Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»انقلاب بہار کے صوفی ازم پر اثرات
    کالم

    انقلاب بہار کے صوفی ازم پر اثرات

    عاطف ہاشمیBy عاطف ہاشمیجنوری 13, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مصر کے معروف جریدے الاھرام کے مطابق جنوری 2011ء تک عرب خطے میں 280 صوفی سلسلے قائم تھے جن میں سے بعض کے پیرکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے

    عرب دنیا  میں تصوف کا مسئلہ  معرکۃ الآراء ہے، اور اس حوالے سے  ہمیشہ سےافراط و تفریط کی فضا قائم رہی ہے،خلیجی ممالک  میں  زیادہ   تعداد سلفی اور وہابی مکتب فکر کی ہے جس کے نزدیک  تصوف  بدعت ہے اور اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ دیگر عرب ممالک میں   تصوف کو  دین کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور متعدد   صوفی سلسلے رائج ہیں۔

    مصر کے معروف جریدے الاھرام کے مطابق  جنوری 2011ء تک عرب خطے میں 280 صوفی سلسلے  قائم تھے جن میں سے بعض  کے پیرکاروں کی تعداد لاکھوں میں ہے، سوڈان میں سلسلہ تیجانیہ، مصر میں سلسلہ رفاعیہ، الجزائر میں رحمانیہ، تیونس میں برھانیہ، مراکش میں علویہ، شام میں شاذلیہ ، لیبیا میں عیساویہ، یمن میں علویہ اور غزالیہ  جبکہ ترکی میں سلسلہ آفندیہ مشہور ہیں۔

    خلیجی ممالک میں  میں تصوف کے سلسلے  بالکل نئے اورانتہائی محدود ہیں،جن میں سے اہم  سلسلہ قادریہ اور نقشبندیہ ہیں جو کہ کویت،امارات اور بحرین میں پائے جاتے ہیں،معلوم یہی ہوتا ہے کہ  برصغیر پاک و ہند سے ہی یہ سلسلے خلیج تک پہنچے ہیں۔

    عرب بہار ” نے جہاں    مادی اور دنیوی  اعتبار سے  منفی اثرات مرتب کیے اور پورے خطے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا وہیں   دینی اور فکری اعتبار سے بھی اس کے کچھ مثبت اثرات نہیں  پڑے،عرب دنیا کے بیشتر سیاسی نظام  تصوف کے سلسلوں کو  سپورٹ کرتے  چلے آئے ہیں تاکہ    عوام  انہیں دین کا خادم سمجھے اور مشیخت  و طریقت میں  مشغول رہ کر سیاسی امور سے لاتعلق رہیں۔

    لیبیا کے  سابق  صدر معمر القذافی  کے  شمالی اور مغربی افریقہ اور  عرب ممالک  پر  اثرو رسوخ  کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی،قذافی  نے مزارات  کے لیے باقاعدہ بجٹ مقرر کر رکھا تھا،اورطرابلس میں صوفیاء و مشائخ کو خصوصی پروٹوکول ملتا جو کہ بسا اوقات افریقی سربراہان و حکام  سے بھی زیادہ ہوتا،جس سے قذافی کوافریقہ کے اکثریتی صوفی طبقے میں پذیرائی ملی اور وہ  سیاسی طور پر مستحکم ہوئے۔اسی لیے جب بغاوت ہوئی  تو  لیبیا کے صوفیا ء نے  قذافی   کے حق میں اور سسٹم کے بقاء کی بات کی تھی۔

    لیبیا میں  رائج سلسلوں کی تعداد 13 ، مصر میں   76 ،سوڈان میں 40   جبکہ مراکش اور الجزائر میں  تقریبا   30،  30 ہے، ان تمام سلسلوں میں   50 فیصد سے زائد  کی اصل  ایک ہی ہے،یہی وجہ ہے کہ   انقلاب بہار  پر ان میں سے اکثر کا رد عمل  بھی ایک جیسا ہی تھا۔ شروع میں  خانقاہوں پر خاموشی چھائی رہی لیکن جلد ہی اکثر مشائخ نے  حکومت اور سسٹم کے حق میں آواز  بلند کی،انقلابیوں اور باغیوں کا ساتھ دینے والے کم ہی تھے۔

    لیکن اب صورتحال مختلف ہے،صوفیا و مشائخ  اور  خانقاہوں  کو سپورٹ  کرنے والے سابقہ سیاسی نظام  تہس نہس ہو چکے ہیں  یا قریب المرگ ہیں، سلفی جہادی  تنظیمیں زوروں پر ہیں ایسے میں  صوفی سلسلوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا مشرق وسطی کے مستقبل سے بڑا گہرا تعلق ہے،اس وقت  پورا خطہ  مسلکی اعتبار سے دو حصوں میں منقسم ہے اور دونوں طرف     خوفناک انتقام کی  آگ بھڑک رہی ہے،اس کے ساتھ ساتھ سلفی اور جہادی تحریکیں  صوفیا کو بھی بجا طور پر  سسٹم کا حامی سمجھتی ہیں،یہ صورتحال خود سنی آبادی کو دو حصوں میں منقسم کر دیتی ہے جس سے خانہ جنگی کے نقوش اور بھی گہرے ہو جاتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے  کہ   پاور اور مفادات کی  اس جنگ  کو  مذہب و مسلک سے الگ کر کے دیکھا جائے،یہ معاملہ خالص سیاسی ہے،کاش ہم اس حقیقت کو سمجھ سکیں اورسیاسی  اختلافات  اور پاور  و مفادات کی جنگ کو مذہب و مسلک سے الگ کر کے دیکھ سکیں،اور کاش کہ  ہمارے حکمران اپنے اقتدار کو بچانے اور اسے طول دینے کے ہتھکنڈوں کو اپنانے کی بجائے  عوام میں شعور بیدار  کریں اور ان کی حقیقی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات اٹھائیں،اسی طریقے سے ان کا اقتدار بھی محفوظ رہ سکتا ہے اور تاریخ میں نیک نامی بھی میسر آسکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمردم شماری میں ’’زبان‘‘ کا مسئلہ
    Next Article ایک خوفناک سوچ
    عاطف ہاشمی

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by