آپ کسی بھی رخ آدھا گھنٹہ چلیں تو آپ کو برباد ہوتے سماج میں مضبوط ہوتے مافیا ملیں گے
قدیم انسان غاروں کی دیواروں پر لکھتا تھا، نقش و نگار بناتا تھا۔ آج تک ان اولین تحریروں کے مطالب سمجھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پتھروں پر کندہ یہ حرف آج بھی محفوظ ہیں۔ ارتقاء کے اس سفر میں انسان نے صدیوں کاغذ اور قلم سے بھی اپنا رشتہ نبھایا اور علم کے ڈھیروں ذخائر آج محفوظ ہیں۔ جدید انسان نے ایک بار پھر دیواروں پر لکھنا شروع کیا ہے اور یہ دیوار سائبر سمندر میں’’کمپیوٹر کی وال‘‘ ہے۔ یہ ماضی سے بہت مختلف ہے اگلے ہی کلک میں بدل جاتی ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں!نئی نسل کے مطالعہ کے انداز بدل چکے ہیں اب وہ قدموں پر چل کر لائبریری جانے کی بجائے اپنی انگلیوں کے سہارے انٹرنیٹ کی دنیا میں سرچ اور اسٹوری کرتے ہیں۔
تجزیات نے بھی خود کو اس نئے عہد کے ساتھ ڈھالنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔
انسانی سماج اور سیاست کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ سماج کی تشکیل جن اصولوں اور ضابطوں پر ہوئی ہے انہیں سیاست طے کرتی ہے۔ سماج کی فکر، اداروں، قوانین المختصر ہر چیز پر سیاست کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ سماج کوئی جامد چیز ہے اور نہ ہی سیاست۔ بدلتے حالات کے ساتھ دونوں ایک دوسرے پر اپنے اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں اور زندہ سماج وہی قرار پاتے ہیں جو اچھی سیاست کی بدولت آگے بڑھ جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سماج کی بنیادی اکائی فرد اور سیاست کا محور و مرکز فرد کی بہتری ہوتا ہے۔ آج دنیا میں7 ارب سے زائد افراد بستے ہیں اور انسانی تخلیق کا حسن باکمال یہ ہے کہ ہر فرد اپنی قامت، ذہانت، رنگت اور مہارت میں ایک دوسرے سے مختلف ہے شاہد اسی لیے دنیا کی سب سے چھوٹی اقلیت ہے۔ جب سماج افراد کا مجموعہ ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مختلف اقلیتوں کے باہم اکٹھ کا نام ہے۔ کس کی بات کیسے سنی جائے اور مختلف نقطہ ہائے نظر دلائل، سوچ اور اپروچ میں توازن کیسے برقرار ہرے گا اور کس کو ترجیح ملے گی۔ یہ نظام ہمیشہ سماج کی سیاست نے طے کیا ہے۔ تاریخ اس ارتقاء کی کہانی کو حکم حاکم سے شروع کرکے عصر حاضر میں عوام کی حاکمیت تک لے آئی ہے۔ اس تہذیبی ارتقاء میں مذاہب،روایات، انسانی تجربات اور کئی فلسفوں کی حصہ داری ہے۔آج بھی یہ مباحث جاری و ساری ہیں جو کہ زندگی کی علامت ہیں۔
پاکستانی سماج کی تاریخی جڑیں تو مہر گڑھ،موہنجو ڈارو، ہڑپہ، کوٹ ڈجی اور گندھارا میں ملتی ہیں۔ مقامی افکار کی ہفت رنگی بھی بے مثال ہے، سیاست پر قدیم کتاب ارتھ شاستر بھی چانکیہ نے اس دھرتی پر لکھی۔ الہامی مذاہب یہاں پہنچتے تو بدھ مت، ہندو مت اور سکھ مت نے جنم ہی اسی خطے میں لیا۔ جب یہ علاقہ حملہ آوروں کی گزر گاہ بنا تو وہ بھی اپنے فکری اور تہذیبی اثرات چھوڑ گئے۔ صوفیاء نے بھی اپنے رنگ جمائے۔ بلھے شاہ، شاہ لطیف، شاہ حسین، رحمان بابا، مست توکلی، بابا فرید نے علم و حکمت کے چراغ جلائے۔ انسان دوستی اور اقتدار کی کشاکش کی یہ کہانی طویل بھی ہے اور رہنمائی کے کئی امکانات فراہم کرتی ہے۔ ان ساری باتوں کو ایک کالم میں بیان کرنا خاصا مشکل ہے۔
تاہم آج کے پاکستانی سماج کی طرف آتے ہیں۔کسی بھی دوسرے سماج کی طرح آج کے پاکستان کی کئی جہتیں اور چہرے ہیں۔ میگا مال، میوزوک موٹروے اور میٹرو کی جدیدیت سے لیکر انتہائی پسماندہ علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے مشترکہ پانی گھاٹ تک کئی حقیقتیں ہیں۔ ہر کہانی کا اپنا اپنا پس منظر ہے۔ فکری اعتبار سے بھی یہاں ہفت رنگی ہے۔ جدید اور قدیم ترین سوچوں کیلئے یہ خطہ بیک وقت ذرخیز ہے اور ان کی بھرپور آبیاری کرنے والے بھی انتہائی شدومد کے ساتھ موجود ہیں۔ گویا ایک پاکستان کے اندر کئی پاکستان ہیں اور ہر پاکستان کئی اپنی اپنی سیاست، افقی اور عمودی طور پر منقسم سماج کو باندھ کر رکھنے والی سبز کتاب کا نام آئین پاکستان ہے۔ یہی دستور اس سماج کی طرف بڑھنے کا تصور دیتا ہے جہاں سماجی اور معاشی انصاف ہو، عوام کی فلاح ہو، عقائد کی آزادی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا تحفظ ہو۔ وفاقی اکائیوں کو حقوق ملیں۔ طویل عرصہ تک سرزمین بے آئین رہنے والے ملک میں1973ء کا دستور بھی بن گیا تو آمریت کے طویل ادوار نے اسے عوام کی زندگیوں اور سماج سے کاٹ کر گہری نیند سلا دیا۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی گاہے بگاہے اس پر نظریہ ضرورت کی مہر لگائی۔ نتیجتاً طاقت، دھونس اور دھاندلی کا ایسا راج آیا کہ آپ کسی بھی رخ آدھا گھنٹہ چلیں تو آپ کو برباد ہوتے سماج میں مضبوط ہوتے مافیا ملیں گے۔ نیم خواندہ معاشرے میں کالے دھن کا اتنا راج نظر آتا ہے کہ سیاست اور حکومت سہمی سہمی نظر آتی ہے یا پھر بہت ہی سست رفتار!
آبادی کے اعتبار سے دنیا کے چھٹے بڑے نیو کلیئر ملک کو اس طرح چلانا خطرناک بھی ہے اور خوفناک بھی۔ہمیں جاگنا ہوگا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ توانا اور پھلتے پھولتے سماج اور اچھی، دور اندیش سیاست کے باہم ربط پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کامیاب اور ناکام تجربات کی کہانیاں بھی دستیاب ہیں۔پاکستانی سماج کو آج اچھی اور دور اندیش سیاست کی ضرورت ہے. کیا 20کروڑ آبادی میں ایسے چند لوگ موجود ہیں جو پاکستانی خواب کو تعبیر آشنا کرنے کیلئے سیاست کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال سکیں اور باقی تمام لوگ اپنے ووٹ کی قوت اور رائے کی صلاحیت سے اس سفر کو بامقصد بنائیں۔

