Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»دشمن کی شنا خت
    کالم

    دشمن کی شنا خت

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناستمبر 14, 2016کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہمارا دشمن کو ن ہے؟ یہ کیا کر تا ہے اور کہا ں چھپا ہے ؟ کیا جو دشمن نہیں وہ محبت وطن ہیں؟

    ’’ وہ ہم میں سے نہیں ، وہ ان کے سا تھ ہیں ‘‘ ۔ شد ت پسند ی کے تنا ظر میں آجکل اس قسم کے بیا نیے خا صے مقبول ہیں ۔ اس قسم کے بیا نیو ں کا ما ٓخذ وہی رویہ ہے کہ کوئی مسلما ن اور پاکستانی دہشت گر د یا شد ت پسند نہیں ہو سکتا ۔ لیکن وفا قی وزیر دا خلہ نے اچا نک ایک قدرے پرا نے بیا نیے کو دُہرا یا تو احسا س ہو ا کہ مختصر مد ت کے لئے ہم اس بیا نیے کو ’’ کہ دشمن ہماری ہی طر ح دیکھتا ہے ‘‘ کے بھی قائل رہے ہیں ۔

    سینٹ میں اس بیا نیے کی گو نج اُس وقت سنائی دی جب وفا قی وزیر دا خلہ سا نحہ کو ئٹہ کی بے حا صل اور سست رفتا ر تفتیش کی وجو ہا ت پر بحث سمیٹ رہے تھے ۔ چو نکہ دشمن ہماری طر ح کا ہی جیتا جا گتا وجود ہے اور وہ ہماری طر ح ہی کھا تا اور سو تا ہے ۔ اس لئے سیکور ٹی ادارو ں کو اُسے پہچا ننے میں دقت ہو رہی ہے ۔ وزیر دا خلہ کی یہ دلیل حز ب مخا لف کو مطمئن نہیں کرسکی جو ’’ دشمن ‘‘ اور ’’ ہم ‘‘ کو بالکل مختلف تنا ظر میں دیکھتی ہے ۔ پا کستان میں دشمن کی پہچا ن ایک حسا س معاملہ رہا ہے ۔ دشمن کو ن ہے اور اس کی کیا خصو صیا ت ہیں ۔ اس پر ایک سے زیا دہ رائے موجود ہیں اور ان آرا ء کو اگر غور سے دیکھا اور پر کھا جا ئے تو معلو م ہو گا کہ ہم دشمن کو چار قسمو ں میں تقسیم کر تے ہیں ۔ یہ دشمن خار جی بھی ہیں ، دا خلی بھی ، اسٹریٹجک بھی ہیں اور سیا سی بھی ، یہ سما ج میں بھی گھسے ہو ئے ہیں اور ہمارے نظریے بھی اس کی زد پر ہیں ۔ دشمن کی چار وں قسمیں اپنی تعر یف اور جہت میں وسیع اور سیا ل ہیں ۔ انہیں ضرو ر ت کے مطا بق کھینچا اور پھیلا یا جا سکتا ہے ۔ ظا ہر ہے کہ کھینچنے اور پھیلا نے کا اختیار اسٹیبلشمنٹ کے سوا کس کے پا س ہو سکتا ہے ۔ ممکن ہے آپ کو پتہ بھی نہ چلے اور آپ خو د بخو د دشمن کے کسی در جے میں جا پڑیں ۔ اس لئے احتیا ط لا زم ہے ۔ اگر چہ بہت محتاط لوگ بھی دشمن کی سکڑ تی اور پھیلتی حدو د میں آتے رہتے ہیں ۔
    دشمن کی پہلی قسم تو سپر دشمن ہے ۔ اُسے پہنچا ننے میں کوئی دقت نہیں ہو نی چاہئے کہ وہ ایسا ہمسا ئیہ ہے جو ہر وقت ہمارے خلا ف سا زشو ں میں مصرو ف رہتا اور ہمارے دو ہمسا ئیوں کو بھی ور غلا کر ہمارے خلا ف کر رہا ہے۔ اس کے ایجنٹ ہمارے در میان بھی پھیلے ہو ئے ہیں ۔ دو سرا دشمن ایک ’’ اجنبی دشمن ‘‘ ہے ۔ اس در جے کو قا نو نی اور آئینی تحفظ بھی حا صل ہے اور اس کی تعر یف اور وضا حت پا کستان پرو ٹیکشن آر ڈیننس میں کی گئی ہے ۔ اس تعریف کے مطا بق ’’ عسکر یت پسندجس کی پا کستانی شنا خت وا ضح نہیں ‘‘ یہ دلچسپ اور عجیب بات ہے کہ گز شتہ دو سا لو ں میں صو بہ پنجاب میں اب تک اس آر ڈ یننس کے تحت 67 کیسز در ج کئے گئے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اجنبی اور بے شنا خت نہیں ہے ۔ سب کے سب پا کستا نی ہو نے کا دعویٰ کر تے ہیں ۔
    دشمن کا سب سے خطر ناک در جہ ’’ گھٹیا دشمن ‘‘ ہے ۔ اس دشمن کو سو شل اور سیکور ٹی اسٹیڈ یز میں مستعمل اصطلا ح سے’’ آہنگ ‘‘نا قابلِ مصا لحت (Agymmetric) کے تنا ظر میں سمجھا جاسکتا ہے ۔ جب معا شرے کے کچھ افرا د یا گرو ہو ں کی سو چ کا رخ مرو جہ سو چ کے پیما نوں سے پھر جاتا ہے نتیجتاً وہ لا یعنیت اور خا لی خو لی ’’ آئیڈ یلزم ‘‘ کا شکا ر ہو جا تے ہیں ۔ یہ گھٹیا دشمن سید ھا سما ج اور سیا ست کے بند ھن پر حملہ آور ہو تا ہے اور اسے پہچا ننااس لئے بھی مشکل ہے کہ مخصو ص فکری حوا لو ں میں پنا ہ لئے ہو ئے ہو تا ہے ۔ انہیں پہچا ننے کا طر یقہ یہ ہے کہ یہ ہر با ت میں سے کیڑے نکالتے ہیں ، اخلا قی دیوالیہ اور نظر یا تی اور معا شی بد عنوا نیوں کا شکار ہو تے ہیں ۔
    دشمن کا آخری در جہ بھی کم خطر نا ک نہیں کہ انہیں ’’ ممکنہ دشمن ‘‘ کے کھا تے میں شمار کیا جا تا ہے اور یہ دشمن کے پہلے تینوں در جوں کے حا می ہو تے ہیں ۔ کبھی کبھی کھل کر ان کے مؤقف کی حما یت کر تے ہیں ور نہ دل میں تو انہیں اچھا سمجھتے ہی ہیں ۔
    چو نکہ یہ چارو ں دشمن ہیں اور دشمنوں کا تو آپس میں گہرا تعلق ہو تا ہے اور یہ کیسے ممکن ہے سپر دشمن ہی سب کا سر غنہ نہ ہو ۔
    سید ھی سی با ت ہے جو دشمن نہیں ہے وہ محب وطن ہے ۔ ایک محب وطن بد عنوان ہو ہی نہیں سکتا ۔ وہ سیا سی ہو تے ہو ئے غیر سیا سی ہو تا ہے ۔ وہ سپر دشمن سے انتہا در جے کی نفر ت کر تا ہے اور اس کے تما م ممکنہ حما یتو ں کے خلاف جہا د کر تا ہے ، خواہ وہ پا ر لیمنٹ ہو ، ٹیلی ویژن کی سکر ین یا جہا ں بھی مو قع ملے ۔ اس کی قو ت مدا فعیت اس قدر زیا دہ ہے کہ دشمن اور اس کی فکر اس کا کچھ نہیں بگا ڑ سکتی ۔
    تمام محب وطن تنقید سے ما ورا ہیں اور جو ان پر آئین ، شفا فیت ، قا نو ن کی با لا دستی ، اظہارِ آزا دی ، یا جمہور یت کی آڑ میں نکتہ چینی کر تے ہیں وہ غدار کے علا وہ کون ہو سکتے ہیں ؟ یہ محب وطن اعلیٰ ہیں ، سب سے اعلیٰ اور ان کی قو ت اخلاق سے اخذ ہو تی ہے ، آئین اخلا قی قوت کے سا منے کب ٹھہر سکتا ہے؟ ہاں مذہب اخلاقی حیثیت کو چیلنج کر سکتا ہے اور اس لئے تو متعد د مذہبی گرو پ نہ صر ف انہیں اخلاقی جوا ز فراہم کر نے کے لئے تیار رہتے ہیں بلکہ وہ ان کے شانہ بشانہ دشمن سے لڑ تے بھی ہیں۔
    یہ منظر نا مہ خو ش کن نہیں ہے اور واضح طور پر اسٹبلشمنٹ اور سما ج کے کئی طبقا ت کے درمیان وسیع ہوتے تفا و ت کو ظاہر کرتاہے۔یہ بھی ظا ہر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ قو می بیا نیو ں پر اپنا کنٹرو ل رکھنا چاہتی ہے اور اگر کوئی جسارت کر بھی لے تو نا ر ا ضی کا اظہار کر تی ہے خواہ یہ پار لیمنٹ ہی کیو ں نہ ہو ۔
    ایسے وقت میں جب ریاست دہشت گر دی کیخلا ف ایک پیچیدہ جنگ لڑ رہی ہے وہاں ہو نا تو یہ چاہئے تھا کہ اس جنگ کی مختلف عسکری ، فکری اور سیا سی جہتو ں پر غور کا عمل جا ری رہتا اور جہاں کمزوری ہے اُسے دور کیا جاتا تا کہ یہ جنگ جیتی جا سکتی ۔ یہ پا رلیمنٹ کا کا م ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ راست با زی کے مخمصے کا شکارہے ۔
    بشکریہ ڈا ن ۔ 

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآج کیا پکائیں؟
    Next Article میرٹ کا قتل
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by