Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»طالبان کی پابندیاں
    کالم

    طالبان کی پابندیاں

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناستمبر 21, 2020کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دوحہ میں شروع ہونے والے بین الافغان مذاکرات نے افغانستان میں سیاسی مصالحت کی نئی امیدیں پیدا کردی ہیں  ۔ بظاہر ان مذاکرات میں شریک تمام فریقین اس امر سے آگاہ دکھائی دیتے ہیں کہ یہ ایک طویل اور ناہموار مرحلہ ہے اور اس سارے عرصے کے دوران انہیں ممکنہ طور پر اپنے موقف کو بار بار صورتحال کے تناظر میں تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔

    ایک اہم معاملہ جو امریکہ طالبان ڈیل  کے دوران بھی اور اب بین الافغان مذاکرات میں بھی درپیش رہے گا وہ افغان طالبان کا افغانستان میں موجود غیرملکی جنگجوؤں سے تعلقات کا ہے۔

    ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ طالبان نے اس معاملے پر افغان حکومت اور غیر ملکی فریقین کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے موقف پر نظرثانی کا مرحلہ شروع کیا ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان ، جوکہ کچھ عرصہ پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل سے فرار ہوئے تھے،نے گزشتہ ہفتے اپنی اس ٹوئیٹ سے تمام لوگوں کو حیران کردیا  جس میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کا ایک وفد  تحریک طالبان پاکستان سے افغانستان میں قیام کی نئی شرائط طے کررہا تھا۔ ان  کے مطابق طالبان نے غیر ملکی جنگجوؤں بشمول القاعدہ، دولت اسلامیہ اور ٹی ٹی پی  کے لئے ایک 27 نکاتی شرائط نامہ تیار کیا ہے ۔ ان شرائط میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ افغان سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

    احسان اللہ احسان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ افغان طالبان نے غیرملکی جنگجوؤں کے لئے یہ لازم قرار دیا ہےکہ وہ ان کے پاس اپنی مکمل شناخت کے ساتھ رجسٹریشن  کروائیں گے۔ غیرملکی جنگجوؤں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نئے جنگجو بھرتی نہیں کریں گے ، انہی قیام گاہوں میں ٹھہریں گے جو طالبان نے ان کے لئے مختص کی ہیں اور اگر انہیں سفر کرنا ہوگا تو وہ اس کے لئے طالبا ن کو پیشگی مطلع کریں گے۔

    اطلاعات ہیں کہ ٹی ٹی پی نے یہ شرائط مسترد کردیں ہیں تاہم دونوں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پہ اتفاق کیا ہے۔

    اگرچہ آزادانہ ذرائع سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن یہ قابل فہم ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کے لئے ایسی ہدایات کیوں جاری کی گئی ہیں۔ طالبان وفد نے 29 فروری کو دوحہ میں امریکی حکام سے کی گئی ڈیل میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی بھی  دہشتگرد عناصر کو چاہے وہ فرد ہو یا گروپ ،افغان سرزمین سے امریکہ یا اس کےاتحادیوں کے خلاف کاروائی نہیں کرنے دیں گے۔

    بین الافغان مذاکرات کے دوران بھی کسی موقع پر غیرملکی جنگجوؤں کا معاملہ سامنے آیا جس کے دوران افغان طالبان نے ان جنگجوؤں کے متعلق اپنا منصوبہ پیش کیا ۔ اس منصوبے کے مطابق اگر یہ غیرملکی جنگجو پرامن طریقے سے رہنے کی یقین دہانی کروائیں تو انہیں افغان شہریت بھی دی جاسکتی ہے۔ غیر ملکی جنگجوؤں کے لئے طالبان کی حالیہ شرائط سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک ممکنہ امکانی صورت ہوسکتی ہے۔ اس طرح کے منصوبے سے ڈیٹون معاہدہ یاد آتا ہے جوکہ 1995 میں بوسنیا ، کروشیا اور سربیا کے مابین طے پایا تھا ۔ اس معاہدے کے وقت،بوسنیا میں غیر ملکی جنگجوجوکہ بوسنیائی سول ڈیفنس فورسسز کے ہمراہ سال 1992 تا 1994،یوگوسلاویہ کی خانہ جنگی میں لڑچکے تھے، کی کل تعداد 5 ہزار تھی۔ بہت سے جنگجوؤں کو بوسنیائی فوج میں ایک علیحدہ بٹالین بنا کر ضم کردیا گیا۔ ڈیٹون معاہدے کی رو سے ان لڑاکوں کو بلقان کا خطہ چھوڑنا تھا ، مگر بہت سوں نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور ان کی تیسری نسل کو بوسنیائی شہریت دے دی گئی۔

    یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان کی یہ پیشکش تمام غیر ملکی جنگجوؤں کے لئے کارگر ہوسکے گی ۔خاص طور پر ٹی ٹی پی کا افغان سرزمین پر افغان طالبان کی نگرانی میں پرامن رہنا اپنے آپ میں بہت بڑا سوالیہ نشان رکھتا ہے۔ اس طرح کے تجربے کا بوسنیا میں ملاجُلا نتیجہ سامنے آیا تھاکیونکہ محض چند ایسے جنگجو تھے جنہوں نے اپنی جنگی کاروائیاں جاری رکھیں۔نائن الیون کے بعد بوسنیائی حکومت پہ عالمی دباؤ میں بہت اضافہ ہوا اور لگ بھگ 1ہزار کے قریب افراد سے شہریت کا حق واپس لے لیا گیا۔

    تاہم یہ مشکل ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغان طالبان کی شرائط قبول کرے کیونکہ یہ گروہ پاکستانی ریاست کے خلاف اپنے بیانئے سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہے گا۔ دریں اثناء یہ بہت ممکن ہے کہ ٹی ٹی پی اپنے ٹھکانوں کو واپس پاکستان منتقل کرنے کی کوشش کرے ۔ تاہم یہ بھی بہت مشکل ہے کہ ٹی ٹی پی اپنے ٹھکانے پاکستان میں بنا سکے یا پاکستان میں کوئی زمین قبضہ کرکے اپنے آپریشنز کو وہاں سے انجام دے سکے۔ ہاں اگر وہ اپنے گروپ کو توڑ دیں اور چھوٹے چھوٹے سیلز میں تبدیل ہوکر کاروائیاں کریں تو ممکن ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لئے  دہشتگرد کاروائیوں  میں کامیاب ہوجائیں۔ لیکن ایک لمبی مدت کے دوران لازمی ہے کہ ان کا تنظیمی ڈھانچہ داخلی اختلافات کا شکار ہوگا اور یہ ان کی تنظیم کو داخلی سطح پہ کھوکھلا کردے گا ۔ایسی صورت میں فرقہ پرست عناصرلیڈر شپ کے کردار میں  مزیداہمیت کے حامل ہوجائیں گے۔

    دوسری صورت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی ان اقوام کے لئے ایک پراکسی کا کردار ادا کرے جو پاکستان مخالف ایجنڈے کی حامل ہیں۔ اس صورت میں وہ اگر افغانستان کو اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں تو افغان طالبان سے ان کے تعلقات مشکل میں پڑجائیں گے۔ ٹی ٹی پی اور دولت اسلامیہ کا اتحاد ایک مشکل صورتحال ہوگی مگر دونوں گروہ ایک دوسرے کو ایک لمبے عرصے تک دشمن قوتوں کے آلہ کار ہونے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ اگر ان کا اتحاد ہوبھی جائے تو کوئی بہت بڑا اثر خطے پر نہیں پڑے گا کیونکہ دولت اسلامیہ ایک کمزور تنظیم ہے جس کے پاس نہ مالی وسائل ہیں اور نہ وہ سیاسی ،نظریاتی اور عملی سطح پہ ٹی ٹی پی کی کوئی مدد کرسکتی ہے۔

    ٹی ٹی پی کے نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو سب سے مفید صورت یہی ہے کہ پاکستان کی جانب سے انہیں معافی و مصالحت کی پیشکش کی جائےاور وہ پاکستانی ریاست کے سامنے سرنڈر کردیں ۔ افغان طالبان اس طرح کی کسی پیشکش میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کی کسی پیشکش کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں کیونکہ ٹی ٹی پی کی قیادت ماضی میں بھی اس طرح کی پیشکش کو مسترد کرچکی ہے۔ الغرض اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان صورتحال نے ٹی ٹی پی کو ایک بار دوراہے پہ لا کھڑاکیا ہے۔ ایک جانب تو اس کی قیادت اپنے بکھرے ہوئے گروہوں کو ریاست پاکستان کے خلاف متحد کررہی ہے اور دوسری جانب اسے افغان طالبان کی سرپرستی چھِن جانے کا خوف لاحق ہے۔

    القاعدہ کا معاملہ اور ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ امکانی طور پر افغان طالبان کی پیشکش کے لئے زیادہ آمادگی دکھائیں۔  دوحہ میں امریکی مذاکرات کے دوران اس طرح کی اطلاعات آئی تھیں کہ طالبان مذاکرات کاروں کی جانب سے امن ڈیل پر دستخط سے پہلے القاعدہ قیادت سے بھی مشاورت کی گئی تھی ۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ امریکہ اس پیش رفت سے غافل ہوگا۔اگر القاعدہ قیادت افغان سرزمین پہ امن سے رہنے کی ضمانت دیتی ہے تو امریکہ یا نیٹو ممالک کو اس کی زیادہ پروا نہیں ہوگی۔ 11ستمبر 2020 کو القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی جانب سے جاری کی جانے والی آڈیو ٹیپ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن ڈیل کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی گئی۔ ماہرین اس خاموشی کو القاعدہ پر طالبان کے دباؤ کا نتیجہ قراردیتے ہیں۔ ثانیاََ القاعدہ کی قیادت اس وقت تک آرام سے رہنا چاہے گی جب تک انہیں کوئی دوسرا محفوظ ٹھکانہ نہیں مل جاتا۔ القاعدہ افغانستان میں جاری قیام امن کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچائےگی بلکہ وہ اس کو کامیاب ہوتا ہوا دیکھنا چاہے گی تاکہ طالبان دوبارہ طاقت میں آسکیں ۔ یوں القاعدہ کے لئے نئے امکانات کی راہیں کھل سکیں گی۔

    بشکریہ: ڈان

    مترجم : شوذب عسکری

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت اور اس کا حل
    Next Article یو بی ایل لٹریری ایوارڈز کی بندر بانٹ
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by