مرتبہ : شفیق منصور، حذیفہ مسعود
۱۶ دسمبر۲۰۱۸ء بروز بدھ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس ا سٹڈیز کے زیرِ اہتمام ایک روزہ مکالماتی سیمینار بعنوان ”پاکستان میں مسلکی حرکیات کی تفہیم“کا انعقاد عمل میں لایا گیاجس میں مختلف طبقہ ہائے فکر کی نمائندہ ممتازعلمی شخصیات نے شرکت کی۔ تعارفی نشست کا آغاز پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کے سینئر ریسرچرصفدر سیال نے کیا۔انہوں نے سیمینار کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مسلکی یا فرقہ وارانہ حرکیات کو سمجھنے اور اس کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت اگرچہ ہر جگہ ہے لیکن ہمارے ملک کے منظرنامے کو سامنے رکھا جائے تواس کی اہمیت دوچندہو جاتی ہے۔ مسلکی وفرقہ وارانہ واقعات کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کی نسبت رواں سال صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہےتاہم انفرادی وریاستی سطح پر مزید سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ابھی باقی ہے اور اسی ضرورت کاا دراک کرتے ہوئے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیزنے اس تقریب کا اہتمام کیا ہے۔
بعد ازاں ڈاکٹر خالد مسعود نے سب سے پہلے مسلکیت اورفرقہ واریت کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مسلکیت یا Sect اپنی اصل میں منفی معنی نہیں رکھتا،اس کے اندر منفیت اس وقت در آتی ہے جب اس میں تشدد اور حتمیت کاعنصر پیدا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا ذمہ دار جہاں ایک طرف مذہبی طبقہ ہے وہاں
سیمینار کی دوسری نشست کی صدارت معروف دانشورخورشیدندیم نے کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں اس
