Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی ضرورت
    کالم

    ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کی ضرورت

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانادسمبر 21, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ باضابطہ طور پر دستاویزات کا ایک مجموعہ(ڈوزیئر) شیئر کیا ہے جس میں دہشت گردی کے دیگر واقعات کے علاوہ 2021 ءمیں لاہور میں ہونے والے جوہر ٹاؤن دھماکے میں بھارت کے ملوث ہونے کی تفصیلات اور شواہد شامل ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں انتباہ دینے والے بیان کی منظوری کے بعد، ہندوستان اور پاکستان کے سفیروں نے ایک دوسرے پر دہشت گردی کے زبردست الزامات لگائے ہیں۔پاکستان کی جانب سے  یہ  ڈوزیئر  ایک ایسے موقع پر  شئیر کیا گیا ہے جب ہندوستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف ایک صدارتی بیان  بھی جاری کیا گیا ہے۔

    یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔جب ہندوستان اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا غیرمستقل رکن منتخب ہوا تو پاکستان نے اس طرح کی حکمت عملی کی پیش گوئی کی تھی، لیکن جب ہندوستان نے دسمبر میں کونسل کی صدارت سنبھالی تو اسلام آباد اس بارے میں مزیدچوکنا ہو گیاتھا۔اگرچہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیےتمام  اقوام کی ذمہ داری پر زور دیا گیا، تاہم اجلاس کے فوراً بعد بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگادیے۔بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان نے انسدادی حکمت عملی کے طور پر دہشت گردی میں بھارتی کردار کو اجاگر کیا ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ، جس کا خاص طور پر ڈوزیئر میں حوالہ دیا گیا تھا، جون 2021 میں لاہور میں کالعدم جماعت الدعوۃ (JuD) کے سربراہ حافظ سعید کی رہائش گاہ کے قریب پیش آیا۔ایک مقامی عدالت کی طرف سے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد حافظ سعید کو  وہاں گھر میں نظر بند رکھا گیا تھا۔ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے اس کیس کو چند ماہ کے اندر حل کر لیا، اور دعویٰ کیا کہ دہشت گردانہ حملے کرنے والے  کے پس پشت بھارت کے فنگر پرنٹس موجود تھے۔یہ بات قابل فہم ہے کہ پاکستان کو سفارتی اور جغرافیائی سیاسی ضرورتوں کے مطابق ڈوزیئر کے اجراء کے لیے وقت کے انتخاب  کا حق ہے۔تاہم، مبصرین یہاں فوجی قیادت میں تبدیلی کے عنصر کو مسترد نہیں کر رہے ہیں، جو آنے والے مہینوں اور سالوں میں جغرافیائی سیاسی ترجیحات کا اشارہ دیتی ہے۔

    آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے چند روز بعد ہی جنرل عاصم منیر نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے رکھ چکری سیکٹر کا دورہ کیا۔فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف  مادر وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گی بلکہ جنگ کو دشمن کے سامنے واپس لے جائیں گی۔درحقیقت اپنے بیان میں آرمی چیف گلگت بلتستان کی صورتحال پر بھارتی وزراء کے بیانات کا حوالہ دے رہے تھے۔تاہم، بہت سے پاکستانی اور ہندوستانی مبصرین نے ان کے بیان کو پاکستان کے اندر جاری سیاسی بحران اور ملک کے سیاسی معاملات میں فوجی مداخلت کے حوالے سے ہونے والی بحث کے تناظر میں پیش کر رہے ہیں۔اپنی ریٹائرمنٹ سے ٹھیک پہلے، سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے اعتراف کیا تھا کہ ملکی سیاست میں سکیورٹی اداروں کی کئی دہائیوں کی مداخلت نے انہیں عوامی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    اس سے قبل آئی ایس آئی اور آئی ایس پی آر کے سربراہان نے بھی ایک پریس کانفرنس میں ایسا ہی اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ سکیورٹی ادارے ملکی سیاست میں مداخلت سے گریز کریں گے۔بہت سے ماہرین اب بھی اس طرح کے دعوؤں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ پرانی عادات سختی سے نہیں جاتی ہیں۔وقت ہی بتائے گا کہ سکیورٹی ادارے کب تک اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں۔بہر حال، یہ ملک کو درپیش سیکورٹی چیلنجوں کو دیکھنے اور ان کاجواب تیار کرنےکا موقع ہے۔روایتی اور غیر روایتی سکیورٹی چیلنجز پر توجہ مرکوز کرنے سے فوج کا عوامی امیج بحال ہوگا۔

    اس وقت داخلی سلامتی کے خطرات کی فہرست میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اسلامک اسٹیٹ خراسان اور بلوچ باغی سرفہرست ہیں۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اچھے طرح سےپیمانہ بند  نقطہ نظر کی ضرورت ہے، سکیورٹی کے بارے میں لکھنے والے ماہرین نے بھی تجاویز پیش کی ہیں۔ روایتی خطرات پر بھی اسی طرح کی گفتگو کی ضرورت ہے، کیونکہ زیادہ تر خطرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ملک کے جغرافیائی سیاسی منظر نامے کو تشکیل دیتے ہیں۔

    پاکستان کے خلاف بھارت کا سب سے بڑا سفارتی ہتھیار دہشت گردی کے حوالے سے الزام بازیہے۔ بھارت نے اس تکنیک کو بین الاقوامی فورمز پر زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا ہے، لیکن اب دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مہم اور FATF سے متعلقہ ضوابط کی تعمیل میں اقدامات کی بدولت نئی دہلی کے لیے اس حربے کا استعمال مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ان اقدامات سے ملک کا امیج بہتر ہوا ہے اور اب پاکستان کو اس  کامیابی کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے۔ ٹی ٹی پی کے ساتھ نمٹنا ایک اندرونی معاملہ ہے، اور عالمی برادری، بشمول مشرق اور مغرب میں پاکستان کے اتحادی، اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے طاقت کے نفاذکی حمایت کریں گے۔تاہم، جماعت الدعوۃ اور جیشِ محمد جیسی کالعدم تنظیمیں اب بھی ملک کی ان حالیہ  کامیابیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔دونوں تنظیمیں اس وقت غیر فعال ہیں اور ان کے کئی رہنماؤں کو عدالتوں نے سزائیں سنائی ہیں۔ اگر وہ دوبارہ سر اٹھاتے ہیں، یہاں تک کہ سیاسی طور پر ایک نئی شکل کی صورت میں بھی، یہ ہندوستان کو ملک کو بدنام کرنے کا ایک اور موقع فراہم کریں گے۔

    اس وقت داخلی سلامتی کے خطرات کی فہرست میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اسلامک اسٹیٹ خراسان اور بلوچ باغی سرفہرست ہیں

    اس کے باوجود، اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر جون 2021 کا دہشت گردانہ حملہ اپنے ہدف کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جاتا، تو بھارت غیر سرکاری طور پر اس کا کریڈٹ لے جاتا، جیسا کہ امریکی میرینز نے پاکستانی سرزمین پر اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا۔

    ان تمام سفارتی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکتا ہے اگر پاکستان کے بازومضبوط رہیں اور ملک اس زرتلافی کی حکمت عملی پر عمل درآمد کر سکے جس کا آرمی چیف نے اپنے ایل او سی خطاب میں ذکر کیا ہے۔بہر حال، کسی بھی تنازعہ کی صورت میں، دیگر اقدامات کو  آخری آپشن  کے طور پررہنا چاہیے۔ یہ  اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے جب ملک میں ایک  مضبوط معیشت ہو اورایسے تمام اقدامات کو مکمل عوامی حمایت حاصل ہو۔اگرچہ اس کے لیے نظریاتی تبدیلی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔بین الاقوامی تعلقات کے  ماہرین اکثر تمام پڑوسی ممالک  کے ساتھ امن اور اقتصادی تعلقات  کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ ایک روایتی خطرے کے نظریہ کو تبدیل کیا جا سکے۔ ان تعلقات کی وجہ سے ہی ہمسایہ ممالک سے  تمام تنازعات پر بات کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

    پچھلی فوجی قیادت کے پاس جیو اکنامکس کی تبدیلی کے حوالے سے بہت کچھ کرنے کو تھا، مگر افغانستان کی مشکل صورتحال اور بھارت کے ساتھ تناؤ کی وجہ سے قیادت نے عملی طور پر اپنی پوری صلاحیت کو بروئے کار نہیں لایا۔ایل او سی پر  معمولی کشیدگی اور پاکستانی فضائی حدود میں بھارتی مداخلت اور مؤثر پاکستانی ردعمل نے جیو اکنامکس کی تبدیلی پر توجہ مرکوز رکھی۔اگرچہ پاکستان نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور کوریڈور کھولنا بھی شامل ہے، لیکن بھارت نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارتی قیادت کے تمام تر غرور کے باوجود پاکستان بھارت  کو امن کی پیشکش جاری رکھے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا سارک کو بحال کرنے کا حالیہ بیان ایک مثبت اقدام ہے۔یہ شاید نئی عسکری قیادت کی ترجیحات کی بھی عکاسی کرتا ہے، جو سیکورٹی اداروں کے  تمام تر خدشات کے باوجود، بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے خلاف نہیں نظر آتی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسیاسی کارکن شاید یہ سوچ رہا ہوگا کہ اب وہ کسی کام کا نہیں ہے
    Next Article چین اور مشرق وسطی
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by