Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مدارس کا نصاب اور شدت پسندی، ربط کیا ہے؟
    کالم

    مدارس کا نصاب اور شدت پسندی، ربط کیا ہے؟

    شفیق منصورBy شفیق منصوردسمبر 10, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔10 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں مدارس سے متعلقہ اصلاحات کا مسئلہ بظاہر تشخیص اور حل دونوں کے اعتبار سے نہایت پیچیدہ رہا ہے۔ اس کی اساسی وجہ مسئلے کی وہ ہمہ گیریت اور پھیلاؤ ہے جو اپنے اثرات کے اعتبار سے ہلکا یا محدود نہیں ہے اور سنجیدہ اصلاحات کے اقدام کی صورت میں نتائج و عواقب کے لحاظ سے بھی خاصا اعصاب شکن ہے جس کی نہ ریاستی نفسیات متحمل نظر آتی ہے اور نہ سماج اسے آسانی سے قبول کرے گا۔ حکومتوں کی جانب سے اصلاحات کے بارہا عزم اور بیرونی دباؤ کے باوجود یہ قضیہ رجسٹریشن سے آگے نہیں بڑھ پایا ہے۔

    جب ’مدارس اصلاحات‘ کی بات آتی ہے تو عموماََ نصاب پر نظرثانی کا تناظر یہ رہتا ہے کہ اس میں کچھ سائنسی و ٹکنیکل مضامین کا اضافہ کردیا جائے اور مدارس اسے بخوشی قبول کرتے آئے ہیں۔ اب وہاں کمپیوٹر، ریاضی، فلکیات وغیرہ جیسے مضامین کی چند کتب شامل ہیں، نہ انہیں پڑھانے والوں کو کوئی اعتراض ہے اور نہ پڑھنے والوں کو شکایت۔

    جب یہ کہا جاتا ہے کہ نصاب میں شدت پسندی اور منافرت پر مبنی مواد کو نکالا جائے تو مدارس کے ذمہ داران ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ ایسا کوئی مواد نصاب میں موجود ہی نہیں ہے۔ ان کا یہ موقف بظاہر درست ہے اور حکومت کو بھی نصاب میں ایسا کوئی مواد کبھی نہیں ملا جو ایسی عبارات پر مشتمل ہو جو سماج میں دہشت گردی، شدت پسندی یا مذہبی منافرت کی کھلی تعلیم دیتی ہوں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ایک منظم فکری شدت پسندی کہاں سے جنم لے رہی ہے، اگر تعلیم کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے؟ کیونکہ ہمارے ہاں جو شدت پسندی ہے یہ وارد نہیں ہے اور نہ محض تحریکی ہے بلکہ یہ مضبوط اعتقادی و فکری جڑیں رکھتی ہے۔ اس کا منبع کہاں ہے؟

    اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ مدارس کا نصاب حرف پرستی اورحتمیت پسندی کی ذہنیت کو فروغ دیتا ہے اور یہ تنقیدی شعور کو پنپنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہر شے حق یا باطل، جائز یا ناجائز کے تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔ یہ ذہنیت رویوں میں بھی سختی کو جنم دیتی ہے اور فرد کو مکالمے کی طرف نہیں بڑھنے دیتی۔ یہ رویہ جب سیاسی و انتظامی میدان میں فعالیت پاتا ہے تو دہشت گردی پر منتج ہوتا ہے۔

    ہمارے ہاں جو شدت پسندی ہے یہ وارد نہیں ہے اور نہ محض تحریکی ہے بلکہ یہ مضبوط اعتقادی و فکری جڑیں رکھتی ہے

    مجموعی طور پہ نصاب کے ذریعے حرف پرستی اور حتمیت پسندی کی ذہنیت کا پروان چڑھانا اسے ایک ذمہ دار بناتا ہے جو معلمین و طلبہ، پھر ان کے توسط سے منبرو محراب اور تبلیغی عمل کے ذریعے نیچے تک سماج میں شدت پسندانہ رویے کی آبیاری کرتا ہے۔ یہ نصاب کا ایک عمومی اثر ہے جو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    جبکہ نصاب کے حوالے سے مسئلے کے چند پہلو اس کے اغراض و مقاصد اور نتیجتاََ اس کے متن سے زیادہ اس کی تشریحات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بات تو یہ ہے کہ مدارس کی دینی تعلیم کو عصری تعلیم کے مقابل گردانا اور پہچانا جاتا ہے۔ جب ٹھارویں صدی کے اواخر سے اور انیسویں صدی میں جدید علم کی بنا رکھی گئی تو اس کے محرکات تحقیق، کھوج اور جستجو تھے۔ گویا عصری تعلیم مستقل بالذات طور پہ ایک ’تعلیمی قدر‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جبکہ اس کے بالمقابل مذہبی تعلیم ایسی نہیں ہے۔ جدید مذہبی تعلیم کی روح میں ردعمل کی نفسیات پائی جاتی ہے۔ یہ اپنی ادارہ جاتی حیثیت میں جدیدیت، عصری سماجی اقدار اور جدید نظم کی مخالفت کی بنا پر کھڑی ہے۔ استعماری عہد میں جب مدارس قائم کیے گئے اس کا مقصد یہی بیان کیا گیا تھا جو اب تک وہی ہے۔ گویا مدارس کی تعلیم مستقل بالذات پہ ایک ’تعلیمی قدر‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مخصوص آئیڈیالوجی ہے جسے جدید سماجی ڈھانچے کے متوازی ایک الگ ڈھانچے کی تشکیل کرنی اور اس کا تحفظ کرنا ہے۔

    مدارس کے اغراض و مقاصد کی روشنی میں نصاب کا مسئلہ متن کا نہیں ہے بلکہ اس کی تشریحات کا ہے۔ جب بھی کسی کتاب کے متن کی شرح اور وضاحت کی جاتی ہے تو اس میں دو چیزیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے پڑھانے والے اور شارح کی ذاتی علمی رسائی اور سرچشمہ تحقیق کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اس کا طبقاتی اور ادارہ جاتی مقتضا و مصالح کیا ہیں۔ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ کا خاص علمی دائرہ ہے جس سے باہر وہ نہیں نکلتے اور یہ دائرہ نہایت محدود اور تعصباتی رجحانات رکھتا ہے۔ اساتذہ جدید مناہج اور علمی آراء سے استفادہ نہیں کرتے، نہ اس کی مدارس اجازت دیتے ہیں کہ وہ آزادانہ تحقیق یا اس کا طلبہ کے سامنے اظہار کریں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کا اداہ جاتی حیثیت کے ساتھ انسلاک انہیں یہ ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ متن کی ایسی تشریحات کریں جو سماج میں اور ریاست کے ساتھ تعلق کے تناظر میں ان کی امتیازی حیثیت اور بالادستی کو قائم رکھے۔

    اغراض و مقاصد کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مدارس کی تعلیم مستقل بالذات ایک ’تعلیمی قدر‘ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مخصوص آئیڈیالوجی ہے جسے جدید سماجی ڈھانچے کے متوازی ایک الگ ڈھانچے کی تشکیل کرنی اور اس کا تحفظ کرنا ہے

    مثال کے طور پہ مدارس کے نصاب میں شامل قرآن کریم، حدیث مبارکہ، فقہ یا دینیات کی تمام کتب میں لفظ ’حیا‘ موجود ہے اور اس کا لحاظ رکھنے کی تعلیم بھی۔ یہ لفظ سب کے لیے قابل احترام ہے اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرسکتا۔ مگر حیا کی شرح کیا ہے، اس کے عصری اطلاقات کیا ہیں اور اس کے ساتھ بے حیائی کے مظاہر کونسے ہیں، وغیرہ۔ جب اس کی تشریحات و توضیحات کی جاتی ہیں تو یہ سب کی الگ ہوتی ہیں۔ اسی طرح نصاب میں بدعت، کفر اور نفاذ شریعت جیسی اصطلاحات ہیں۔ متن تو بے ضرر ہے مگر اس کی تشریحات میں کیا تعلیم دی جاتی ہے، یہ ایک مسئلہ ہے۔ ایسے ہی قرآن کریم سمیت تمام دینیات کی کتب میں جہاد اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی اصطلاحات ہیں۔ ان کی تشریحات کا تو مدارس میں کوئی تعین نہیں ہے اور نہ کبھی پڑھانے والے سے کچھ پوچھا جاتا ہے کہ وہ اس کے ضمن کیا پڑھاتا ہے۔ مدارس کے بڑے ذمہ داران ریاست اور باقی دنیا کو جو بتاتے ہیں وہ سب مدارس کے ہزاروں اساتذہ اپنے طلبہ کو وہ نہیں پڑھا رہے ہوتے۔ آج تک مدارس کی انتظامیہ کی جانب سے مدارس کے اساتذہ کو یہ پابند بنانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ وہ جہاد کا کیا مطلب پڑھائیں اور کیا نہ پڑھائیں۔

    پھر متن کے تحت تشریحات میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس کی حیثت ’علم‘ کی نہیں ہوتی بلکہ ایمان اور عقیدے کی ہوتی ہے۔ عوام کو بھی مذہبی مسائل کی تشریحات اسی انداز میں پیش کی جاتی ہیں اور وہ بھی اسے ایسے ہی قبول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مذہبی اختلافات لڑنے مرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

    مدارس میں ایک مجموعی تأثر یہ ہے کہ وہ ایک ثقافتی و تہذیبی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ ان کا زندگی کا مقصد ہے۔ علماء اپنا فریضہ یہ نہیں سمجھتے کہ ضرورت پڑنے پر وہ دین میں لوگوں کی رہنمائی کریں گے، بلکہ وہ ایک متوازی ثقافت اور تہذیب کے خلاف ایستادہ سپاہی ہیں۔ لہذا اس ذہنیت کے ساتھ جب نصاب کے متن کی تشریحات کی جائیں گی تو اسے کسی تعلیمی نظم کا پرتو قرار کیسے دیا جاسکتا ہے اور اس میں علمی دیانت یا شفافیت کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے۔

    مدارس کے نصاب کا مسئلہ متن کا نہیں ہے بلکہ اس کی تشریحات کا ہے

    یہی وجہ ہے کہ مدارس میں کئی علوم پڑھائے جاتے ہیں لیکن ان کے فارغ التحصیل علما کی گفتگو میں یکسانیت ہوتی ہے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ نہیں ہوتا کہ ان میں کوئی متکلم ہے، کوئی منطقی ہے، کوئی مؤرخ یا شاعر ہے۔ یہ اس لیے کہ مجموعی تربیت میں زور اس پر ہوتا ہے کہ وہ ثقافتی و تہذیبی سپاہی ہیں۔ متون کی ساری تشریحات اسی نہج پر ہوتی ہیں۔

    اسلام آباد کے جس مدرسے میں طالبات ’طاغوت‘ کے خلاف جہاد کے لیے تربیت حاصل کرتی ہیں ان میں بھی وہی نصاب ہے جو دیگر مدارس میں ہے۔ فرق صرف متن کی تشریحات کی شدت کا ہے۔ کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ۔

    مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شامل کتب کی اکثریت اختصاری متون کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے اندر ’عبارات حل کرنا‘ ایک بڑی صلاحیت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا ایک اثر یہ ہوا ہے کہ متون کی تشریحات کا ایک بڑا دروازہ کھلتا ہے۔ پھر ایسی اصطلاحات جو سیاسی و انتظامی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں ان کی قدیم وضاحتیں تو کچھ موجود ہیں مگر جدید تناظر میں ایسا کوئی مواد نصاب کا حصہ نہیں ہے تاکہ ایک معتدل فکر کو اجاگر کیا جاسکے۔ ان کی تشریحات کا کوئی علمی ضابطہ کار موجود نہیں ہے۔

    دینی تعلیم کے نصاب کی یہی حالت عصری تعلیمی اداروں میں بھی ہے۔ وہاں بھی مذہبی مضامین پڑھانے والوں کی بڑی تعداد مدارس کی ہے یا انہی کی فکر سے استفاہ کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں سماجی علوم بھی دینی تناظر میں پڑھائے جاتے ہیں۔

    مدارس اصلاحات کا قضیہ ایک ’تعلیمی‘ مسئلہ ہے اور ریاست کو چاہیے کہ وہ اسے اسی پہلو سے دیکھے اور حل کرے

    یہ درست ہے کہ مجموعی طورپہ ہمارے سارے سماج کی نفسیات میں بھی ایک ایک گونہ شدت پسندی کا عنصر پایا جاتا ہے تاہم مذہبی حوالے سے اس کی مخصوص فکری ساخت کو ’صحیح ہونے کا اعتماد‘ مدارس سے ہی آتا ہے کیونکہ اداہ جاتی حیثیت میں اس ساخت کے فکری ونظریاتی محافظ وہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مدارس سے اعتدال کا بہاؤ ممکن ہوسکے تو شاید سماج بھی اسی ساخت میں ڈھل جائے گا، کیونکہ یہاں کی شدت پسندی وارد یا تحریکی نہیں ہے بلکہ اعتقادی و علمی جڑیں رکھتی ہے۔

    اس لیے جب مدارس کے نصاب میں اصلاحات کی بات ہوتی ہے تو اس میں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ متون کے ساتھ ایسے مواد کی تشریحات شامل کی جائیں جن میں نرمی لانے اور اعتدال پیدا کرنے کی حاجت ہے۔ تاکہ مرضی کی سیکنڑوں تشریحات کی بجائے ایک معتدل زاویہ نظر کو پروان چڑھایا جائے۔ یا ایسے مواد کا اضافہ کیا جائے جس میں فرد، ریاست اور سماج کی جدید تعریفات، ان کے دائرہ کار اور شہریت کے موضوع پر وضاحتیں درج ہوں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے رائے ہموار کی جائے۔ ان موضوعات کو جدید و متقاضی پیرائے میں نصاب کا حصہ بنانا اس لیے ضروری ہے کہ اگر ویسے انہیں تلقین کی جائے گی یا پیغام دیا جائے گا تو اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ نصاب اس ذہنیت کو تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ عمل ایک مضبوط میکانزم کے تحت آجائے گا جس کا اثر ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کی تربیتی مجالس انہیں جدید فکری پیرائے کے جلد قریب نہیں لاسکیں گی اور نہ ہی وہ ان پر ویسا اعتماد کریں گے۔

    مدارس میں اصلاحات کے مسئلے کو دیکھنے کے تناظر کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔ مدارس میں اصلاحات کا قضیہ ایک ’تعلیمی‘ مسئلہ ہے اور اسے اسی پہلو سے دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اسے ایک وقتی انتظامی قضیہ سمجھا جائے گا یا بعض مجبوریوں و مشکلات کے سبب اسے حل کرنے کے اقدامات ہوں گے تو وقت گزرنے کے ساتھ یہ مزید پیچیدہ ہوتا جائے گا۔ لہذا اصلاحات کے مقصد کا تعین بہت اہم ہے جس کے تحت تعلیم کے مقصد کا تعین بھی ہوگا۔ پھر اگر یہ تعلیمی مسئلہ قرار پاتا ہے تو اس کی تشخیص و حل کے لیے سماجیات و تعلیم کے ماہرین کا تعان لینے کی ضرورت ہے تاکہ سمت کا درست تعین ہوسکے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article” رنگروٹ دا قتل”: ایک عمدہ ترجمہ
    Next Article ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں
    شفیق منصور

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by