یہ مضمون ولی نصر کی معرکہ آرا کتاب Iran’s Grand Strategy سے منتخب اقتباسات کے ترجمے پر مشتمل ہے، ولی نصر کی کتاب Iran’s Gr and Strategy کے مطابق ایران ایک طویل عرصے سے خود کو ایک منفرد اور تنہا ملک کے طور پر دیکھتا آیا ہے۔ ایک فارسی شیعہ قوم جو اپنے عرب ہمسایوں سے مختلف ہے اور نہ مشرق کے ساتھ منسلک ہے اور نہ مغرب کے ساتھ۔ اگرچہ ایران اپنے خطے میں سب سے پہلے آئین بنانے والا ملک تھا، لیکن بین الاقوامی مداخلت کے نتیجے میں 1953 میں ایک بغاوت ہوئی جس نے ملکی قیادت میں گہری ناراضی کو جنم دیا اور حقیقی خودمختاری کی خواہش کو مزید تقویت دی۔ 1979 کے انقلاب، جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی، جس کی شناخت اس کے امریکہ مخالف جذبات سے ہوئی، اور اس کے بعد ہونے والی ایران۔عراق جنگ نے بقا کو یقینی بنانے کے لیے مزاحمت اور پیشگی دفاع (فارورڈ ڈیفنس) کی ایک ایسی پالیسی تشکیل دی جو کئی دہائیوں تک جاری رہی۔ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی اس کی کوششیں بالواسطہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خطے سے نکالنے کے مقصد سے جڑی ہوئی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت اس نے پراکسی قوتوں اور مسلح جدوجہد پر انحصار کیا۔ اگرچہ اس پالیسی نے نمایاں توسیع اور تزویراتی فوائد فراہم کیے، لیکن اس نے سخت پابندیوں کو بھی جنم دیا، داخلی بے چینی میں اضافہ کیا، اور علاقائی حریفوں کو ایران کے خلاف متحد کر دیا۔ آج اسلامی جمہوریہ ایک نازک انتخاب کے دوراہے پر کھڑی ہے: یا تو اپنے واحد وژن سے چمٹی رہے یا بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالے تاکہ اپنی طاقت اور جواز کو محفوظ رکھ سکے۔ ولی نصر عالمی سیاسیات، بالخصوص مسلم دنیا، مشرق وسطیٰ اور ایران کے ممتاز ماہر اور متعدد امریکی تحقیقی مراکز و تھنک ٹینکس سے وابستہ مصنف کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اس کتاب کے منتخب اقتباسات کا ترجمہ ڈاکٹر محمد حسین نے کیا ہے۔
اگر آپ غزہ کی جنگ پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو ممکن ہے آپ نے ’محورِ مزاحمت‘ (Axis of Resistance) یا مقاومت کی اصطلاح سنی ہو۔ لبنان سے یمن تک پھیلی اتحادی ملیشیاؤں کا یہ نیٹ ورک ایران کی سیاسی اشرافیہ کی دہائیوں پر محیط کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان سب کو جو چیز متحد کرتی ہے وہ ایک مشترکہ ہدف ہے: امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ہمیشہ کے لیے خطے سے باہر نکال دینا۔
یہاں تک کہ مشہور سیاست دان ہنری کسنجر بھی یہ سمجھتے تھے کہ ایران کے محرکات مذہبی نظریے میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ سوچ 2015 میں بدلی، جب ان کی ملاقات ایک ایرانی نمائندے سے ہوئی جس نے وضاحت کی کہ اس کے پیچھے ایک کہیں زیادہ وسیع عظیم حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ آئندہ حصوں میں ہم دیکھیں گے کہ یہ حکمتِ عملی کیسے وجود میں آئی، اور یہ کس طرح خودمختاری اور سلامتی کی ایک بنیادی اور بعض اوقات خود تباہ کن خواہش میں جڑی ہوئی ہے۔
منفرد اور تنہا
جدید ایران کو چلانے والی قوتوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایران خود کو کس طرح دیکھتا ہے۔ اس حوالے سے دو خصوصیات ایسی ہیں جو ایران کے اپنے بارے میں بنائے تصور کی تعریف بن چکی ہیں: وہ بیک وقت منفرد بھی ہے اور تنہا بھی۔
وہ منفرد اس لیے ہے کہ عرب اور ترک نژاد سنی طاقتوں کے غلبے والے خطے میں وہ واحد فارسی شیعہ ریاست ہے۔ یہی بات اس احساس سے بھی جڑی ہے کہ ایران خود کو دنیا میں تنہا محسوس کرتا ہے، تاہم اس کے عظمت اور کمزوری کے احساس کی جڑیں صفوی سلطنت تک جاتی ہیں، جو تقریباً 1501 سے 1722 تک قائم رہی۔ اس دور میں ایک نمایاں فارسی شیعہ شناخت ابھری، جس کا مقصد مغرب میں سنی عثمانی سلطنت اور مشرق میں مغل سلطنت سے ایران کو ممتاز کرنا تھا۔ صفوی بادشاہوں نے شیعہ مذہب کو ریاستی مذہب کے طور پر نافذ کیا اور ایک عرصے تک انہوں نے شاہی طاقت حاصل کیے رکھی، لیکن اٹھارویں صدی میں ان کے زوال نے عدم استحکام اور غیر ملکی مداخلت کے ایک طویل دور کا آغاز کیا۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں ایران کو مشرق و مغرب سے دو مختلف سامراجی خطرات کا سامنا کرنا پڑا: ایک طرف روسی توسیع پسندی اور دوسری طرف برطانوی عزائم۔ ایران جزوی طور پر اس لیے بچ سکا کہ یہ دونوں قوتیں اسے تقسیم کرنے کے طریقے پر متفق نہ ہو سکیں، جس کے نتیجے میں تہران کو ایک کو دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کا موقع ملا۔
اس دوران ایران نے کچھ سخت اسباق سیکھے۔ اگر اسے زندہ رہنا اور خودمختار رہنا تھا تو اسے ایک مضبوط ریاست قائم کرنا ہوگی۔ چنانچہ 1906 میں آئینی انقلاب برپا ہوا، جس کی قیادت تاجروں، دانشوروں اور علما کے ایک غیر متوقع اتحاد نے کی۔ انہوں نے خطے کا پہلا آئین اس مقصد کے ساتھ تیار کیا کہ بادشاہت کو محدود کیا جائے، قانون کی حکمرانی قائم کی جائے اور خودمختاری کا تحفظ کیا جائے۔ لیکن صرف آئین کافی نہیں ہوتا۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے محفوظ سرحدیں اور قانون و نظم نافذ کرنے اور ترقی کو آگے بڑھانے کے ذرائع بھی ضروری ہوتے ہیں۔
پہلی عالمی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے انتشار کے بعد امید نظر آئی۔ 1921 میں فوجی افسر رضا خان نے اقتدار پر قبضہ کیا، غیر ملکی افواج کو نکالا اور داخلی بغاوتوں کو کچل دیا۔ علما کی ترغیب پر بادشاہت بحال کرتے ہوئے وہ رضا شاہ پہلوی بنے۔ ان کے دورِ حکومت میں علاقائی سالمیت اور مرکزی اختیار کا احساس بحال ہوا اور جدیدیت کا آغاز ہوا۔لیکن یہ عمل آمریت کی جانب بھی مائل ہو گیا۔
رضا شاہ کی حکومت دوسری عالمی جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی مختصر ہو گئی، جس نے ایک بار پھر ایران کو عالمی طاقتوں کا میدانِ جنگ بنا دیا۔ اس جنگ نے ایران کی معیشت اور خودمختاری کو شدید نقصان پہنچایا، جب برطانیہ اور سوویت یونین نے حملہ کیا، رضا شاہ کو جلاوطن کیا اور ان کے بیٹے محمد رضا شاہ کو تخت پر بٹھا دیا۔
اس کے بعد آنے والی سرد جنگ کے دوران، جب برطانیہ اور روس کے درمیان رقابت شدت اختیار کر گئی، شاہ نے برطانیہ کی طرف جھکاؤ اختیار کیا۔ اگرچہ سوویت اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا، لیکن اس اقدام نے کچھ حد تک استحکام اور سلامتی فراہم کی۔ تاہم، جیسا کہ ہم اگلے حصے میں دیکھیں گے، دونوں میں سے کسی کے پاس بھی ایران کے مسائل کا حل نہیں تھا۔ نہ مشرق کی کمیونزم اور نہ مغرب کی لبرلزم ایران کی قیادت کے لیے موزوں تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ سلامتی، طاقت، ثقافتی تحفظ اور ترقی کے درست توازن کی تلاش میں وہ بالکل تنہا ہیں۔
دشمن کے مقابلے میں سے زیادہ دیر تک قائم رہنا
جب 1988 میں ایران۔عراق جنگ ختم ہوئی تو کوئی بھی فریق فاتح نہیں تھا، مگر ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کی خاص بات یہی ہے: محض بقا ہی کامیابی ہے۔ طویل اور خونریز ایران۔عراق جنگ کے دوران تشکیل پانے والی یہ پالیسی 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد بھی طویل عرصے تک ایران کی پالیسی کو تشکیل دیتی رہی۔ ان کے جانشین، سپریم لیڈر علی خامنہ ای، نے دنیا سے الگ ایک اسلامی ریاست کے تصور سے وابستگی برقرار رکھی۔
تاہم جنگ نے ایران کو کمزور بھی کر دیا تھا اور اسے تعمیرِ نو کی شدید ضرورت تھی۔ چنانچہ اگلے سولہ برسوں تک دو حقیقت پسند اور اصلاح پسند صدور نے ملک کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں پیش رفت کی۔ انہوں نے نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی اور یورپ اور ایشیا کے ساتھ تجارت کو محتاط انداز میں دوبارہ کھولا، جبکہ بیرونِ ملک زیادہ کھلے انقلابی ہتھکنڈوں کو کم کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کی جانب صدارتی کوششیں 2015 کے جوہری معاہدے پر جا کر عروج پر پہنچیں، جس سے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی آئی۔ لیکن 2018 میں امریکا کی دستبرداری نے اس دروازے کو مؤثر طور پر بند کر دیا اور ایران میں امریکا مخالف غصے کو دوبارہ بھڑکا دیا۔
اس کے باوجود، برسوں سے یہ بات واضح رہی ہے کہ اگرچہ صدارتی لہجے میں تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ کے بنیادی راستے میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔
پیشگی دفاع (Forward Defense) بدستور عظیم حکمتِ عملی رہا ہے، اور یہ 2010 میں عرب اسپرنگ کے بعد واضح طور پر سامنے آیا۔ اگرچہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچی، ایران کی توجہ شام پر مرکوز رہی، جو اس کا پرانا اتحادی اور حزب اللہ سے جڑنے والی ایک کلیدی کڑی تھا۔ جب 2011 میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تو ایران نے اسے اپنی اس حکمتِ عملی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھا جس کا مقصد خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنا تھا۔ ایران نے فوجی دستے، حزب اللہ کے جنگجو اور شیعہ ملیشیائیں تعینات کیں، اور جنگ کو مقدس مقامات اور قومی سلامتی کے دفاع کے طور پر پیش کیا۔
2014میں ایک اور خطرہ سامنے آیا، جو عراق اور شام کی اسلامی ریاست، یعنی داعش، کی صورت میں تھا۔ اس کی شیعہ مخالف سفاکیت اور عراق پر قبضے کا حقیقی خطرہ اس قدر شدید تھا کہ داعش کے خلاف لڑائی کو اندرونِ ملک اتنی حمایت حاصل ہوئی کہ ایران نے اپنی فوجی کوششوں میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ طور پر ہم آہنگی بھی کی۔
شام میں ایران کی مداخلت کے نتیجے میں اس کی اپنے پرانے دشمن روس کے ساتھ ایک تزویراتی شراکت داری بھی قائم ہوئی۔ بعد ازاں ایران نے یوکرین میں ماسکو کی جنگ کے لیے ڈرون اور میزائل معاونت فراہم کی۔ مگر تہران کو مشترکہ تجارتی منصوبوں اور بحیرۂ اسود سے بحیرۂ عرب تک پابندیوں سے محفوظ ایک راہداری کی صورت میں فائدہ بھی حاصل ہوا۔
اسی دوران ایران کا ملیشیاؤں کا نیٹ ورک مسلسل پھیلتا رہا۔ یمن میں ایران نے حوثیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی، جو 2020 تک صنعا پر قابض ہو گئے اور سعودی و اماراتی شہروں کے لیے خطرہ بن گئے۔ دہائی کے وسط تک ایران کا اثر و رسوخ بغداد، بیروت، دمشق اور صنعا تک پھیل چکا تھا، جس کی دفاعی بچاؤ یا Deterrence اور پراکسی قوتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑھتا ہوا میزائل ذخیرہ تھا۔ عراق میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل حملوں نے ان کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
حالیہ عرصے میں ایران کے پراکسی نیٹ ورک نے لبنان سے غزہ تک محاذوں کو اسرائیل مخالف مشن کے تحت متحد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی۔اسرائیلی تعلقات کی معمول پر آنے کی کوششیں رک گئیں اور فلسطینیوں میں ایران کی حیثیت بلند ہوئی۔ اندرونِ ملک نوجوانوں کی کمی کے باعث، تہران کو بیرونِ ملک نوجوان جنگجوؤں کی ضرورت ہے، اور اس نے عراق، یمن، غزہ اور افغانستان سے دسیوں ہزار افراد کو فاطمیون بریگیڈ اور پاپولر موبلائزیشن فورسز جیسے گروہوں میں بھرتی کیا ہے۔
ایران کی عظیم حکمتِ عملی نے دراصل ایک سرحد پار شیعہ سلامتی نیٹ ورک تشکیل دیا ہے، جو ایران کو اپنی آبادی کو حد سے زیادہ استعمال کیے بغیر طاقت کا اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تہران کے نزدیک مقصد کھلی فتح نہیں بلکہ بقا اور بتدریج توسیع ہے۔ ہنری کسنجر نے ایک بار کہا تھا: ’’گوریلا تب جیتتا ہے جب وہ ہارتا نہیں۔‘‘
ایک غیر متزلزل حکمتِ عملی کی قیمت
ایران کی پیشگی دفاع کی حکمتِ عملی نے گزشتہ چند دہائیوں میں خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے میں پیش رفت کی ہے، مگر اس کی ہمیشہ ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اگرچہ سخت گیر عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ تنہائی ہمیشہ ایران کی شناخت کا حصہ رہے گی اور عسکری جارحیت بقا کے لیے ضروری ہے، لیکن اس سوچ نے ایرانی عوام کو مستقبل کے بارے میں امید نہیں دی۔
1990 کی دہائی میں ایرانیوں نے ایسے صدور کو ووٹ دیا جو حقیقت پسند اور اصلاح پسند طرزِ عمل کے حامی تھے اور ایک زیادہ آزاد، مہذب معاشرے کا وعدہ کرتے تھے۔ جب 2009 میں ایک سخت گیر صدر کامیاب ہوا تو یہ یقین کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، گرین موومنٹ کے احتجاجات کا سبب بنا، جنہیں ریاست نے پرتشدد طریقے سے کچل دیا۔
اس کے بعد بھی اختلافِ رائے جاری رہا، جن میں 2022 کے احتجاجات شامل ہیں، جو 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئے۔ وہ اخلاقی پولیس کی حراست میں زخمی ہونے کے باعث جان سے گئی تھی، جس نے اسے حجاب کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا۔ تاہم عوام کے غصے کی وجہ صرف یہی نہیں تھی؛ اس کے پیچھے وہ برس بھی تھے جن میں جی ڈی پی سکڑتی رہی، فی کس آمدنی میں کمی آئی، متوسط طبقہ کمزور پڑ گیا، اور مہنگائی نے خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو آسمان پر پہنچا دیا۔
خامنہ ای کا مؤقف ہے کہ یہ قربانیاں امریکا کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ سخت گیر عناصر غزہ میں اسرائیل کی جنگ کو مزید جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے روزمرہ زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، زیادہ سے زیادہ ایرانی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا نہ ختم ہونے والی “مزاحمت” واقعی اس قیمت کے قابل ہے۔
2022 کی تحریک نے گہرے شگاف بے نقاب کر دیے: اصلاح پسندوں، اعتدال پسندوں اور حکومت کے حقیقت پسند سابق عہدیداروں نے کھل کر یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ کیا غیر لچکدار مزاحمت قابلِ عمل ہے۔ تاہم خامنہ ای نے اس کے برعکس مزید سختی اختیار کی۔ انہوں نے احتجاجات کو اپنے وژن کی نفی نہیں بلکہ مغربی مداخلت کا ایک اور ثبوت سمجھا۔ اس کے باوجود، ریاست اور معاشرے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ انہیں مجبور کر گیا کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند مسعود پزشکیان کو حصہ لینے کی اجازت دیں۔
پزشکیان نے امریکا کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے معاشی بحالی کے نعرے پر مہم چلائی۔ 2009 کے بعد سے انتخابی ٹرن آؤٹ ریکارڈ کم سطح پر آ چکا تھا، مگر پزشکیان کی معمولی کامیابی ایک حقیقت پسندانہ راستے کی جھلک دکھاتی ہے۔ اس کے باوجود، حلف برداری کے دن ہی اسرائیل نے تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا، جس سے ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جوابی حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا، اور امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ رابطے کی بات پسِ منظر میں چلی گئی۔
مورخ جان لیوس گیڈس کے مطابق، ممالک عموماً قومی پالیسی کے حوالے سے دو طرح کی حکمتِ عملیاں اختیار کرتے ہیں۔ ایک خارپشت (ہیج ہاگ) کی، جو ایک بڑے خیال سے غیر متزلزل طور پر چمٹا رہتا ہے۔ یا لومڑی (فاکس) کی، جس کے پاس کئی خیالات ہوتے ہیں اور جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتی ہے۔ اب تک خامنہ ای خار پشت ثابت ہوئے ہیں، مزاحمت کے ایک ہی بڑے خیال کو ایران کی سلامتی کی حکمتِ عملی کا سنگِ بنیاد بنائے ہوئے۔
اگرچہ کبھی کبھار لومڑی جیسی لچک کے آثار بھی نظر آئے ہیں، جیسے 2023 میں سعودی عرب کے ساتھ ایران کا تناؤ میں کمی کا معاہدہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا خامنہ ای ایرانی عوام کی آواز سن کر خود کو ڈھالیں گے، یا ایک فرسودہ حکمتِ عملی سے ان کی غیر متزلزل وابستگی قوم کو آئندہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے حد سے زیادہ غیر لچکدار بنا دے گی۔
دشمن سے زیادہ دیر تک قائم رہنا
جب 1988 میں ایران۔عراق جنگ ختم ہوئی تو کوئی بھی فریق فاتح نہیں تھا، مگر ایران کی دفاعی حکمتِ عملی کی خاص بات یہی ہے: محض بقا ہی کامیابی ہے۔ طویل اور خونریز ایران۔عراق جنگ کے دوران تشکیل پانے والی یہ پالیسی 1989 میں خمینی کی وفات کے بعد بھی طویل عرصے تک ایران کی پالیسی کو تشکیل دیتی رہی۔ ان کے جانشین، سپریم لیڈر علی خامنہ ای، نے دنیا سے الگ ایک اسلامی ریاست کے تصور سے وابستگی برقرار رکھی۔
تاہم جنگ نے ایران کو کمزور بھی کر دیا تھا اور اسے تعمیرِ نو کی شدید ضرورت تھی۔ چنانچہ اگلے سولہ برسوں تک دو حقیقت پسند اور اصلاح پسند صدور نے ملک کی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں پیش رفت کی۔ انہوں نے نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی اور یورپ اور ایشیا کے ساتھ تجارت کو محتاط انداز میں دوبارہ کھولا، جبکہ بیرونِ ملک زیادہ کھلے انقلابی ہتھکنڈوں کو کم کیا۔ بین الاقوامی سفارت کاری کی جانب صدارتی کوششیں 2015 کے جوہری معاہدے پر جا کر عروج پر پہنچیں، جس سے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی آئی۔ لیکن 2018 میں امریکا کی دستبرداری نے اس دروازے کو مؤثر طور پر بند کر دیا اور ایران میں امریکا مخالف غصے کو دوبارہ بھڑکا دیا۔
اس کے باوجود، برسوں سے یہ بات واضح رہی ہے کہ اگرچہ صدارتی لہجے میں تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ کے بنیادی راستے میں کبھی تبدیلی نہیں آئی۔
پیشگی دفاع (Forward Defense) بدستور عظیم حکمتِ عملی رہا ہے، اور یہ 2010 میں عرب اسپرنگ کے بعد واضح طور پر سامنے آیا۔ اگرچہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچی، ایران کی توجہ شام پر مرکوز رہی، جو اس کا پرانا اتحادی اور حزب اللہ سے جڑنے والی ایک کلیدی کڑی تھا۔ جب 2011 میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تو ایران نے اسے اپنی اس حکمتِ عملی کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھا جس کا مقصد خطرات کو اپنی سرحدوں سے دور رکھنا تھا۔ ایران نے فوجی دستے، حزب اللہ کے جنگجو اور شیعہ ملیشیائیں تعینات کیں، اور جنگ کو مقدس مقامات اور قومی سلامتی کے دفاع کے طور پر پیش کیا۔
2014 میں ایک اور خطرہ سامنے آیا، جو عراق اور شام کی اسلامی ریاست، یعنی داعش، کی صورت میں تھا۔ اس کی شیعہ مخالف سفاکیت اور عراق پر قبضے کا حقیقی خطرہ اس قدر شدید تھا کہ داعش کے خلاف لڑائی کو اندرونِ ملک اتنی حمایت حاصل ہوئی کہ ایران نے اپنی فوجی کوششوں میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ طور پر ہم آہنگی بھی کی۔
شام میں ایران کی شمولیت کے نتیجے میں اس کی اپنے پرانے دشمن روس کے ساتھ ایک تزویراتی شراکت داری بھی قائم ہوئی۔ بعد ازاں ایران نے یوکرین میں ماسکو کی جنگ کے لیے ڈرون اور میزائل معاونت فراہم کی۔ مگر تہران کو مشترکہ تجارتی منصوبوں اور بحیرۂ اسود سے بحیرۂ عرب تک پابندیوں سے محفوظ ایک راہداری کی صورت میں فائدہ بھی حاصل ہوا۔
اسی دوران ایران کا ملیشیاؤں کا نیٹ ورک مسلسل پھیلتا رہا۔ یمن میں ایران نے حوثیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی، جو 2020 تک صنعا پر قابض ہو گئے اور سعودی و اماراتی شہروں کے لیے خطرہ بن گئے۔ دہائی کے وسط تک ایران کا اثر و رسوخ بغداد، بیروت، دمشق اور صنعا تک پھیل چکا تھا، جس کی بنیاد باز Deterrence اور پراکسی قوتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک بڑھتا ہوا میزائل ذخیرہ تھا۔ عراق میں امریکی اڈوں اور اسرائیل پر میزائل حملوں نے ان کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
حالیہ عرصے میں ایران کے پراکسی نیٹ ورک نے لبنان سے غزہ تک محاذوں کو اسرائیل مخالف مشن کے تحت متحد کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں سعودی۔اسرائیلی تعلقات کی معمول پر آنے کی کوششیں رک گئیں اور فلسطینیوں میں ایران کی حیثیت بلند ہوئی۔ اندرونِ ملک نوجوانوں کی کمی کے باعث، تہران کو بیرونِ ملک نوجوان جنگجوؤں کی ضرورت ہے، اور اس نے عراق، یمن، غزہ اور افغانستان سے دسیوں ہزار افراد کو فاطمیون بریگیڈ اور پاپولر موبلائزیشن فورسز جیسے گروہوں میں بھرتی کیا ہے۔
ایران کی عظیم حکمتِ عملی نے دراصل ایک سرحد پار شیعہ سلامتی نیٹ ورک تشکیل دیا ہے، جو ایران کو اپنی آبادی کو حد سے زیادہ استعمال کیے بغیر طاقت کا اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تہران کے نزدیک مقصد کھلی فتح نہیں بلکہ بقا اور بتدریج توسیع ہے۔ ہنری کسنجر نے ایک بار کہا تھا: “گوریلا تب جیتتا ہے جب وہ ہارتا نہیں۔”
ایک غیر متزلزل حکمتِ عملی کی قیمت
ایران کی پیشگی دفاع کی حکمتِ عملی نے گزشتہ چند دہائیوں میں خطے میں اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے میں پیش رفت کی ہے، مگر اس کی ہمیشہ ایک قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اگرچہ سخت گیر عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ تنہائی ہمیشہ ایران کی شناخت کا حصہ رہے گی اور عسکری جارحیت بقا کے لیے ضروری ہے، لیکن اس سوچ نے ایرانی عوام کو مستقبل کے بارے میں امید نہیں دی۔
1990 کی دہائی میں ایرانیوں نے ایسے صدور کو ووٹ دیا جو حقیقت پسند اور اصلاح پسند طرزِ عمل کے حامی تھے اور ایک زیادہ آزاد، مہذب معاشرے کا وعدہ کرتے تھے۔ جب 2009 میں ایک سخت گیر صدر کامیاب ہوا تو یہ یقین کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے، گرین موومنٹ کے احتجاجات کا سبب بنا، جنہیں ریاست نے پرتشدد طریقے سے کچل دیا۔
اس کے بعد بھی اختلافِ رائے جاری رہا، جن میں 2022 کے احتجاجات شامل ہیں، جو 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہوئے۔ وہ اخلاقی پولیس کی حراست میں زخمی ہونے کے باعث جان سے گئی تھی، جس نے اسے حجاب کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا تھا۔ تاہم عوام کے غصے کی وجہ صرف یہی نہیں تھی؛ اس کے پیچھے وہ برس بھی تھے جن میں جی ڈی پی سکڑتی رہی، فی کس آمدنی میں کمی آئی، متوسط طبقہ کمزور پڑ گیا، اور مہنگائی نے خوراک اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کو آسمان پر پہنچا دیا۔
خامنہ ای کا مؤقف ہے کہ یہ قربانیاں امریکا کی جارحیت کے خلاف مزاحمت کے لیے ناگزیر ہیں، جبکہ سخت گیر عناصر غزہ میں اسرائیل کی جنگ کو مزید جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ مگر جیسے جیسے روزمرہ زندگی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے، زیادہ سے زیادہ ایرانی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا نہ ختم ہونے والی “مزاحمت” واقعی اس قیمت کے قابل ہے۔
2022 کی تحریک نے گہرے شگاف بے نقاب کر دیے: اصلاح پسندوں، اعتدال پسندوں اور حکومت کے حقیقت پسند سابق عہدیداروں نے کھل کر یہ سوال اٹھانا شروع کیا کہ کیا غیر لچکدار مزاحمت قابلِ عمل ہے۔ تاہم خامنہ ای نے اس کے برعکس مزید سختی اختیار کی۔ انہوں نے احتجاجات کو اپنے وژن کی نفی نہیں بلکہ مغربی مداخلت کا ایک اور ثبوت سمجھا۔ اس کے باوجود، ریاست اور معاشرے کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ انہیں مجبور کر گیا کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند مسعود پزشکیان کو حصہ لینے کی اجازت دیں۔
پزشکیان نے امریکا کے ساتھ سفارت کاری کے ذریعے معاشی بحالی کے نعرے پر مہم چلائی۔ 2009 کے بعد سے انتخابی ٹرن آؤٹ ریکارڈ کم سطح پر آ چکا تھا، مگر پزشکیان کی معمولی کامیابی ایک حقیقت پسندانہ راستے کی جھلک دکھاتی ہے۔ اس کے باوجود، حلف برداری کے دن ہی اسرائیل نے تہران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قتل کر دیا، جس سے ایران، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جوابی حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا، اور امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ رابطے کی بات پسِ منظر میں چلی گئی۔
مورخ جان لیوس گیڈس کے مطابق، ممالک عموماً قومی پالیسی کے حوالے سے دو طرح کی حکمتِ عملیاں اختیار کرتے ہیں۔ ایک خارپشت (ہیج ہاگ) کی، جو ایک بڑے خیال سے غیر متزلزل طور پر چمٹا رہتا ہے۔ یا لومڑی (فاکس) کی، جس کے پاس کئی خیالات ہوتے ہیں اور جو حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتی ہے۔ اب تک خامنہ ای خارپشت ثابت ہوئے ہیں—مزاحمت کے ایک ہی بڑے خیال کو ایران کی سلامتی کی حکمتِ عملی کا سنگِ بنیاد بنائے ہوئے۔
اگرچہ کبھی کبھار لومڑی جیسی لچک کے آثار بھی نظر آئے ہیں، جیسے 2023 میں سعودی عرب کے ساتھ ایران کا تناؤ میں کمی کا معاہدہ۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا خامنہ ای ایرانی عوام کی آواز سن کر خود کو ڈھالیں گے، یا ایک فرسودہ حکمتِ عملی سے ان کی غیر متزلزل وابستگی قوم کو آئندہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے حد سے زیادہ غیر لچکدار بنا دے گی۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version