Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ریٹائرمنٹ اور سیاست
    کالم

    ریٹائرمنٹ اور سیاست

    فرید احمد رضاBy فرید احمد رضافروری 14, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم پاکستانی بحثیت قوم شہرت پسند واقع ہوئے ہیں۔ بغیر کوئی کارنامہ انجام دیئے اشتہار اور خبروں میں رہنا کوئی ہم سے سیکھے۔ خالی خولی شہرت کیلئے ہم کسی بھی وقت  کچھ بھی کرنے کےلیے تیار رہتے ہیں۔ خاص کرکے تنظیم بنانا اور کوئی بھی جماعت تشکیل دے کر اپنے آپ کو صدر، امیر یا چیرمین بن کر الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ کرکے  تاحیات عہدے پر متمکن رہ کر زندگی گزارنا ہمارا محبوب مشغلہ ہے۔ سیاسی ورکر یا کوئی سیاسی تجربہ رکھنے والی شخصیت اپنی پارٹی بنائے تو کوئی بری بات نہیں لیکن وہ لوک جو تیس تیس سال ریاست پاکستان کے وسائل استعمال کرکے محکموں کی سربراہی  کے بعد اپنے مخصوص فیلڈ میں مہارت حاصل کرنے کے بعد ریٹائر ہوکر سیاسی پارٹی بناتے ہیں یہ ان کے لیے اور قوم کے لیے کوئی اچھا تجربہ نہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے متعلقہ شعبے میں کوئی سرگرمی دیکھاتے لیکن ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد اپنے مخصوص پیشہ ایک طرف رکھ کر سیاست میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی پارٹی کا اعلٰی عہدیدار بن کے عوام کے پروٹوکول میں بقایا زندگی گزارے۔ اگر کسی بڑی پارٹی میں عہدہ نہ ملے تو وہ ایک عدد سیاسی پارٹی بناکر تاحیات پارٹی صدر بن کر میدان میں عوام کی زندگی سدھارنے کیلئے کود پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں سیاسی پارٹیوں کی بہتات ہے مگر صحت مند سیاسی اور جمہوری رویے اور سرگرمیاں ندارد۔ معاشرے میں تعلیم اور سیاسی شعور کم اور بیروزگاری اور بیکاری عام ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو ہم خیال بنانے کے لیے کچھ افراد کہیں نہ کہیں سے مل ہی جاتے ہیں۔

    پاکستان میں ان چھوٹی چھوٹی مختلف الخیال پارٹیوں کی وجہ سے جمہوریت اور ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ان کے گروہی مفاد اور شخصی سوچ، بے غیر سوچے سمجھے بیانات اور جلسے جلوسوں کی وجہ سے معاشرے میں تقسیم اور بگاڑ کا عمل جاری رہتا ہے۔ پاکستان کے میڈیا چینلوں میں مثبت سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے ایسے لوگوں کو کسی نہ کسی چینل میں وقت مل جاتا ہے. وہاں وہ اپنی دانشوری داغ کر معاشرے کے سادہ لوح  لوگوں کو مزید کنفیوز کرکے لوگوں میں سراسیماگی پھیلاتے رہتے ہیں۔ ان تنظیموں کے قائدین کبھی مذہب کے نام پر تو کبھی علاقائیت کو استعمال کر کے اور کہیں لسانی تعصب پھیلاکر اپنے آپ کو میڈیا میں ان رکھتے ہیں ۔

    ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی پارٹی بناکر میدان سیاست میں کود پڑنے والوں میں کچھ شعبوں کے بہت بڑے نام شامل ہیں۔ ان میں ایک نام  فیلڈ مارشل محمد اصغر خان کا ہے جو ایک مایہ ناز پائلٹ اور پاک فضائیہ کے سربراہ رہ چکے تھے، جب سبکدوش ہوئے تو سیاست میں آئے اور تحریک استقلال کے نام سے پارٹی بنائی۔ پوری عمر احتجاج کی سیاست کی لیکن ان کی وفات تک ان کی پارٹی ایک سیٹ بھی حاصل نہ کرسکی۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے اگست ۱۹۸۸ء میں سانحہ بہاولپور میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد پاک آرمی کی قیادت سنبھالی۔ ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد اس نے بھی سیاسی جماعت بنانے کو ترجیح دی اور "عوامی قیادت” کے نام سے ایک پارٹی تشکیل دی اور اس کے صدر بن گئے۔ جنرل حمید گل سربراہ انٹرسروسز ایجنسی (آئی ایس آئی) نے جہاد افعانستان میں بڑا نام کمایا۔ پوری دنیا میں اپنے پیشے میں مہارت کی وجہ سے آج بھی خفیہ سروسز سے متعلقہ لوگوں میں اور عوام دونوں میں معروف ہیں۔ ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ بھی سیاست میں کود پڑے اور "عوامی اتحاد” نام سے جماعت بنائی۔ ان کی پارٹی کو عوام میں پزیرائی نہ مل سکی۔ وہ ٹی وی میں آکر حکمرانوں کو برابھلا کہنے کے سوا اور کوئی کام نہ کرسکے۔

    ڈاکٹر عبدلقادر خان بین القوامی سطح پر متنازعہ بنائے گئے لیکن  پاکستانی عوام نے ہمیشہ انہیں عقیدت کی حد تک عزت دی اور محسن پاکستان کا خطاب دیا۔ جب خان صاحب اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوئے تو اپنی شہرت کو کیش کرنے لیے ایک سیاسی جماعت بنانے کو ضروی سمجھا۔ ملک کو سنوارنے کا بیڑا اٹھایا۔ پاکستانی عوام خان صاحب کو محسن پاکستان کا خطاب دینے کے باوجود سیاسی میدان میں پذیرائی نہیں بخشی۔ یوں خان صاحب نے بھی اپنی صلاحیتوں کو سیاست کی نذر کردی۔ افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان تھے تو مشرف کے خلاف مزاحمت کرکے شہرت حاصل کی۔ وکلاء نے افتخار چوہدری کے لیے ایک ڈکٹیٹر سے ٹکرلی۔ عوام میں بھی اس تحریک کو مدد دی۔ افتخار چوہدری نے اپنے دوران ملازمت سوموٹو ایکشن لینے کی وجہ سے عوام میں بہت نام کمایا۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات کو بھی قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے سے دریع نہیں کیا۔ جب ملازمت سے ریٹائر ہوا تو قانون کے طالب علموں کو آگاہی دینے، قانون کی پاسداری یا قانون پر عمل درآمد کے لیے کوئی کام کرنے کے بجائے سیاست میں آگئے اور جسٹس پارٹی بناکر ان کے روح روان بن گئے۔

    جنرل پرویز مشرف پاکستان کے آرمی چیف، چیف ایکڑیگٹیو اور صدر پاکستان تھے۔ لمبے عرصے تک مطلق العنان کی حیثیت سے اقتدار میں رہے مگر ایوانِ صدر سے رُخصتی کے بعد بھی ان میں "مزید” کی طلب موجود تھی۔ یوں وہ بھی ایک سیاسی پارٹی "آل پاکستان مسلم لیگ” کے نام سے بنائی۔ پاکستان کے بہت سے حلقوں میں پسندیدہ ہونے کے باوجود عملی سیاست میں بری طرح ناکام رہے۔

      یہ چند ہی نام یاد ہیں۔ حقیقت میں ان کی تعداد اس سے ذیادہ ہی ہوگی جو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف شہرت کے لیے کوچہ سیاست میں قدم رکھنے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اپنے پیشے سے متعلقہ کسی کام میں استعمال کرکے پاکستان کی بڑی خدمت کرسکتے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آنے والے وقت کے لیے اپنے متعلقہ شعبے میں منصوبہ بندی کا حصہ بنتے، کسی یونیورسٹی کے ساتھ تعلق بناتے، تھنگ ٹینک بناکر حکومت کی مدد کرتے، اپنے مخصوص فیلڈ میں لوگوں کو آگاہی دیتے، دنیا کی سطح پر ملک کی امیج کو بہتر بنانے کے لیے منصوبے تشکیل دیتے، ناانصافیوں کے خلاف انصاف کا بول بالا کرتے۔ قانوں پر عمل کرنے کیے لئے لوگوں کو شعور دیتے۔ اپنے تجربے کی بنیاد پر حکومت وقت کی رہنمائی کرتے۔ کرپشن سے ملک کو پاک کرنے کی کوشش کرتے۔ کل ملاکر یہ کہ ان لوگوں کی صلاحیتوں کا درست استعمال سول سوسائٹی کو مضبوظ بنانا تھا نا کہ سیاست میں کودنا۔ لیکن پاکستان میں ہر شخص سیاسی ہے۔ چاہے وہ سرکاری ملازمت میں ہوں یا کسی اور شعبے میں۔ ہمارے معاشرے میں ہر ایک شخص کو سیاست، قیادت اور شہرت راس آتی ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کام کی بجائے قیادت کرنے اور نام کمانے کو ترجیج دیتا ہے۔ پاکستان میں ملازمت سے ریٹائر ہوکر سیاست میں آنے والوں سے کیا  شکوہ۔ یہاں تو ہر دوسرا حاضر سروس حکومتی ملازم تک سرگرم سیاسی کارکن ہے۔ چوکیدار ایسوسی ایشن سے شروع کرکے افسروں تک، وردی والے سپاہی سے لیکر جنرل تک سارے  ہی سیاست دان بنے ہوئے ہیں۔ سیاست کو ٹھیک کرنے کی فکر کے بجائے یہ سارے ریاستی ملازم اپنے حصے کا کام احسان طریقے سے کرتے تو ملک کا حال ایسا کبھی نہ ہوتا جو اب ہے۔

    Farid Ahmad Raza
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان امریکہ تعلقات اور انسداد دہشت گردی
    Next Article تغیر کا ثبات یا تسلسل؟
    فرید احمد رضا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by