پاکستان میں طرزِ حکومت کی نوعیت اور نہج کیا ہونی چاہیے، بانیانِ پاکستان کے ذہن میں نئی ریاست کے خدوخیال کیا تھے اور بیسویں صدی کے وسط میں دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی کسی ریاست کو اس حوالے سے معروضی طور پر کیا کیا چیلنج درپیش تھے، ان سب سوالات پر اہلِ فکر متعدد آرا رکھتے ہیں جو مختلف تو ہیں ہی، اکثر جگہ متخالف بھی ہیں۔ فرد کی شناخت سے لے کر قوم کی شناخت تک کا بحران یہیں سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سید جعفر احمد نے تاریخی تناظر میں کچھ مزید نکتے روشن کیے ہیں جو قارئینِ "تجزیات” کے لیے پیش ہیں۔ (مدیر)
اپنے قیام سے لے کر اب تک، پاکستان کئی طرح کے بحرانوں سے گزرا ہے، جو بنیادی طور پر اس کے غیر حل شدہ مسائل کے نتیجے میں پیدا ہوتے رہے ہیں۔ طاقتور مرکز اور کمزور صوبوں کے درمیان ناخوشگوار تعلقات، آمرانہ حکومتوں اور جمہوری امنگوں کے درمیان کشمکش، سول ملٹری اختلاف اور اس طرح کے دیگر عناصر قومی یکجہتی کی ضرورت کو بری طرح متاثر کرتے رہتے ہیں۔
لیکن سب سے اہم اور سب پر محیط بحران قومی تعمیر کا بحران ہے، کیونکہ ملک قومیت کے اپنے تصور کی تعمیر میں ابھی تک ناکام ہے۔ قومیت کا تصور جس کا اظہار اکثر ‘نظریہ’ کے محاورے میں کیا جاتا ہے، معاشرے کی مجموعی ضروریات کو پہچاننے، انھیں حل کرنے اور کامیابی کے ساتھ ان سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت کا متقاضی ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں میں مشترکات کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ نظریات نہ تو پہلے سے دیے گئے ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ بیرونی طور پر مرتب کیے گئے ہیں۔ نظریات انسانی ساخت ہیں، اور قومیں اپنے مادی مفاد کے جواب میں، اور اپنے تاریخی اجتماعی تجربات کی روشنی میں ان کا ارتقا کرتی ہیں۔کسی نظریے کی خوبی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ اپنے معاشرے، اپنی اخلاقیات، اپنی خواہشات اور متعین مقاصد کی بہترین نمائندگی کرتا ہے۔ نظریات کی بقاء کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ان کے معماروں نے انھیں کس طرح مناسب طریقے سے تعمیر کیا۔ ایسا نہیں کہ جیسا کہ وہ اسے موضوعی طور پر چاہتے تھے، بلکہ اس نظریہ میں ان کے سماجی و سیاسی حالات کی نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا ہوتا ہے۔
آج ہم قومی ریاستوں کی دنیا میں رہتے ہیں، جن میں سے تقریباً سبھی ریاستیں ایک نظریہ رکھنے کا دعویٰ کرتی ہیں جسے وہ اپنے شہریوں کی وفاداری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ وہ نظریات اگر مادی حقائق اور سماجی و سیاسی حالات، نظریاتی دعووں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں، تو وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، بصورت دیگر نظریات تخیلات اور تصورات کے دائرے میں رہتے ہیں اور ایسے تصورات کو لوگوں پر مسلط کرنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے نظریات معاشرے میں دراڑیں پیدا کرتے ہیں اور ریاست کو معاشرے سے دور کرتے ہیں۔ اگرچہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ایک مذہبی ملک یا تھیوکریسی نہیں رہے گا مگر ہمارا یہ خیال ہے کہ بعد کی حکومتیں قائد کے نظریات کی عکاسی کے لیے قومی بیانیہ یا نظریہ تیار کرنے میں ناکام رہیں۔
بے ثمر مشقیں
بدقسمتی سے ہمارے ملک کا یہ تجربہ رہا ہے کہ جس میں آزادی کے بعد سے ’نظریہ پاکستان‘ کو عظیم بیانیے کے طور پر پیش کیا گیا۔حال ہی میں، ایک قومی بیانیہ بنایا جا رہا ہے جو سابقہ نظریے کی نقل کرتا ہے۔یہ تمام مشقیں بے نتیجہ رہی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تعمیر ملک کے مخصوص حالات اور حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئی تھی۔ جیسا کہ ہماری تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ معاشرے کی اکثریت کو جھٹلانے اور دبانے کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔
اپنی تخلیق کے وقت، پاکستان کو ان ممالک کے زمرے میں فٹ کر دیا گیا تھا جن کے بارے میں روپرٹ ایمرسن نے اپنی فرم ایمپائر ٹو نیشن میں اعلان کیا تھا کہ وہ قومیں وجود میں نہیں ہیں، بلکہ امید میں ہیں۔پاکستان 75 سال کے طویل سفر کے باوجود آج بھی اپنے آپ کو اسی زمرے میں پاتا ہے۔کوئی پوچھ سکتا ہے کہ وہ قومیت کا احساس پیدا کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہ ایسا سوال ہے جو لامحالہ ماضی میں جھانکنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ ملک کیسے وجود میں آیا اور اس کے بانی خاص طور پر محمد علی جناح نے اس کے لیے کیا سوچا تھا۔ایک بے مثال لیڈر جس کے سر ملک بنانے کا سہرا ہے، اس نے کیا قوم کی تشکیل کے بارے میں بھی سوچا تھا۔
قومیت کا تصور
اس سلسلے میں جناح کا قومیت کا تصور مرکزی ہے، کیونکہ یہ تصور ان کے بیانات میں نہ صرف اس دور میں ظاہر ہوا جب وہ آل انڈیا سیاست کے کھلاڑی تھے بلکہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے وقت بھی انھوں نے اپنا وژن دیا کہ پاکستانی قوم کیسی ہوگی۔جناح نے قوموں کی تشکیل کے عمل کو دیکھا تھا کیونکہ وہ ایک جدید دور میں ابھرے ہیں۔تقسیم سے پہلے کے دنوں میں، امپیریل لیجسلیٹو کونسل میں جناح کی تقاریر، قانون سازی کے مختلف عمل میں جو ان کا نقطہ نظر رہا،ہندوستان میں طبقاتی تقسیم کے بارے میں ان کا موقف اور آئینی اصلاحات کے میدان میں سیاسی ترقی اور اس کے بارے میں ان کے خیالات، یہ سب بتاتے ہیں کہ وہ لبرل سیاسی سیاستدانوں سے بہت متاثر تھے۔جیسے ہندوستان میں دادا بھائی نوروجی، فیروز شاہ مہتا اور جی کےگوکھلے اور برطانیہ میں ولیم گلیڈ اسٹون اور جان مورلے، جن کا خیال تھا کہ صرف شراکتی جمہوریت، مناسب وفاقی انتظامات اور ایک سیکولر ریاست کے ذریعے ہی ایک غیر معمولی تنوع والے معاشرے میں قومیت کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔
سیکولرازم فطری ہے
یہ ظاہر کرنے کے لیے اس طرح کی کئی مثالوں کا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ جمہوریت، صاف و شفاف سیاست اور سیکولرازم کی اقدار کیسے محمد علی جناح کی شخصیت سے وابستہ رہی ہیں۔جہاں تک سیکولرازم کا تعلق ہے، یہ شروع ہی سے جناح کے قومیت کے تصور میں شامل تھا۔یہ معلوم ہوتاہے کہ اپنے سیاسی کیرئیر کے آغاز میں قائد اعظم جداگانہ انتخابات کے حق میں نہیں تھے۔اس دور میں جناح کا خیال تھا کہ اقلیت کے لیے اس طرح کی رعایت اسے مستقل اقلیت کا درجہ دے سکتی ہے۔1906 کے کانگریس اجلاس میں، جناح نے اس تنظیم کے ایک رکن کے طور پر، سرکاری قرارداد میں ترمیم پیش کی جس میں مقننہ میں نشستوں کی ریزرویشن اور پسماندہ طبقات کے لیے خدمات سے متعلق شق کو حذف کرنے کا کہا گیا۔
انھوں نے یہ مطالبہ کیا کہ مسلم برادری کے ساتھ بھی اسی طرح برتاؤ کیا جانا چاہیے جیسا ہندو برادری کے ساتھ کیا جاتا ہے۔1913 میں، انھوں نے خود حکومتی اداروں میں طبقاتی نمائندگی دینے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کی۔ایک موقع پر انھوں نے دیال سنگھ کالج لاہور کے طلباء سے کہا:”یہ کالج مذہبی عقائد پر یقین نہیں رکھتا۔میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ ہندوستان کی نجات اسی غیر فرقہ وارانہ احساس میں مضمر ہے۔”
جناح کو 1905 میں بنگال کی تقسیم بھی پسند نہیں تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ خطے کو تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔جب وہ مسلم لیگ میں شامل ہوئے تو انھوں نے ایسے اقدامات لیے کہ جن کا تنظیم کے روایتی اشرافیہ نے خیر مقدم نہیں کیا۔کانگریس اور مسلم لیگ کو قریب لانے اور لکھنؤ کے مشہور معاہدہ پر متفق کرنے میں ان کا کردار یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہندو مسلم مساوات کو فرقہ وارانہ مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، بلکہ وہ اسے ایک سیاسی معاملہ کے طور پر دیکھتے تھے جو ہندوستان میں ایک قوم کی تشکیل میں رکاوٹ بن رہا تھا۔
یہاں تک کہ جب جناح نے مسلمانوں کو اقلیت کے طور پر دیکھنا قبول کر لیا، تب بھی ان کی بنیادی فکر اقلیت اور اکثریت کی تقسیم کو دور کرنا تھا۔انھوں نے کچھ ایسے مثبت اقدام کے لیے جدو جہد کی جس سے مسلمانوں کو قومی اداروں میں اس سے زیادہ حصہ حاصل کرنے کے قابل بنا یا جا سکتا تھا، جتنا کہ وہ اپنی مجموعی آبادی میں اپنے حجم کے اعتبار سے اسے حاصل کرنے کے حقدار ہوتے۔انھوں نے ایسے فارمولے بھی پیش کیے جن کے ذریعے صوبائی مقننہ میں ہندو مسلم نمائندگی کو باہمی انداز میں متوازن کیا گیا۔
یہ سب اس جداگانہ مذہبی شناخت کے مسئلہ کو سیاسی طریقوں سے حل کرنے کے لیے کیا گیا۔اس طرح کئی مواقع پر وہ مسلمانوں کی بہتر نمائندگی کے لیے تجاویز لے کر آئے، جیسا کہ جب انھوں نے مشہور دہلی مسلم تجاویز میں اپنی گزارشات پیش کی تھی، اور بدلے میں علیحدہ رائے دہندگان کو ترک کرنے کی پیشکش کی تھی۔اسی طرح جب 1930 کی دہائی کے وسط میں جناح نے مسلمانوں کے بطور ایک قوم ہونے کا دعویٰ کیا نہ کہ اقلیت ہونے کا، تو اس وقت ان کے قومیت کے بارے میں تصور ہی نے انھیں اپنی قوم کے حق خود ارادیت کے مطالبہ کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کیا جو اس وقت تک عالمی طور پر ایک قبول شدہ اصول کے طور پر سامنے آیا تھا۔
انھوں نے 1940 میں قرارداد لاہور پیش کرتے وقت یہ تجویز کیا کہ ہندوستان کا بحران قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی بحران ہے۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان میں رہنے والی تمام اقوام کو اظہار رائے اور خود ارادیت کا حق حاصل ہے۔جب جناح پاکستان کا مطالبہ لے کر آئے تو انھوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ پاکستان ایک مذہبی ریاست نہیں بنے گا۔اپنی تعریف کے مطابق تھیوکریسی سیکولرازم کے برعکس ہے۔چنانچہ، جب جناح نے کہا کہ پاکستان تھیوکریسی نہیں رہے گا، وہ دراصل بتا رہے تھے کہ یہ کیا ہوگا۔
مذہبی سیاسی دانشوروں کا ایک حصہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ تھیوکریسی عیسائیت کے لیے مخصوص نظام تھا۔حیرت ہے کہ جناح یہ کیوں نہیں جانتے تھے، اور انھوں نے بار بار یہ واضح کرنا ضروری سمجھا کہ پاکستان تھیوکریسی (ایک مذہبی ملک) نہیں ہوگا۔تقسیم کے موقع پر، جولائی 1947 میں، انھوں نے کہا: "اسلام اور اس کے آئیڈیلزم نے ہمیں جمہوریت سکھائی ہے۔اسلام نے مردوں کے درمیان مساوات، انصاف اور ہر ایک کے ساتھ بہترین سلوک کرنا سکھایا ہے…کسی بھی صورت میں، پاکستان ایک تھیوکریٹک ریاست نہیں بننے والا ہے…”۔
جناح نے ایسے تمام اعلانات نہ صرف ان خدشات کو دور کرنے کے لیے کیے جو کہ نئے ملک کے غیرمسلم شہریوں کو ہو سکتے ہیں،بلکہ اس لیے بھی کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ سے واقفیت تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پادریوں کو کیسے اور کن مواقع پر ریاستی طاقت تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور مذہب کی آڑ میں اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس حقیقت کا ادراک عصر حاضر میں بھی مشکل نہیں جب کہ افغانستان میں ایک مسلم تھیوکریٹک ریاست ہے اور دوسری ایران میں۔
یہاں جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر کا حوالہ دینا ضروری ہے جس میں انھوں نے ہندوستان میں حقیقت میں جو کچھ ہوا تھا اس کی مکمل اور انتہائی مفصل وضاحت پیش کی تھی جس نے اس خطہ کی تقسیم کی راہ ہموار کی تھی، اورکیسے یہ نیا ملک اپنے مستقبل کے سفر میں اس طرح کی تقسیم سے بچ سکتا ہے۔ جناح کا خیال تھا کہ اگر اس مسئلہ کو سیاسی طور پر حل نہ کیا گیا تو فرقہ وارانہ اور ثقافتی مسائل معاشرے میں تقسیم کا مستقل ذریعہ بن جائیں گے۔اور قوم کی تعمیر میں ایک بڑی رکاوٹ کا کام کرے گا۔11 اگست کی تقریر جناح کے قومیت کے تصور کا بہترین اظہار ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ناقدین نےسیکولرازم کا ترجمہ ’’لادینیت‘‘ کیا جو یقیناً یہ نہیں تھا۔سیکولرازم اس وقت تک سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے جب تک کہ کسی کے عقیدے پر باقی کوئی مسلط نہ ہو۔ریاست کی غیر جانبداری ضروری ہے اگر وہ اپنے تمام شہریوں کی وفاداری کی خواہاں ہو اور اگر اس کا مقصد ایک متحدہ قوم کا احساس ہو۔افسوس کہ اس طرح کے انتظامات کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔آزادی کے دو سال کے اندر، قرارداد مقاصد کے ذریعے ریاست کے کردار کی نئی تعریف کی گئی۔دستور ساز اسمبلی کے غیر مسلم ارکان نے جہاں بھی ہو سکا اپنی ناراضگی کا مظاہرہ کیا۔ جناح کے منتخب وزیر قانون جوگیندر ناتھ منڈل نے جلد ہی پاکستان چھوڑ دیا۔
نظریاتی بیانیہ
گزشتہ 75 برسوں کے دوران، ریاست کی جانب سے اپنی پالیسیوں کو مذہبی پابندیاں فراہم کرنے کے لیے اپنے نظریاتی بیانیے کا استعمال ریاست سازی کا ایک لازمی حصہ رہا ہے،اگرچہ یہ انحصار مختلف مراحل میں مختلف تھا۔پہلی دو دہائیوں میں، سول اور ملٹری بیوروکریسی جو انگریزوں کے دور میں تیار کی گئی تھیں، اور جو ریاست کے اقتدار پر تسلط رکھتی تھیں، نے مذہب کو چنیدہ انداز میں استعمال کیا۔اسے صوبوں پر مرکزی حکم اور پالیسیاں مسلط کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔سرد جنگ کے دور میں مغرب نواز خارجہ پالیسی کو بھی نظریاتی بنیادوں پر جائز قرار دیا گیا۔نظریاتی بیانیے کا استعمال جنرل یحییٰ خان کے دور میں ایک بار بار ہونے والا موضوع بن گیا جس کے وزیر اطلاعات جنرل شیر علی ’نظریہ پاکستان‘ کے سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے تھے۔
مذہب اور سوشلزم کے ارد گرد بحث 1970 کے انتخابات کے متعین موضوعات میں سے ایک بن گئی۔اس پس منظر میں دو سیکولر تنظیموں عوامی لیگ (AL) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی کامیابی ایک تاریخی پیش رفت تھی،لیکن اکثریتی جماعت کے طور پر ابھرنے والی عوامی لیگ کے ساتھ انتخابی نتائج کو اسٹیبلشمنٹ اور مغربی پاکستانی سیاسی اشرافیہ نے قبول نہیں کیا جس نے اس کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔
1973 کا آئین
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان کا منظر خاصا بدل گیا۔ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد پی پی پی نے اپنے کئی اعلانات پر سمجھوتہ کیا۔1973 کا آئین اگرچہ ایک مثبت کامیابی ہے لیکن مذہبی اور سیکولر شقوں کا ایک دلچسپ امتزاج تھا۔پروفیسر محمد وسیم کے اس مشاہدے سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ پی پی پی کی حکومت اپنے سوشلسٹ ایجنڈے کو حاصل کرنے میں "اکثر اسٹیبلشمنٹ کے چارٹرڈ راستے سے تجاوز کرتی ہے”۔ (پاکستان میں سیاسی تنازعہ؛ 2022)۔
حقیقت یہ ہے کہ اصلاحی اقدامات کے باوجود پی پی پی کی حکومت ریاست کے نظریاتی ڈھانچے کے اندر کام کرتی رہی۔1973 کے آئین میں پچھلے آئینوں سے زیادہ مذہبی شقیں تھیں۔حکومت نے نظریاتی بیانیے کا سہارا لے کر اپنے مخالفین سے بھی نمٹا۔1975 میں سیکولر نیشنل عوامی پارٹی (NAP) پر پابندی لگا دی گئی اور اس کی قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔حکومت کے اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے سپریم کورٹ میں NAP کے خلاف کیس کی درخواست کرتے ہوئے نظریاتی بیانیے کا بھرپور استعمال کیا، جس نے حکومت کی پابندی کو برقرار رکھا۔
نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما جو گرفتار نہیں ہوئے تھے، انھوں نے ایک متبادل تنظیم قائم کی،نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی)، جس کے نائب صدر کے طور پر NAP رہنما ولی خان کی شریک حیات نسیم ولی خان ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ این ڈی پی نے اپنے آئین میں سیکولرازم کو شامل نہیں کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ نئے پاکستان میں قیادت کا یہ مجموعہ بھی ریاست کے نظریاتی ڈھانچے سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔تاہم ان نظریاتی آلات کا سب سے زیادہ جارحانہ استعمال جنرل ضیاءالحق کے دور میں ہوا جنہوں نے طاقت کے برہنہ استعمال کے ذریعے جمہوری قوتوں، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف سخت جابرانہ اقدامات مسلط کیے تھے۔ملک کو کمیونزم کے خلاف فرنٹ لائن سٹیٹ بنا دیا گیا اور مغربی طاقتوں کے کہنے پر افغانستان میں جنگ شروع کر دی گئی۔
آٹھ سال کے اس منصوبے کے بعد افغان طالبان کی تخلیق ہوئی، جو پاکستان کو شمال مغرب سے لے کر وسطی ایشیائی خطوں کی طرف ایک سٹریٹجک گہرائی حاصل کرنے کی امید میں قائم کیے گئے۔9/11 کے واقعات نے انتہا پسندی کے ایک اور مرحلے کا آغاز کیا۔عسکریت پسند تنظیمیں جلد ہی خود مختار ہو گئیں اور انھیں بیرونی دہشت گردی کے تھیٹروں میں اپنی مارکیٹ مل گئی۔2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے واقعہ کے بعد شدت پسند تنظیموں کی سرپرستی کی پالیسی کا جائزہ لیا گیا۔نیشنل ایکشن پلان بنایا گیاجس نے گورننس اور عدلیہ میں اصلاحات سے لے کر ایک قومی بیانیہ وضع کرنے اور مختلف تعصبات کے نصاب کو ختم کرنے تک متعدد اقدامات تجویز کیے ہیں۔تاہم، اس منصوبے کو عملی طور پر عملی شکل نہیں دی گئی، حالانکہ یہ بعض علاقوں میں کامیاب رہا۔جن تنظیموں پر پابندی لگائی گئی تھی، وہ زیادہ تر بیرونی دباؤ کی وجہ سے نئے ناموں کے ساتھ سامنے آئیں۔
جہاں تک مدارس میں اصلاحات کا تعلق ہے، وقت کے ساتھ پورا تعلیمی نظام سنگل نیشنل کریکولم کے نام پر ’’مذہبی‘‘ کر دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ مذہب کے نام پر سب کچھ کوئی بھی کر سکتا ہے۔ آزادی کے 75 سال بعد، حکمران طبقے کی طرف سے وضع کردہ عظیم بیانیے نے معاشرے کو ہر لحاظ سے پولرائزڈ کر دیا ہے۔ پاکستان کی امیدیں صرف حقیقی جمہوری اور وفاقی عمل سے وابستہ ہیں۔ تاہم اگر کسی کو ’سیکولرازم‘ کا لفظ پسند نہیں ہے، تو بقائے باہمی ہی ریاست کو اس کی خودساختہ بیڑیوں سے آزاد کرنے کا واحد راستہ ہے۔
