Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بیانیہ تقریروں سے نہیں عمل سے بدلے گا
    کالم

    بیانیہ تقریروں سے نہیں عمل سے بدلے گا

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامارچ 29, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی گاہے بگاہے کی گئی تقریروں سے حالات بدل جائیں گے اور ایک نیا بیانیہ تشکیل پا جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان شامل ہیں جو ان کے بیانات کی نفی ہے

    کسی مثبت اشارے کی اس وقت تک کوئی وقعت نہیں ہوتی جب تک اس کی جھلک عمل سے ظاہر نہ ہو ۔ہندؤوں کے مذہبی تہوار ہولی میں شرکت ،وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رویئے کی آئینہ دار ہے ۔ان کا یہ بیان کہ ملک میں مذہبی تصادم کا خاتمہ ہونا چاہئے کو بہت زیادہ پزیرائی ملی ہے ۔

    کراچی میں ہولی کی تقریر سے پہلے وزیر اعظم نے جامعہ نعیمیہ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کیا جہاں انہوں نے مذہبی اکابرین پر زور دیا کہ وہ دہشت گردوں کے نظریات کے خلاف متبادل بیانیہ دیں۔در حقیقت کراچی اور لاہور میں دیئے گئے بیانات ایک ہی طرح کے ہیں ۔اصل تضاد یقیناً ریاست کے عمل ،لوگوں کے سوچنے کے انداز اور روئیوں میں ہے ۔کیا کراچی میں وزیر اعظم کی تقریر مردم شماری میں غیر مسلموں کی صحیح رجسٹریشن کی ضمانت ہو سکتی ہے ؟ کیونکہ میڈیا نےاس سلسلے میں کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے۔ کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لئے مزید شواہد درکار ہوں گے تاہم زیادہ تر تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ معاشر ے میں خطر ناک حد تک انتہا پسندی رواج پا چکی ہے اور ملک کی حکمران اشرافیہ اب اس کو ایک حقیقت تسلیم کر چکی ہے ۔مگر وہ اس تصور کا ادراک نہیں کر رہی کہ وہ مذہبی رہنماؤوں کی مددکے بغیر کوئی ایکشن لے سکتی ہے ۔کیونکہ یہ مذہبی لوگ مسئلے کے حل کے ساتھ ساتھ مسئلے کی وجہ بھی ہیں ۔وہ کیونکر اس بیانئے کے خاتمے میں ریاست کی مدد کریں گے جسے انہوں نے ریاست کی آشیر بادسے ہی تخلیق کیا ہےاور جو اب ان کی طاقت کا یا کسی حد تک ان کی بقا کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔

    وزیر اعظم کی لاہور میں تقریر کے بعد کئی مذہبی اکابرین نے ان کے خلاف بیانات دیئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ ریاست ہی تھی جس نے کچھ مفادات کے لئےعسکریت پسند پیدا کئے ۔مگر وہ یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ریاست نے ہی علما کو چھتری فراہم کی اور ملک بھر میں مذہبی دارے قائم کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جن سے مذہبی لوگوں کی آبیاری ہوئی اورساتھ ساتھ ان لوگوں کی بھی جو تشدد کے حامی تھے ۔ اپنی ہیئت میں مذہبی ادارے نہ جدید تھے – انہوں نے مذہبی سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایندھن فراہم کیا۔جنہوں نے اپنے بھر پورمعاشی مفادات حاصل کئے اور ایک ایسا جزیر ہ آباد کر لیا جس کا تعلق اخلاقی اور سماجی اقدارکی آبیاری نہ تھی ۔مذہبی اشرافیہ نے ریاست اور معاشرے کو درپیش چیلنجوں کو بھی در خور اعتنا نہیں سمجھا۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شدت پسند بیانیہ پروان چڑھا ،آئینی ،قانونی اور تعلیمی معاملات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہو گئے۔

    سیاسی و سماجی اشرافیہ کی اس مسئلے کے بارے میں جانکاری بہت محدود ہے کیونکہ وہ ا س کے حقیقی تناظر کو ا س وقت تک نہیں جان سکتے جب تک کہ انہیں مذہبی قیادت ،ریاست اور اس کے اداروں کے باہمی تعلق کے بارے میں ادراک نہیں ہوجاتا۔مذہبی قیادت اور مذہبی اداروں کے گٹھ جوڑ نے عوام کی اخلاقیات اور شہریت پر اجارہ داری قائم کر لی ہے ۔حکومت کے چند افراد بشمول وزیر اعظم اگر مختلف سوچ رکھتے بھی ہیں تب بھی وہ محض خوش کن بیانات سے اس تعلق کو نہیں توڑ سکتے ۔ بڑھتی ہوئی مذہبیت کی وجہ سے مذہبی قیادت اور ریاست کے مابین اس گٹھ جوڑ سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے ۔جس کی وجہ سے ایسا بیانیہ بہت تیزی سے رواج پایا جو مذہبی سیاسی اشرافیہ کی موافقت میں جاتا ہے ۔مثال کے طور پر بہت سے ذی شعور مذہبی مفکرین جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ بھی شامل ہیں ان کا یہ ماننا ہے کہ پاکستان کے 95 فیصد قوانین عین اسلامی ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت ایک فیصلے میں پاکستان کے قانونی ڈھانچہ کو اسلام کی اساس کے مطابق قرار دے چکی ہے۔مگر وہ لوگ جن کے ہاتھ میں مذہب کی باگ ڈور ہے وہ مزید اسلامائزیشن یا ا س کی تعبیر یا اس کا نفاذ اپنے نقطہ نظر کے مطابق چاہتے ہیں ۔ان کے درمیان جو لوگ سخت گیر ہیں انہوں نے اپنا ایک خلاف آئین بیانیہ بنا لیا ہے اور یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ نظام اسلام کے مکمل نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ تشدد کے حامی چونکہ مطمئن نہیں تھے اس لئے انہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے ۔

    پاکستان کا تمام مذہبی بیانیہ اپنی بو باس میں فرقہ وارانہ ہے ۔ بڑھتی ہوئی مذہبیت کا پاکستان کے مروجہ آئینی معاہدات کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فکری پرداخت کی طرف بہت کم رجحان ہے بلکہ یہ اپنے رنگ میں ہی خود کو منوانا چاہتی ہے ۔اس نے مختلف مذہبی قوتوں کے درمیان طاقت اور مفادات کے حصول کی دوڑ شروع کر رکھی ہے جو عوام کے جذبات کو اپنے مفادات کے لئے بھڑکاتے رہتے ہیں۔معاشرہ ا س بات کا عینی شاہد ہے کہ جن مذہبی قوتوں کو انتہا پسندی کے خلاف تریاق سمجھا جا رہا تھا وہی ایک نئے مذہبی گروہ کی شکل اختیار کر گئے ۔ نئی مذہبی بیداری کے نتائج مزید جارحانہ اظہار پر منتج ہوں گے ۔ پاکستان کے مذہبی لوگوں میں معتدل آوازیں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں مگر طاقتور اشرافیہ کا معاشرے کے جدت پسند علما کے ساتھ رابطہ موجود نہیں ہے ۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست اسی طبقے سے دوا لیتی ہے جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں۔

    قانونی ماہر اور وزیراعظم کی قانونی ٹیم کے ممبر ظفراللہ خان نے نئے بیانئے کو اپنی کتابIslam in the Contemporary World میں تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے ۔ پاکستان میں مذہبی ڈھانچے کی از سر نو تعمیر پر زور دیتے ہیں۔تاہم ان کی دانش حکومت کی پالیسیوں میں کہیں جھلکتی نظر نہیں آتی۔بعض دیگر ماہرین یہ تاویل دیتے ہیں کہ قانونی فریم ورک نئے بیانئے کی تخلیق میں مددگار ہو سکتا ہے ۔ایک نامور عالمی قانونی ماہر یہ یقین رکھتے ہیں کہ مسلم دنیا ابھی تک 1945 سے پہلے کی دنیا کے رومان کا شکار ہے جب طاقت کے بل بوتے پر اور قومی مفادات کی خاطر علاقوں پر قبضہ کر لیا جاتا تھا۔وہ شدت پسند جو کہ آئین کو نہیں مانتے انہیں ‘‘فکری گھس بیٹھئے’’ کہا جا سکتا ہے ۔ وہ رجحان جو اچھے اور برے عسکریت پسندوں سے شروع ہوا وہ اب اچھے اور برے مسلمان تک پہنچ چکا ہے ۔جو لوگ اپنی وضع قطع اور سوچ سے جدت پسند مسلمان لگتے ہیں اب وہ خود کو ملک کا اکثریتی طبقہ نہیں سمجھتے ۔معاشرے میں ایک ایسی فکری اقلیت کا ظہور ہو چکا ہے جو کہ پاکستان میں پسماندہ مذہبی اور سماجی گروہوں میں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے ۔

    وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی گاہے بگاہے کی گئی تقریروں سے حالات بدل جائیں گے اور ایک نیا بیانیہ تشکیل پا جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان شامل ہیں جو ان کے بیانات کی نفی ہے۔کسی مؤثر عمل اور پالیسیوں کی بغیر ان کی تقریروں کی انتخابی بیانات کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں ہے ۔کیونکہ اب اگلے عام انتخابات کی آمد آمد ہے ۔

    (بشکریہ ڈان ، ترجمہ : سجاد اظہر )

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمشرق وسطی ٰ اور شمالی افریقہ کی جامعات میں شدت پسندی
    Next Article کرم ایجنسی اور فرقہ وارانہ شدت پسندی
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by