عثمانی دارالخلافہ ترکی اور یورپی ممالک کے درمیان جغرافیائی قربت کی وجہ سے تاریخ میں دونوں نے ایک دوسرے کا اثر قبول کیا۔  یورپ ایک ثقافتی مرکز کے طور پہ جانا جاتا تھا اس لیے ترک عوام کا اس سے ربط کافی مضبوط تھا۔ اٹھارویں صدی عیسوی سے تبشیر اور استشراق کے اسکول بھی دارالخلافہ میں قائم ہوگئے تھے۔ وہاں مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے یورپی حکام ان کے حقوق کے لیے عثمانی خلفا سے تعلق میں رہتے تھے۔ خلفا بھی جدید اسلحے کے حصول اور اپنے فوجیوں کی تربیت کے لیے ترقی یافتہ پڑوسی ممالک سے تعاون حاصل کرتے تھے۔

ترکی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے انیسویں صدی سے ہی کوششیں شروع ہوگئی تھیں۔ خصوصاََ یورپ کے ساتھ گہرے عسکری تعلقات کے قیام کے بعد خلافت کے ادارے میں ایک گروہ ایسا تشکیل پاگیا تھا جو ترکی کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی ہیئت کو تبدیل کرنے کا خواہش مند تھا۔ جدت پسندی کی جملہ مساعی میں ادب اور فن کے لیے کیے جانے اقدامات کو تیزی سے پذیرائی ملی۔ جدید ثقافت کے مظاہر میں سینما بھی شامل تھا۔ سب سے پہلی فلم فرانس کے سینما میں 1894 میں پیش کی گئی تھی۔ اس کے محض دو سال بعد 1896 میں استنبول کے قصرِ یلدز میں سلطان عبدالحمید کی سربراہی میں دیکھی جا رہی تھی۔ فلم کی نمائش سے قبل جب انتظامات کیے جا رہے تھے تو سلطان سمیت تمام لوگ بے چینی سے انتظار کر رہے تھے فرنچ نوجوان(patronat français) جس نے فلم چلائی تھی اسے خلیفہ کے ہاں بہت احترام اور قربت حاصل ہوئی۔ یہ ترکی میں سینما کی مقبولیت کا آغاز تھا۔

اس کے بعد عام لوگوں کے لیے شروع میں استنبول کے ایک قہوہ خانے Sponeck میں فلمیں دکھانے کے پروگرام منعقد کیے جاتے تھے جو بعد میں Fevziye نامی ہوٹل میں منتقل کردیے گئے۔ جب لوگوں کی تعداد اور شغف بہت زیادہ ہوگیا تو ترکی کے شہروں میں کئی سینما گھر کھل گئے جہاں عوام اس تفریح سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ شروع میں چند سینما گھروں کو آگ لگ گئی تھی اس لیے عثمانی حکام کی جانب سے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قوانین بھی متعارف کرائے گئے جن کی پابندی ضروری تھی۔ اگرچہ فلم کی حرمت کے بعض فتوے بھی سامنے آئے تھے لیکن اس کے باوجود لوگوں کا شغف بڑھتا گیا۔حکومت نے منع کرنے کی بجائے اس کے لیے سہولیات مہیا کیں۔

خلافت کے ادارے نے کبھی سینما میں چلنے والی فلموں کے موضوعات یا نوعیت پر قدغن نہیں لگائی

1908 میں عثمانی سلطنت کے دوسرے آئینی دور کے بعد سینما گھروں میں ایسی فلمیں کثرت کے ساتھ دکھائی جانے لگیں جن میں آزادی اور مساوات کا سبق ہوتا تھا۔ لوگوں کو یہ فلمیں پسند آئیں۔ آزادی کے موضوع پر ترک مناکی برادران کی بنائی ہوئی ایک فلم dokumacilarبہت مقبول ہوئی۔ کچھ سیاسی جماعتیں اس شعبے کو اپنے نظریاتی مفادات کے لیے استعمال کرتی تھیں۔ ترکی میں سینما کی تاریخ لکھنے والے بیان کرتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں میں جدیدیت کی طرف میلان پیدا کرنے میں سینما کا کردار بہت زیادہ ہے۔

1919 میں دو فلمیں بہت مشہور ہوئیں، ایک کانام تھا رُوسی مجسمے کا سقوط، جبکہ دوسری کا نام ہمت آغا کی شادی تھا۔ اسی دوران کچھ فلمیں پہلی جنگ عظیم پر بھی بنائی گئیں۔ 1923 میں آگ کا پیراہن پہلی فلم تھی جس میں مسلمان لڑکیوں نے کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم میں ترکوں کی آزادی کی جدوجہد کی تصویر کشی کی گئی تھی۔

سیگمنڈ وائن برگ وہ پہلا شخص تھا جو ترکی کے سینما گھروں میں فلموں کی نمائش کے انتظامات کرتا تھا۔ جب پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو وہ غائب ہوگیا۔ 1925 میں وہ دوبارہ منظرعام پر آیا اور تکسیم اسکوائر کے ساتھ  ایک نیا سینما گھر تعمیر کیا۔ اس کے دائیں جانب جانور رکھنے کا ایک باڑہ اور بائیں طرف ایک فوٹوگرافی کی دکان تھی۔ اس نے یہ دونوں خرید کر سینما گھر میں شامل کردیے۔

سقوط خلافت سے قبل اور بعد ترکی کے اندر بہت ساری چیزوں میں فرق آیا لیکن سینما اور فلم سازی کی صنعت ہمیشہ مقبول عام رہی۔ خلافت کے ادارے نے کبھی سینما میں چلنے والی فلموں کے موضوعات یا نوعیت پر قدغن نہیں لگائی۔ یہ فنون لطیفہ سے ان کے حقیقی لگاؤ کی دلیل ہے۔

بشکریہ: رصیف 22، مترجم: شفیق منصور

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version