وہی شخص حزب اختلاف کے دور میں ہمارے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلا رہا ہوتا ہے تو اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جیسے ہی وہ حکمران بنتا ہے اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کوخطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔

حکمرانوں کے ساتھ ہمارا رویہ اور برتاؤ کیسا ہونا چاہئے؟ اس بارے شعور وآگہی ازحد ضروری ہے۔ ظلم پہ مبنی عمل صرف حکمرانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ظلم پہ مبنی رویہ عوام کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ عوام کے مجموعی رویے کے پیچھے دانشور اور علماء کا طبقہ ہوتا ہے جو عوام کی تربیت کرتا ہے گویا عوام کی فکری اورسیاسی تربیت کا سہرا دانشوروں اور علماء کے سر ہے۔ اگر یہ دو طبقے جانبدار یا کسی تعصب کا شکار ہوجائیں تو عوام بھی ان کے تخلیق کردہ دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔ میرے خیال کے مطابق دانشور وں اور علماء کا مقام یہ ہے کہ وہ خود کو فریق اور مختلف فیہ بنانے کے بجائے ایک سرپرست اور راہنما کا کردارادا کرتے ہیں ہر طبقہء زندگی کا فرد جن کے پاس راہنمائی کے لئے حاضر ہوتا ہے۔ حکمران، سیاست دان، اپوزیشن الغرض ہر طبقے کے دل میں ان کا وقار و احترام موجودہو۔ جب یہ دو طبقے کسی جماعت اور حکمران کے خلاف فریق بنتے ہیں تو وہ اپنی ذات سے افادہ عام کے امکان کوکم کر دیتے ہیں۔
اسلامی دنیا میں حکمرانوں کی اصلاح وہدایت کے بجائے مخالفت و تنقیص کا مشن اوّل روز سے جاری ہے۔ خاص طور پر ،سیاسی علماء و دانشوروں نے حکمرانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن اور سیاسی کمزوریوں کو اپنے حصولِ اقتدار کی جدوجہد میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کبھی اس نقطہ پہ غور نہیں کیا کہ ہم حصولِ اقتدار کی دوڑ میں اپنا اصل فریضہ و مشن چھوڑ چکے ہیں جس کی ادائیگی سے معاشرہ ، حکومت اور حکمرانوں کی اصلاح کے امکانات زیادہ تھے۔ پاکستان میں ایسے افراد کی شدیدکمی ہے جو حکمرانوں کی حمایت و مخالفت سے ماوراء ہو کر فقط ان کی راہنمائی و ہدایت کے جذبے سے لکھیں اوربولیں۔ حکمران طبقے تک ان کی رسائی ،مراعات وسہولیات کے لئے نہ ہو بلکہ اس خیال سے ہو کہ انہیں امورِ مملکت کے علاوہ ایک اچھا انسان ،خوفِ خدا اور تصورِ آخرت کی تعلیم کے لئے بھی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ انہیں اس طرف توجہ دلائی جائے کہ یہ حکومت و اقتداراور یہ زندگی کے رونق میلے عارضی ہیں۔ ہمیں ایک روز اپنے رب کے حضور حاضر ہونا اور اپنے اعمال کاجواب دینا ہے۔
اگر حکمرانوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کی غرض دنیوی مفاد ہوتا ہے یا پھر کلی طور پر سیاسی مخالفت کا راستہ اختیار کر کے گفت وشنیداورعزت و احترام کے تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں۔ ایک مذہبی شخصیت اس بات کی دعویدار رہی ہے کہ انہوں نے ملک کی کاروباری مقتدر شخصیت اور اس کے خاندان سے ایک پائی نہیں لی۔ مقتدر شخصیت کے خاندان کے ایک اہم فرد کا کہنا ہے کہ مذہبی شخصیت کا دعویٰ سچا ہے کہ واقعی اس نے ان کے ہاتھ سے کچھ نہیں لیا کیونکہ جو کچھ بھی دیا وہ میں نے اپنے ہاتھوں سے دیا۔ اگر نئے ماڈل کی گاڑی کا تقاضا کیا تو میں نے پیش کی۔ جہاز کی ٹکٹ سے مہنگے ترین ہوٹل میں قیام تک،ہر قسم کا انتظام اس کی خواہش پہ میں نے کیا ،لٰہذا وہ مذہبی شخصیت درست فرماتی ہے کہ میں نے ان سے ایک پائی بھی نہیں لی۔آج وہ مذہبی شخصیت ایک عدد سیاسی جماعت کی سربراہ بھی ہے اوردن رات تنقید و تنقیص میں فرق کیئے بغیر حکمرانوں پہ نفرت و تہمت کے تیر برساتی رہتی ہے۔مذہبی اور دینی پس منظرکے حامل افراد سے عوام یہ توقع ر کھتے ہیں کہ ایسے لوگ کردار کی اعلیٰ مثالیں قائم کریں گے۔
عرض یہ کرنا چاہتا ہوں ، مولانا مودودی سے موجودہ مذہبی جماعتوں تک وہ علماء کرام جنہیں افرادی قوت اور مالی وسائل مہیا ہوئے ۔اگر وہ اقتدار وحکومت کا خواب دیکھنے اوراپنے وسائل سیاست کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے ، ایک غیر جانبدار حیثیت میں رہتے ہوئے ، حکمرانوں کے لئے راہنمائی کا ایک مضبوط ذریعہ بنتے اور سیاستدان بننے کے بجائے ایک مصلح(Reformer) کا کردار ادا کرتے تو یہ بہتر ہوتا۔دینی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی کے رہنما ؤں کے سیاسی کردار کاجائزہ لیا جائے تو اس کے نقصانات ان کی اپنی ذات وجماعت کے لئے بہت زیادہ ہیں، اس کے علاوہ پاکستان کے مجموعی ماحول میں اس سیاست سے کئی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔
ان میں سے ایک مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے حکمرانوں سے فریق و حریف کا تعلق قائم کرلیا اورنصیحت و اصلاح کا تعلق قائم نہ کر سکے۔ حکمران بھی ہمارے ہی معاشرے کے فرد ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے وہی شخص حزب اختلاف کے دور میں ہمارے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلا رہا ہوتا ہے تو اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جیسے ہی وہ حکمران بنتا ہے اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کوخطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ اقتدار منزل قرار پائے تو اس دوڑ میں شریک ہر شخص ایک دوسرے کاحریف بن جاتاہے۔
پاکستانی سیاست میں اہل علم کایہی بھرپور سیاسی کردارہو سکتاتھا کہ وہ عملی سیاست کے بجائے علمی سیاست کا راستہ اختیار کرتے یعنی وہ حکومت ،حکمران اور سیاستدانوں کی ہدایات و راہنمائی کے لئے لکھتے اوربولتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ذاتی طور پر ایسے اہل علم کو جانتا ہوں جنہوں نے بے غرضی سے حکمرانوں کی اصلاح کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ ایسے اہل علم کاکردار زیادہ مؤثر اور نتیجہ خیز ہے، ان علماء کرام کی بنسبت جو سیاست کی وادی میں ’’یتیھون فی الارض‘‘کی حالت میں گھوم رہے ہیں ۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version