ضمنی مالیاتی بل 2023) پیش کر دیا گیا ہے جس کی منظوری جلد ہی دے دی جائے گی۔ دوسری طرف سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ اس کانفرنس کے ملتوی ہونے سے

    ‎یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں ‘قومی اتفاق رائے’ کی اصطلاح کو محض بیان بازی کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اس عمل پر حقیقی طور پر یقین نہیں رکھتا۔ اداروں کے اندر بڑھتے ہوئے تناوُ اور سیاسی بحران نے ملک کو مکمل افراتفری کی طرف دھکیل دیا ہے۔ قومی بساط پر ایک آپادھاپی مچی ہے۔ صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ایک حکمران جماعت کی چیف آرگنائزر حکومت کے فیصلوں سے خود کو بری الذمہ قرار دی رہی ہیں۔ اداروں کو ان کی حدود میں رکھنے اور کلیدی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع البنیاد مذاکرات شروع کرنے کا اس سے بہتر وقت کبھی نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ قومی امور پر مکالمے کے لئے بہترین جگہ پارلیمنٹ ہے لیکن سیاسی جماعتیں خود پارلیمنٹ پر یقین نہیں رکھتیں اور ہمیشہ پارلیمٹ سے باہر اور آئین سے ماورا ڈیل کرنا آسان سمجھتی ہیں۔

     

    ‎جب بلاول بھٹو زرداری پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ضابطہ اخلاق کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تو وہ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ان کی اپنی جماعت کا اسپیکر ایوان کو کیسے چلا رہاہے۔ سیاسی ڈیل اور مکالمے کو الگ کر کے دیکھنا چاہیے۔ مکالمہ ایک تہذیبی قدر ہے، اور ڈیل لین دین کا طریقہ ہے، لیکن دونوں ایک ساتھ چل سکتے ہیں اگر مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان سماجی معاہدے پر نظر ثانی کرنی ہو یا اسے مضبوط کرنا ہو۔ عمران خان ایسے کسی بھی عمل کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کی پارٹی آئندہ انتخابات میں کامیاب ہو گی، کیونکہ وہ مقبول ہیں اور انہوں نے مرکزی دھارے کی تین جماعتوں کے خلاف کامیابی سے اپنا ماسٹر بیانیہ تیار کر لیا ہے۔ شاید حکمران اتحاد میں سے کسی نے بھی ان سے مذاکرات کے لیے براہ راست رابطہ نہیں کیا اور خان اسے مخالفین کی بڑی کمزوری کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ طاقت کا مرکز کہاں ہے اور وہ ان کے ساتھ براہ راست تعامل چاہتے ہیں۔ شاید سیاسی جماعتوں کے اندر براہ راست رابطے اعتماد کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں اور بات چیت کا دروازہ کھول سکتے ہیں لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں باہمی مکالمے پر یقین رکھتی ہوں۔

     

    ‎اب تو پاکستان میں نوابزادہ نصراللہ خان جیسی ثالثی شخصیت نہیں رہی ہے جو ثالثی کر کے سیاسی مخالفین کو میز پر لا سکے۔ وہ لوگ جو پارٹیوں میں سائیڈ لائن ہیں یا زیادہ حساس ہیں انہوں نے ‘ری امیجنگ پاکستان’ مہم کا آغاز کیا ہے۔ اگر وہ قومی مکالمہ شروع کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں لگا دیتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔ کم از کم کچھ سمجھدار آوازیں ملک کے سیاسی منظر نامے پر ہلچل مچا سکتی تھیں۔

     

    ‎تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں حکمران اتحاد کا حصہ ہیں، سوائے پی ٹی آئی، جماعت اسلامی (جے آئی) اور چند دیگر چھوٹی جماعتوں کے۔ پی ٹی آئی اور جے آئی کے بغیر اے پی سی حکمران جماعتوں کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس کی طرح نظر آئے گی۔ اگر حکومت کثیر الجماعتی اجلاس بلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے پی ٹی آئی شمولیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ اس کے برعکس، اگر پی ٹی آئی واقعی اسٹیبلشمنٹ سے خائف ہے تو وہ خود اس طرح کی اے پی سی بلا سکتی ہے۔

     

    ‎قومی نوعیت کے سیاسی مکالمے کا ایجنڈا ترتیب دینا بہت اہم ہو تا ہے کیونکہ یہ نتائج کا تعین کرتا ہے، اور اس کا فیصلہ صرف میزبانوں پر چھوڑنے کے بجائے اجتماعی طور پر کیا جانا چاہیے۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں ملک کو درپیش اہم چیلنجز کو کم کرنے کے لیے اپنے خیالات اور سفارشات اے پی سی سے پہلے تحریری طور پر پیش کریں تو مکالمے کو درست سمت مل سکتی ہے۔ اے پی سی معیشت، سلامتی اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے متعلق نظریات پر بحث کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے سکتی ہے اور ان خیالات کو حتمی شکل دے سکتی ہے، جنہیں پارٹی سربراہان کے اجلاس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

     

    ‎ایسی اے پی سی بلانا کوئی خیالی پلاو پکانے سے کم نہیں لگتا مگر ماضی میں سیاسی جماعتیں ایسا کر چکی ہیں۔ آخری بار 18ویں آئینی ترمیم کی تیاری کے دوران اتفاق رائے کیا گیا تھا۔ ابھی تو قومی مکالمے کا انعقاد ہوائی بات لگتی ہے لیکن اگر ایسا ہو گیا تو اے پی سی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک فعال اور تخلیقی بیوروکریسی کی ضرورت ہوگی، جس کا ملک میں کوئی وجود نہیں۔ پاکستان میں بیوروکریسی خرابی کا شکار ہے، اور سیاسی جماعتیں کو یہ کام بھی خود کرنا ہو گا-اور سفارشات کو ایک قابل عمل دستاویز میں ڈھالنا ہوگا- اصل چیلنج اتفاق رائے ہے۔ ایک کمزور حکومت ایک شاندار خیال کو خراب کر سکتی ہے، لیکن ایک مضبوط حکومت بدترین پالیسیوں کو نافذ کر سکتی ہے۔

     

    ‎سیاسی اتفاق رائے حکومت اور بیوروکریسی کے لیے کام کو آسان بنا دیتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور دیگر ادارے متفقہ فیصلوں کو تبدیل کرنے سے گریزاں رہتے ہیں، جیسا کہ 18ویں ترمیم کے معاملے میں ہوا اور آئینی ترمیم کو سبوتاژ کرنے کی بہت کوششیں کی گئی ہیں لیکن اب تک وہ ناکام ہوئے ہیں۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اٹھارویں ترمیم سی فائدہ نہیں اٹھا سکیں اور نہ ہی اس کے ثمرات نچلی سطح پر منتقل کر سکی ہیں۔

     

    ‎مکالمے کی سفارشات پر عمل درآمد کی حکمت عملی پارٹیوں کے اندر اور دوسرے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی والی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر سیاسی جماعتیں آئینی حدود میں رہیں تو کسی دوسرے ادارے کو ان کو منسوخ کرنے کی جرات نہیں ہوگی۔ سیاسی اتفاق رائے کی طاقت کا کوئی مماثلت نہیں ہے اور یہ حیرت انگیز ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں یہ کمال کرنے کو تیار ہیں؟

     

    ‎چند مستثنیات کو چھوڑ کر، پاکستان میں سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے کو جگہ دینے کی روایت نہیں ہے۔ اور نہ ہی ان کے ڈھانچے میں جمہوریت ہے۔ ملک میں ایسے کمزور سیاسی ڈھانچے سے حیران کن نتائج کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ مکالمہ تب ہی آگے بڑھتا ہے جب دلیل میں مضبوطی ہو اور یہ صرف اندرونی طاقت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

     

    ‎سیاسی جماعتوں کو قومی اہمیت کے مسائل پر بات چیت کے لیے قوت حاصل کرنے کے لیے پہلے اپنی صفوں میں مکالمے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا اور اختلاف رائے کو برداشت کرنا مکالمے کی پہلی بنیادی شرط ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمذہبی حکومت کے قیام سے واضح انکار
    Next Article تنقیدی فکر کا زوال
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by