Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»داعش اور ٹی ٹی پی کا معاملہ کیسے حل ہوگا؟
    کالم

    داعش اور ٹی ٹی پی کا معاملہ کیسے حل ہوگا؟

    رفعت اللہ اورکزئیBy رفعت اللہ اورکزئیاپریل 6, 2022کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    افغانستان میں جب صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت قائم تھی تو اس وقت وہاں سکیورٹی سب سےسنگین مسئلہ تھا، روزانہ کابل اور اردگرد کے صوبوں میں بم دھماکے اور بڑے بڑے حملے ہوا کرتے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں سرحد کے اس پار پاکستان میں امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر سمجھی جاتی تھی۔

    تاہم کابل میں امارت اسلامی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اب حالات اچانک تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کابل اور آس پاس کے صوبوں میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے لیکن اس کے برعکس ڈیورنڈ لائن کے اس طرف امن و امان کا معاملہ غیر متوقع طورپر روزبروز سنگین اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔

    پاکستان میں پہلے صرف کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور کچھ دیگر تنظیموں کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب کچھ عرصے سے دولت اسلامیہ یا داعش بھی اس لسٹ میں شامل کردی گئی ہے۔ آج کل تو ملک میں شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہوگا جب ٹی ٹی پی یا داعش کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں یا عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ اگرچہ ان حملوں کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن اگر یہ سلسلہ اس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ کار وسیع ہو گا جس سے سنگین سکیورٹی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    پشاور میں امامیہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے نے ایک مرتبہ پھر سے شہر میں خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پشاور شہر میں یہ اپنی نوعیت کا بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش کی طرف سے قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    اپنے قیام کےبعد سے لے کر آج تک ان گزرے سات سالوں میں کبھی داعش پر پاکستان میں کھل کر بات نہیں کی گئی بلکہ پاکستان میں ابتداء ہی سے ایک بیانیہ بنایا گیا تھا کہ داعش کے خلاف صفر برداشت پالیسی ہے اور یہ کہ اس تنظیم کا یہاں کوئی وجود ہی نہیں۔ لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد اب یہاں حکمرانوں کی جانب سے اچانک اس بات پر شدت سے زور دیا جانے لگا کہ داعش اور ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ ہے۔

    شاید عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ داعش کے وجود پر کسی بڑی فورم پر بات کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے دولت اسلامیہ کے جنگجو یہاں آرہے ہیں اور پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ اس بیان پر افغانستان کے کچھ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا ۔ سابق صدر حامد کرزئی نے عمران خان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الٹا پاکستان پر داعش جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنصیحت نامہ۔۔۔نوجوانوں کے نام
    Next Article پاکستان کے 100 سے زائد ممتاز شہریوں کا چیف جسٹس سے "نظریہ ضرورت” دفن کرنے کا مطالبہ
    رفعت اللہ اورکزئی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by