جب تحریکیں گلی اور محلوں میں آ جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے آگے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتی

آٹھ جولائی کو کشمیری حریت پسند برہان وانی کی شہادت ہوئی ۔اس کے جنازے میں دو لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے ۔اس کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں ۔برہان وانی کی شہادت کو ایک ماہ گزر چکا ہے مگر کشمیر کے حالات سنبھلنے میں نہیں آرہے ۔بدستور کرفیو نافذ ہے ۔51 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 3100 زخمی ہیں ۔بھارتی فوجی مظاہرین پر چھرے والی بندوقوں سے فائر کر رہی ہے جس کے نتیجے ،میں سو سے زائد افراد کی بینائی جا چکی ہے ۔

1989ء سے اب تک کشمیریوں کی حریت کی تحریک میں 71ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں ۔بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لئے اپنی پانچ لاکھ سے زائد فوج کو کشمیر میں رکھے ہوئے ہے ۔مگر پھر بھی کشمیریوں میں آزادی کی چنگاریوں کو بجھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ برہان وانی ہی کی مثال لے لیں ۔ اس نے جب ہوش سنبھالا تو انڈیا کا جبر دیکھا ۔وہ مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا ایک ہونہار نوجوان تھا ۔ 2010 ء میں جب اس کی عمر ابھی 15 سال تھی تو اس دوران کشمیربھر میں بھارتی جبرو استبداد کے خلاف مظاہرے جاری تھے ۔اسی سال موسم گرما میں نہتے مظاہرین پر فائرنگ کر کے بھارتی افواج نے 110 کشیریوں کو شہید کردیا تھا۔ اسی دوران برہان اور اس کے بھائی  خالد کو بھارتی فوج نے گھر سے اٹھا لیا ۔پوچھ گچھ کے نام پر ان پر تشدد کیا گیا ۔جلتے سیگریٹ سے ان کے جسموں کو داغا گیا ۔ انھیں ٹھڈے مارے گئے ۔ برہان جب  واپس آیا تو اس نے  گھر بارچھوڑ کر پہاڑوں میں حریت پسندوں کے ایک چھوٹے سے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ گزشتہ سال برہان وانی کا بھائی خالد جوکہ اکنامکس میں ایم اے کر رہا تھا اسے بھارتی فوج نے گولی مار کر شہید کر دیا ۔اس سال آٹھ جولائی کو بھارتی فوج نے برہان وانی کو بھی شہید کر دیا ۔نیویارک ٹائمز نے اپنی 26 جولائی کی اشاعت میں لکھاہے کہ برہان وانی کی شہادت سے کشمیر میں ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے "برہان تیرے خون سے انقلاب آئے گا "۔

دنیا کے تمام خود مختار سروے یہ بتاتے ہیں کہ کشمیریوں کی اکثریت یعنی 66 فیصد سے 75 فیصد آزادی چاہتے ہیں ۔ کشمیری درحقیقت اقوام ِ متحدہ کی قرار دادوں پر عمل در آمد کے متمنی ہیں ۔لیکن  کشمیریوں کو نہیں معلوم کے اقوام ِ متحدہ میں ان کے حق میں 21 اپریل 1948 کو منظور کی گئی قرار داد نمبر 47 اور بعد ازاں قرار داد نمبر 49  کی حیثیت محض سفارشی ہے ۔ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ کی قرار دادیں شیڈول نمبر چھ کے زمرے میں آتی ہیں یعنی اگر فریقین اس کو تسلیم کر لیں تو ٹھیک وگرنہ ان کی مرضی ۔جبکہ عراق اور مشرقی تیمور سے متعلق قرار دادیں  شیڈول نمبر سات کے زمرے میں آتی ہیں ۔جس کے تحت منظور کی گئی قرار دادوں پر عمل در آمد کروانا اقوام ِ متحدہ کے تمام ارکان اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کی ذمہ داری ہے ۔کشمیریوں کے ساتھ عالمی برادری نے جو کھلواڑ کیا کشمیریوں کی تیسری نسل اسی کا خمیازہ بھگت رہی ہے ۔

لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو دنیا بھی ان تنازعات کی بھاری قیمت چکا رہی ہے جو حل طلب ہیں ۔ فلسطین کے ساتھ کشمیر اقوام ِ متحدہ کے ایجنڈے پر ایک عرصے سے موجود ہے ۔ شدت پسندوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا کے امن کو جس طرح تہہ و بالا کیا ہے اس میں دیگر وجوہات کے ساتھ  فلسطین اور کشمیر کے تنازعات بھی ہیں ۔القاعدہ کے بعد دولت اسلامیہ کی پیدائش انہی تنازعات کی کوکھ سے ہوئی ہے ۔ اگر اقوام ِ متحدہ اپنے وعدوں کو فراموش نہ کرتی تو آج دنیا نسبتاً ایک پر امن ، روادار اورخوشحال دور میں ہوتی ۔ پاکستان اور انڈیا کی آبادی کو ملایا جائے تو  یہ تقریباً  دنیا کی مجموعی آبادی کا بیس فیصد ہے ۔اگر یہاں امن ہوتا اور یہ ممالک اپنی آمدنی کا غالب حصہ فوجوں پر نہ خرچ کر رہے ہوتے تو یہاں آج انسانی ترقی مثالی ہوتی کیونکہ یہاں وسائل کی کمی نہیں مگر تنازعات نے ان ممالک کی غالب آبادی کو خط ِ غربت سے بھی نیچے پہنچا دیا ہے ۔

مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں اعتماد کی شدید کی کمی ہے جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے اپنی  شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں دونوں ممالک میں تین جنگیں بھی  کشمیر کے حل کی کوئی راہ نہیں نکال سکیں ،دونوں ممالک ایک اور جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں ۔ بھارت کا مسئلہ اس کی انتہا پسند سوچ ہے وہ سوچ جس نے شروع میں ہی گاندھی کو بھی نہ بخشا۔ پاکستان کا مسئلہ انڈیا کے توسیع پسندانہ عزائم   کے سامنے عدم تحفظ کی وہ سوچ ہے جس نے پاکستان میں فوجی اشرافیہ کو اتنا طاقتور کر دیا ہے کہ اب سیکورٹی امور پر وہ کسی اور کو جوابدہ ہی نہیں سمجھتی۔ یہ سلسلہ دونوں اطراف ہنوز جاری ہے ۔بھارت کا سیکولر ازم اپنی جگہ مگر وہاں سیاست میں انتہا پسندوں کا عمل دخل بہت بڑھ گیا ہے ۔جب سرحد کے اس پار مودی جیسا شخص وزیر اعظم بن جاتا ہے تو اس جانب کی اشرافیہ کے سامنے کئی سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

کشمیر کے حل کی اگر کوئی سنجیدہ کو شش ہوئی بھی تو وہ مشرف کو دور میں ہوئی تھی ۔ جب من موہن اور مشرف کشمیر کے مسئلے کو دس یا پندرہ سال کے لئے  دونوں ممالک کے درمیان ایک بفر سٹیٹ کا درجہ دینے کی جانب بڑھ رہے تھے مگر یہاں جس طرح مشرف روز بروز کمزور ہو رہے تھے اس سے بھارتی قیادت یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ کسی بڑے معاہدے کے لئے جس طرح کے سیاسی حالات درکار ہوتے ہیں ویسے اب پاکستان میں نہیں رہے۔ آج کے حالات میں نواز شریف کو ایک مشکل اپوزیشن کا سامنا ہے ۔مودی حکومت کی جانب سے بھی مسئلے کے حل کی جانب کوئی اشارے  نہیں ہیں اس لئے نواز شریف مسئلہ کشمیر کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کر سکتے جس سے ان کی سیاسی مشکلات بڑھ جائیں ۔

کشمیریوں کی نئی نسل آزادی کے لئے زبردست انگڑائی لے چکی ہے ۔سماجی رابطوں کے نئے ذرائع نے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو تیز کر دیا ہے ۔ ایسے لگتا ہے کشمیرکے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی برہان وانی موجود ہے ۔دنیا ان کے مئوقف کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے لگی ہے۔ایسے میں بھارت کی کوشش ہے کہ وہ اس تحریک میں پاکستان کے ان گروہوں کی مداخلت ثابت کرے جن کو اقوام ِ متحدہ کی لسٹ میں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ  پاکستان پھونک پھونک کر قدم رکھے ۔کشمیریوں کی اخلاقی ،سیاسی اور سفارتی مدد تو کی جائے مگر ماضی کی غلطیوں کو دوھرایا نہ جائے  ۔ کشمیریوں کو خود موقع دیا جائے ۔کیونکہ جب تحریکیں گلی اور محلوں میں آ جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے آگے زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتی ۔برہان وانی کی شہادت اس تحریک کو اس مقام پر لے آئی ہے ۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version