Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ایک نئی افغان پالیسی کی ضرورت
    کالم

    ایک نئی افغان پالیسی کی ضرورت

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناجنوری 17, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے بعد پاکستان افغان طالبات کو پاکستان میں اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ اس  عمل سے ریاست  کو ایک نئی افغان پالیسی شروع کرنے کا موقع ملے گا کیونکہ طالبان حکومت سے حالیہ مایوسی کے بعد ایک نئی افغان پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔

    پاکستان کی افغان پالیسی ہمیشہ تزویراتی اہمیت پر مرکوز رہی ہے جس میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ نئی افغان پالیسی کو افغان عوام اور اقتدار میں موجود حکومت کے ساتھ وسیع تر روابط پر مرکوز ہونا چاہیے۔ ماضی قریب میں سویلین اور فوجی رہنماؤں نے ملک کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں جیو اکنامک اضافے کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کیے لیکن حقیقت میں تمام ڈیزائن کی نوعیت جغرافیائی ہی رہی۔ اس کی وجہ اس سادہ نظریے میں ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے  ہیں۔ لیکن ایک ریاست اپنے وژن میں  دونوں کو ایڈجسٹ کر سکتی ہے کیونکہ جیو پولیٹکس اور جیو اکنامکس بالکل مختلف نہیں ہیں۔

    افغانستان پر طالبان کے قبضے نے پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنجز کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان حالات نے  افغان پالیسی کے معماروں میں مایوسی پیدا کر دی ہے کیونکہ ملک کو ابھی تک طالبان حکومت سے وہ تعاون نہیں ملا ہے جس کی اسے طالبان سے توقع تھی۔ریاستی اداروں کو طالبان کے ساتھ تعاون پر مبنی رویہ اپنانا چاہیے۔طالبان ایک حقیقت ہیں، اور وہ کم از کم مستقبل قریب میں منظر سے غائب نہیں ہونے والے ہیں۔وہ اقتصادی تعاون اور مشغولیت کے ذریعے خطے میں اپنا سیاسی سرمایہ تیار کرنا چاہتے ہیں۔تاہم، خواتین کے لیے ان کی پالیسیاں، سیاسی اور نسلی مخالفت، اور افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک ان کے لیے نئے ملکی اور بین الاقوامی چیلنجز کو جنم دیتے رہیں گے۔طالبان کے رویے اور اندرونی اتفاق رائے پر منحصر ہے ، کیونکہ  ان کے ملک میں طویل مدتی نظم و ضبط یا خرابی لانے کے مساوی امکانات  موجود ہیں۔ طالبان کی رہنمائی یا مشورہ دینے کے لیے پاکستان کا اب بہت کم اثر باقی رہ گیا ہے۔

    پاکستان کو افغانستان کے حوالے سے ایک محتاط رویہ کی ضرورت ہے جس کی بنیاد خوشامد یا دشمنی پر نہیں ہونی چاہیے۔مخالفانہ رویہ دو طرفہ تعلقات میں تلخی کو بڑھا سکتا ہے۔اور اگر طالبان حکومت امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ افغانستان کو دوبارہ اس سطح تک لے جا سکتے ہیں جہاں ان کے قبضے سے پہلے تھا۔اگر طالبان کمزور ہو جاتے ہیں تو ان کے پاس دوبارہ باغی تحریک میں تبدیل ہونے اور عالمی سطح پر دہشت گردی برآمد کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔بدترین صورت حال میں، پاکستان متاثر ہونے والا پہلا ملک ہوگا۔ قریبی اتحادی ٹی ٹی پی کے علاوہ،  افغان طالبان کاسرحدی علاقوں میں بھی  حمایت کا مرکز ہے۔طالبان کے اندر بہت سے کمانڈر ٹی ٹی پی کی اپنے انداز میں قبائلی امارت کے قیام کی خواہش کی حمایت کرتے ہیں۔

    ایسے پیچیدہ حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟ قومی سلامتی کمیٹی نے بجا طور پر کہا ہے کہ ریاست ٹی ٹی پی اور سرحدی سلامتی کے معاملات طالبان حکومت کے ساتھ براہ راست نمٹائے گی۔اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان طالبان سے کوئی ڈکٹیشن نہ لے کہ ٹی ٹی پی ملک کا اندرونی مسئلہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنماؤں اور مبصرین کو طالبان کے خلاف معاندانہ بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔اس طرح کے بیانات دو طرفہ بات چیت  کے عمل کو مشکل بنا دیتے ہیں اور دہشت گردی کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کوئی اشارہ دینے سے گریز کرے، کیونکہ یہ ریاست کی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔

    تعاون پر مبنی نقطہ نظر پانچ نکات  کے گرد گھومنا چاہیے، جن میں سرحدی سلامتی، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون، مشترکہ بین الاقوامی مصروفیات اور عوام کے درمیان رابطے شامل ہیں۔ان تمام نکات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملانا چاہیے، اور ایک مستقل جائزہ پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے۔سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے لیے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان 2018 میں ایک دو طرفہ شمولیت کے فارمولے پر اتفاق کیا گیا تھا جسے افغانستان-پاکستان ایکشن پلان برائے امن اور یکجہتی (APAPPS) کہا جاتا ہے۔

    اس اقدام کی بنیادی توجہ مفرور اور ناقابل مصالحت عناصر کے خلاف موثر کارروائی کرنا تھی جو دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے لیے سلامتی کو خطرہ ہیں۔دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک الزام تراشی سے گریز کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کی سرزمین کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں گے، خواہ فضائی ہو یا دوسری صورت میں۔

    یہ بات قابل فہم ہے کہ اس وقت دونوں طرف سے APAPPS کو سختی سے نافذ نہیں کیا گیا تھا، لیکن طالبان کی حکومت کے ساتھ  اس معاہدے کا ایک  مختلف منظرنامہ ہے،اور اس پہل کو طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ معاہدے کی طرز پر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔دوطرفہ اور بین الاقوامی اقتصادی روابط پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک پرانا خواب تھا جسے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے مطابق معقول بنانے کی ضرورت ہے۔تاہم، عوام سے عوام کا رابطہ پالیسی کا ایک اہم جزو ہونا چاہیے اور دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کے پرانے بیانیہ کے علاوہ کسی اور چیز کے گرد تعمیر ہونا چاہیے۔اس جزو کو دونوں ممالک کے شہریوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات اور عملی تعاون کے فریم ورک پر تیار کیا جانا چاہیے۔

    خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی یونیورسٹیوں میں طالبات کو تعلیم کی پیشکش افغان طالب علموں کے لیے ایک سرپرائز ہو گا۔ سرحدی علاقوں میں نئی ​​پبلک یونیورسٹیاں اس کام کو مؤثر طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔اس کے متعدد فائدے ہوں گے ،جن میں سرکاری یونیورسٹیوں کی مالی ضروریات کو پورا کرنے سے لے کر پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو بڑھانے تک سب شامل ہیں۔ اسی طرح سرحد کے ساتھ تجارتی مراکز اور طبی شہر قائم کرنے کے خیال کو بھی بہتر بنانا دونوں اطراف کے لیے اہم ہے۔اس سے نہ صرف افغان شہریوں کو صحت کی بہتر سہولیات حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ دیگر متعدد فوائد کے علاوہ ان علاقوں میں دہشت گرد تنظیموں کی اپیل میں بھی کمی آئے گی۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ دو طرفہ مشغولیت قبائلی عمائدین یا مذہبی اسکالرز کا استعمال کرتے ہوئے غیر رسمی چینلز کے بجائے رسمی سفارتی، سیاسی اور اسٹریٹجک چینلز کے ذریعے کی جائے۔مذہبی  اور قبائلی رابطوں کو صرف اعتماد سازی کے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر سلامتی سے متعلق کسی بھی معاملے میں ان کی رسمی مصروفیت سے گریز کیا جانا چاہیے۔کیونکہ ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو ان کے درمیان اپنے حامی ملے ہیں جو عام طور پر ریاست کے بجائے ان کا ساتھ دیتے ہیں۔اس لئے افغان پالیسی میں  طالبان کے اندر یا اس سےباہر کسی بھی  سیاسی میدان میں کوئی پسندیدہ نہیں ہونا چاہیے۔

    سوال یہ ہے کہ نئی افغان پالیسی کون وضع کرے؟

     اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پالیسی سازی میں پارلیمنٹ کو پیش قدمی کرنی چاہیے، لیکن موجودہ پارلیمنٹ کی حالت سب کو معلوم ہے، اور یہ زیادہ سے زیادہ اسٹیبلشمنٹ کے ربڑ سٹیمپ کے طور پر کام کرے گی۔لیکن اس سے پہلے سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور سکیورٹی اداروں کے درمیان وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔

    Muhammad Amir Rana New Afghan Policy Pak Afghan Relations پاک افغان تعلقات
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleخیبر پختونخواہ میں عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور چیلنجز
    Next Article طالبان کا اسلام مختلف کیوں؟
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by