قومی شناخت کی تشکیل نَو کا مسئلہ تشکیلِ پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل زیرِبحث ہے اور اس کی تازہ جہات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے اس مسئلے کو اقبال کی تین نظموں "مسجدِ قرطبہ”، شکوہ” اور "جوابِ شکوہ” کے تناظر میں اور دورِ حاضر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھنے کی سعی کی ہے۔ مطالعے کا یہ زاویہ بیک وقت سیاسی، سماجی، تہذیبی اور ادبی جہات کا حامل ہے سو اس میں فکرانگیزی اور دلچسپی کے زاویے گوناگوں ہیں۔ قارئینِ "تجزیات” سے یہ تحریر خاص توجہ چاہتی ہے۔ (مدیر)
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
اقبال کے اس شعر کو اکثر یاسیت کے مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔ سکون کو مقصود یا مطلوب اور تغیر کو بربادی کا سبب کہہ کر شکوہ و شکایت کا موضوع بنادیا جاتا ہے یا عارضی کہہ کر صبر کی تلقین کی جاتی ہے۔ یوں تغیر کو منفی اور ثبات کو مثبت تسلیم کرتے ہوئے دونوں کو تضاد کی جدلیات کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اقبالیات کا طالب علم جانتا ہے کہ اقبال کے ہاں تغیر شکوہ و شکایت کا مضمون ضرور ہے لیکن اہل فکر کو سنجیدہ غور و فکرکی دعوت ضرور دیتا ہے۔ مسجد قرطبہ وقت کے سیل رواں اور تغیر کے تسلسل میں ثابت قدمی کی مثال ہے۔ وقت کی گردش کو لمحوں میں تقسیم کرکے تسخیر کی کوشش اس تسلسل کو روکنے کی نہیں سمجھنے کی کوشش ہے۔ لمحے نہ سکون کی گھڑیاں ہیں، نہ ثبات کی سلسلہ وار کڑیا ں۔ لمحے تسلسل کی تسبیح میں شامل دانے ہیں جو شمار کے لیے نہیں تسلسل کو یاد رکھنے کے لیے ہیں۔
اقبال قومیت اور اس کے تصور میں تغیرات کو تسلسل کی نظر سے دیکھتے ہیں جس میں زمانی اور مکانی تبدیلیاں ساتھ ساتھ آتی ہیں۔ بر صغیر میں جدیدیت نوآبادیات کی دو لہروں کے جلو میں آئی،جو یورپی سلطنتوں کی عالمگیر فتوحات کے دو دور تھے۔ پہلی لہر سپین اور پرتگال کی مذہبی تبلیغی سلطنتوں کے دور میں آئی۔ اس لہرسے بر صغیر میں جنوب کے چند ساحلی علاقے متاثر ہوئے لیکن جنوبی امریکہ کے ملکوں میں اس لہر کے استعماری اثرات دور رس ثابت ہوئے۔ دوسری لہر فرانسیسی، ولندیزی اور برطانوی فتوحات کی تھی جو تجارتی کمپنیوں کی شکل میں شروع ہوئی لیکن بتدریج ایشیا، افریقہ کے بیشتر ممالک ان کی سلطنتوں کی نوآبادیاں بنے۔ استعمار سے آزادی کی مقامی تحریکوں کے نتیجے میں اور بین الاقوامی جنگوں میں استعماری سلطنتوں کی طاقت کمزور پڑنے پر استعمار سےانھیں آزادی ملی۔ تا ہم یہ سیاسی آزادی ایک مسلسل جدو جہد تھی۔ اس کے حصول میں ضلعی حکومت [لوکل سیلف گورنمنٹ]، مقامی حکومت، بالواسطہ حکمرانی [ڈومینین رول] سے قومی ریاست تک اقتدار کی منتقلی کے مختلف مدارج سے گذرتے ہوئے نصف صدی سے زیادہ وقت لگا۔
یہ تفصیل اس لیے ضروری ہے کہ یورپ میں قومی ریاست کا مطلب مطلق العنان سلطنت کے شاہی اقتدار کو عوام میں منتقل کرنا تھا۔جب کہ برصغیر میں برطانوی استعماری سلطنت نے اس اقتدار کی نیابت کا اختیارکچھ شرائط کے ساتھ منتقل کیا۔ جس میں بڑی شرط متفقہ آئین تھا۔ یہ ریاست کی قومیت کا جدید تصورتھا۔ تاہم بر صغیر میں جدیدیت اور قومیت کے نظریات استعمار کے جلومیں متعارف ہوئے تھے اس لیے یہ نظریات متنازعہ رہے۔ مقامی اور روایتی سیاسی نظریات کی قومی ریاست کے بنیادی اصولوں میں تشکیل نو اور اتفاق رائے کا حصول دیر طلب ہوتا ہے۔
اس مختصر مضمون میں تفصیل کی گنجائش نہِیں۔ مضمون کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے؛ پہلے حصے میں قومیت کے تصور اور تسلسل کے نظریے کا تعارف ہے۔ دوسرے میں تغیرات کا تجزیہ، تیسرے میں مسجد قرطبہ، شکوہ اور جواب شکوہ کے حوالے سے علامہ اقبال کے ہاں ” تہذیبی تسلسل” کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خطبات اقبال میں بھی اس موضوع پر اہم گفتگو موجود ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور تفصیلی بحث چاہتا ہےجس کے لیے یہ مضمون کافی نہیں۔ ویسے بھی حتمی رائے مقصود نہیں، اس مضمون کا مقصد اس موضوع پرمکالمے کو جاری رکھنا ہے۔
تعارف
دور جدید سے پہلے کی سلطنتیں زیادہ ترجنگ، فتوحات اور غنائم کی معیشت کے اصول پر قائم تھیں۔ حکمرانی کے اس فلسفے کا اظہار بادشاہوں کے اقتداراور القاب میں عالمگیریت، اقتدارِ اعلیٰ اور غلبہ کے تصورات سے بھی ہوتا ہے۔ اس کی مذہبی تائید کے لیے سلطنت کی شناخت کو مذہب سے وابستہ بھی کر دیا جاتا تھا۔ دور جدید کے اوّلیں دور کی نو آبادیاتی سلطنتوں تک ریاست کے قیام کا مقصد مذہب کی اشاعت اور تبلیغ کو ہی بتایا جاتا تھا۔ بر صغیر کو یورپی نوآبادیات کے دو ادوار سے واسطہ رہا۔ بر صغیر میں پہلی پرتگیزی نوآبادیات ہسپانیہ اور پرتگال میں قائم مذہبی سلطنتوں کی نمائندہ تھیں۔ جدید دور میں قومی ریاست کے تصورمیں مذہب کے عمل دخل میں کمی کا مطالبہ یورپی سلطنتوں کے مابین طویل مذہبی جنگوں کی تلخ یادوں یا جدیدیت میں اثباتیت کے حوالے سے کیا گیا۔ اس پس منظر میں مذہب سے بیزاری اثباتیت کی پہچان بنی اور سیکولرزم اور لبرلزم کے اصولوں سے منسوب ہوئی۔
قومی ریاست
تاریخی پس منظر میں قومی ریاست کا تصور دور جدید میں امن اور سلامتی کے شعار کے طور پر ابھرا جس میں وعدہ کیا گیا کہ اب مزید جنگیں نہیں ہوں گی۔ قومی ریاست کے قیام سے یورپ میں سلطنتوں کا خاتمہ تو ہوگیا لیکن دنیا میں جنگیں ختم نہ ہو سکیں۔ باقی دنیا میں جدیدیت نوآبادیاتی استعمارکے زیر سایہ متعارف ہوئی۔ جدیدیت تغیرات کے زمانی تسلسل کی پیداوارہے تو قومی شناخت اس کے مکانی تسلسل کا تقاضا۔ ذات کی شناخت کو تولنے کے باٹ اثبات کی قطعیت کی ضرورت ہیں تاہم وہ ذات کی پہچان کا اکیلا معیار نہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں پہچان کے یہ باٹ اور ان کی قدریں بہت تیزی سے بدلی ہیں۔ آج قومیت ذات سے زیادہ ریاست کی شناخت بن گئی ہے۔ دہری قومیت سے ذاتی شناخت کی قدرو قیمت گھٹتی نہیں بڑھ جاتی ہے۔
آج کی دنیا میں قومی ریاست کی شناخت کا پیمانہ افراد اور اقوام کی شناخت نہیں رہے ہیں۔ اب ریاست کی پہچان عالمی سیاست اور معیشت میں اس کے مقام سے ہوتی ہے۔ خود مختاری یا اقتدار ِاعلیٰ جو قومی ریاست کا خاصہ ہوا کرتا تھا اب قصہ پارینہ ہوا چاہتا ہے۔ قومی ریاست عالمی معیشت کے سامنے کتنی بے بس ہے، سب کو اس کا احساس ہے۔ ایک جانب جنگی صورت حال سے متاثرہ ملکوں سے محفوظ ملکوں کی جانب غیر اختیاری نقل مکانی اور اس کی روک تھام میں انتہائی اقدامات انسانی تہذیبی اقدار کے نعروں کو غیر معتبر بنا ر ہےہیں۔ دوسری جانب جنم بھومی یا جائے پیدائش جو قومیت کے حق کی قانونی بنیاد تھی اب رنگ، نسل اور مذہب کے امتیازی پیمانوں سے ناپی جا رہی ہے۔ معاشی ناہمواریوں میں اضافے نےغریب ملکوں سے امیر ملکوں کی طرف ہجرت کو جو صدیوں کا معمول تھا قومی ریاست کے نظام میں جرم قرار دیا جارہا ہے۔ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں سےغذائی اور توانائی کے مسائل کے حل کی بجائے ضرورت مند ملکوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ مالی بدعنوانیوں کے تحفظ کے عالمی قوانین میں ترسیل زر کے حوالے سے امتیازی قانون سازی کے ذریعے خود انحصار قومیت اور آزاد قومی ریاست کے تصور کھوکھلے کیے جا رہے ہیں۔ مذہب اور خصوصاً مذہبی اقلیتیں قومی ریاستوں کے لیےآئینی مسئلہ بن گئی ہیں۔ نسل در نسل آباد شہریوں کو اپنے آبائی ملکوں میں شہری حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ان کو وطنیت ہی سے نہیں، وطن سے بھی نکالا جارہا ہے۔اس صورت حال میں قومیت کے بہت سے پہلو جو ابھی تک مسلّمہ اور غیر متبدل سمجھے جاتے تھے اکیسویں صدی میں قومی ریاست کے حوالے سے ابہامات کی زد میں ہیں۔
تغیر اور تسلسل
قومیت کے بدلتے تصورات، نظریات، تاریخ اور جدلیات کے حالیہ تجزیاتی مطالعے سے مغربی دانشور بھی اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ قومیت اور قومی ریاست کے تصورات اور ادارے عارضی تھے اور دراصل گذری صدیوں میں سیاسی، معاشی اور سماجی خرابیوں کے رد عمل میں ظاہر ہوئے تھے۔ استعماری دور میں پیدا ہونے والی معاشی ناہمواریوں نے تیسری دنیا میں احتجاج، انقلاب اور تشدد کی سیاست اور اسلحے پر مبنی برتری کے مفروضات کو جنم دیا۔ آزادی کے بعد دوقطبی سیا ست اور معیشت سے عالمی امن اورسیاسی استحکام مخدوش ہوئے تو جنگوں، اسلحہ سازی، معاشی استحصال اور انسانی بنیادی حقوق کے لیے بہت سے بین الاقوامی معاہدے اور قوانین بنے۔ تاہم بعض طاقتورممالک نے ان پر دستخط نہیں کیے۔ بلکہ اپنی طاقت کی بقا اوراستحکام کے لیے ریاست کے ادارے بہت سی اخلاقی اور قانونی پابندیوں سے استثنا کو ناگزیر سمجھتے ہوئے "ریاست کے حق استثنا ” کے نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔ دنیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے طاقتور ملکوں نے اپنی اقتصادی اور سیاسی سلامتی کے لیےعالمی ادارے تشکیل دیے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے قومی ریاست کی خود مختاری کا بلکہ خود قومیت کاتصور بتدریج کمزور ہوتا جارہا ہے۔
سٹینفورڈ انسائیکلو پیڈیا میں "قومیت” کے عنوان سے ۲۰۲۰ میں لکھے گئے ایک مقالے کے مطابق امریکہ میں قومیت کے تصور کے اعتبار سے تغیر اور تسلسل کے سوال پرآج کل تین بڑے رجحانات سامنے آئے ہیں۔ پہلا قدیم بنیاد پرست قومیت کا رجحان ہے جو اَب شدت پسندی کی حد تک نسلی اور ثقافتی بنیادوں پر قومی شناخت اور وحدت پر زور دیتا ہے۔ اس رجحان کے حامل گروہ مذہبی، اخلاقی، سیکولر اور انسانی ہر قسم کی اقدارکو قومیت اور قومی ریاست کے اقتدار کےمنافی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عدل، انصاف اور مساوات کے تصورات اور ان پر مبنی آئینی اور قانونی مطالبات قومی ریاست کے اقتدار کی بنیادیں کمزور کر تے ہیں۔
دوسرا رجحان عوامی شہرت پسند پاپولر قومیت کا ہے۔ یہ جمہوریت کا وہ لا ابالی رجحان ہے جو اقتدار میں رہنے کے لیے ہر چیز داؤ پر لگا دینے کو جائز سمجھتا ہے۔ اس رجحان کے حامل گروہ خوشنما وعدے، پر جوش نعرے اور دل فریب گفتگو سے ووٹر کی ہمدردیاں سمیٹتا ہے۔ شہرت کے لیے مذہب، رنگ، نسل، زبان، عزت کسی بھی سماجی قدر کو حوالہ بناکر لوگوں کے جذبات سے کھیلتا ہے۔ یہ رجحان دراصل اس بنیاد پرست قومیت کے تصور کے ردعمل میں پیدا ہوا ہےجس میں عام اور کمزورطبقات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ رجحان عام آدمی کی آواز بن کر ابھرا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس گروہ کی نظر میں بھی عام آدمی کی اہمیت عارضی ضرورت ہے۔
تیسرا رجحان لبرل قومیت کا ہے جو نسلی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی شناخت پر مبنی قومیت کے تصور کو ایک مخصوص گروہ کی سیا ست سمجھتی ہے۔ لبرل قومیت کا بنیادی تصور تمام لوگوں کے لیے دروازے کھلے رکھنا ہے۔ مذہبی، ثقافتی، لسانی اور ہر قسم کے تنوع کو قومی شناخت کا حصہ سمجھنا ہے۔ تاہم یہ رجحان بھی تنوع اور تکثیریت کو عارضی سمجھتا ہے اور اس کو سنجیدگی سے قابل غور نہیں سمجھتا۔ لبرل قومیت کے نظریے کے مطابق شمولیت کے تصور سے اتحادی قوت مقصود ہے۔ کیونکہ تکثیریت ملک کے اندر اور باہر یگانگت کے امکانات کو وسعت دیتی ہے۔ وسیع تر تعلقات سے عالمی تہذیبی یگانگت مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن تنوع اور تکثیریت قومی وحدت کے لیے مسلسل مسئلہ بنی رہتی ہے۔ اس کے لیے تہذیبی تسلسل کی ایسی تعبیر کی ضرورت ہے جو ایسی تہذیبی وحدت تشکیل کرے جو تکثیریت کی بجائے اصولی یگانگت پیدا کر سکے۔
اس صورت حال میں تیسری دنیا میں بھی ریاست کے ایسے تصور کی تشکیل نو کی باتیں ہونے لگی ہیں جو قومی برتری، غلبے اور تصادم کی جگہ عالمی امن اور بین الاقومی قوانین اورعدالتی نظام کی بجائے گلوبل قانونی اداروں کو فروغ دے سکے اوریہ قومی ریاستیں عالمی انسانی تہذیبی تسلسل کی ضمانت بنیں۔ اس کے لیے قومیت کے نظرے کی دو پہلوؤں سے تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ قانون کی حکمرانی اور تہذیبی تسلسل۔ یہ تشکیل مستحکم تبھی ہو سکتی ہے جب ایک جانب اس کی جڑیں مقامی شہری حکومت میں ہوں اور دوسری جانب حکومت بتدریج عالمی نظام کا حصہ بنے۔
اس مختصرمضمون میں تفصیلی بحث کی گنجائش تو نہیں لیکن قومیت کے تصور کو بیسویں صدی کے تناظر میں محدود رکھنے سے علامہ اقبال کے ہاں قومی ریاست کے حوالے سے تسلسل کی بحث کو پوری طرح سمجھا نہیں جاسکتا۔ اس لیے جہاں بعض ایسے نکات پر گفتگو ضروری ہے جن کی اہمیت اب اکیسویں صدی کے جدید تناظر میں پہلے سے زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے، وہاں ان نکات کو بھی سامنے رکھنا لازم ہے جو انیسویں صدی سے استعماری استبداد کے خلاف ایک نئی قومی شناخت کی بنیاد ڈال چکے ہیں۔
علامہ اقبال کے ہاں قومی شناخت کے تسلسل کے لیے قومیت کی تشکیل نو کے مسلسل عمل کی تفہیم ضروری ہے۔ اس ضمن میں قومی وحدت اوربین الاقوامی اتحاد کی تفہیم کے لیے مقامی تہذیبی تسلسل اور اقوام کے مابین تہذیبی تسلسل کا اجتماعی احساس بنیادی اصول ہے۔ یہ احساس جہاں قومی ریاستوں کو کامیابی کی ضمانت دے سکتا ہے، وہاں تشکیل نو میں یہی احساس عالمی یکجہتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اسلام کے تاریخی شعورمیں تہذیبی تسلسل کا تصور
اسلامی مذہبی فکر کی روایت ایمان اور عمل اور اقدار اور حقائق کے باہمی رشتے کے حوالے سے استوار ہے۔ علامہ اقبال وضاحت سے کہتے ہیں کہ جدید انسان اپنی زندگی میں تصورات اور مجرد نظریات کی بجائے محسوس اور ٹھوس حقائق کا عادی بن چکا ہے۔ وہ دور قدیم کے مذہبی احساس کی اس اندرونی کیفیت سے آشنا نہیں رہا جس پرعقیدہ کی عمارت تعمیر ہوتی ہے [خطبات اقبال، پیش لفظ]۔ اس حقیقت سے لاعلمی کی وجہ سے موجودہ دور کے مسلمان ذہن کو جدید فکر اور تجربے سے کوئی تازہ تحریک نہیں ملتی۔ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ جدید دور کی علمی پیش رفت کا مطالعہ اسلامی روایت کے علمی تسلسل میں کیا جائے۔ اسلامی روایت اپنے زمانے کے انسانی علوم سے مکالمے کی تاریخ ہے۔ چناچہ ہمارا فرض انسانی فکر کی پیش رفت کو احتیاط سے دیکھنا اور اس کے بارے میں آزادانہ تنقیدی رویہ برقرار رکھنا ہے [خطبات اقبال، پیش لفظ]۔
علامہ اقبال نے علمی میدانوں میں اسلامی اور دیگرتہذیبوں کے مابین فکری اور تہذیبی تسلسل کی بات کی ہے۔ اسلامی روایت اور گذشتہ تہذیبوں کے مابین مکالمات کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ اسلامی روایت نے قدیم علوم اور علمی تصورات سے استفادہ بھی کیا اور ان نظریات پر تنقید بھی کی جن کو یہ تہذیبیں غیر متبدل سمجھتی تھیں۔ یہ مکالمات دورجدید میں تہذیبی تسلسل کے بارے میں دوپہلو نقد کے پیش رو تھے۔ تہذیبی تسلسل کے عمل میں ایک جانب گذشتہ سے پیوستہ کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ دوسری جانب سے مقامی اور عصری سیاق و سباق کی مناسبت سے گذشتہ افکار پرنظر ثانی کا عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔
اقبال کے خیال میں طبیعیات میں مسلمانوں کی مذہبی فکر ارسطو کے نظریات سے بہت متاثر رہی۔ تاہم مظاہرکائنات کے قرآنی حوالے اصولی طور پر ان قدیم تصورات کے بر عکس سعی و تغیر کی دعوت دیتے ہیں۔ چنانچہ اقبال قرآنی تعلیمات کو خصوصاً اجتہاد کے حوالے سے یونانی علمیات کے بر عکس مسلسل تخلیق، نظریہ وقت اور اس کے دورانیے کے جدید نظریات اور حالیہ تحقیقات کے زیادہ زیادہ قریب سمجھتےہیں۔ ( خطبات اقبال، تیسرا خطبہ)۔
اقبال کے نزدیک اسلام میں قانون، سیاست اور تاریخ کے علوم جمود اور سکون کی بجائے حرکت کے اصول کو بنیادی مانتے ہیں۔ اجتہاد، فتویٰ، فقہ اور سیاست کے تصورات حرکت، تسلسل اورتغیرکو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ اجتہاد کا اصول فقہ اسلامی کا ایسا عمل ہے جو انسانی تہذیب کو تسلسل میں جاری رکھتا ہے۔ اجتہاد کے استناد کے لیے مجتہد کی شرائط، دائرہ کار، مذاہب فقہ، تقلید وغیرہ اجتہاد کادروازہ بند کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے تسلسل کے لیے تشکیل دی گئیں۔ اپنے چھٹے خطبے میں اجتہاد کے حوالے سے اقبال نے ریاست،قانون سازی، نفاذ، پارلیمان، جمہوریت کی تمام مباحث کو یکجا کردیا ہے(خطبات اقبال، چھٹا خطبہ)۔
قومی ریاست کووقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے اقبال تجویز کرتے ہیں کہ فی الحال مسلمانوں کو قومی ریاستوں کی الگ اکائیوں میں مضبوط اور مستحکم ہونا چاہیے۔ استحکام کے حصول کے بعد بین الاسلامی وفاق کا قیام زیادہ کامیاب رہے گا۔
علامہ اقبال نے ان لمحہ بہ لمحہ تغیرات پر فوری رد عمل کا مسلسل اظہار بھی کیا اور فکر انگیز تجزیات بھی پیش کیے۔ "مسجد قرطبہ”، "شکوہ” اور "جوابِ شکوہ” اس طرزفکر کی مسحور کن مثالیں ہیں۔
"مسجد قرطبہ”
ماہرین اقبالیات کے مطابق ۱۹۳۳ میں لکھی گئی "مسجد قرطبہ” وقت کے تسلسل اور تغیرات کی تفسیر ہے۔ ان دنوں ہندوستان کے آئینی مستقبل پر غور کرنے کے لیےلندن میں گول میز کانفرنس کا تیسرا دور تھا۔ آزادی، حکومت اورقومی ریاست گفتگو کا محور تھے۔ اقبال لندن سے اسپین خصو صاً قرطبہ گئے۔ اقبال کی سپین سے دلچسپی کے بہت سے حوالے تھے۔ اسپین یورپ میں شاندار اسلامی دور کا استعارہ بھی تھا۔ اسلام اور یورپ میں دو تہذیبوں کے مکالمے اوریورپ کی نشاۃ ثانیہ کا حوالہ بھی۔ بغداد میں یونانی علوم و افکار سے اخذ و نقد کا آغاز ہوا تو قرطبہ میں اس تہذیبی عمل کے تسلسل میں جدید علمی دور شروع ہوا جس نے چودھویں صدی میں سیاسی، کلامی، طبی اور قانونی میدانوں میں نئی راہیں کھولیں۔ اس تسلسل کی تفہیم میں، اور یورپ کی نشاۃ ثانیہ میں سپین بالخصوص اندلس کے مسلم مفکرین کا کردار نمایاں تھا۔
اقبال نے مسجد قرطبہ کو وقت کی روانی میں ایک ایسے سیل رواں کی تمثیل کے طور پر دیکھا جس میں مختلف تہذیبیں حصہ لے رہی تھیں اور یہ تسلسل صدیوں جاری رہا۔ اقبال کی نظر میں مسجد قرطبہ اسلام اور یورپ دونوں میں اس تاریخی تسلسل کی چشم دید گواہ ہے۔ قرطبہ مسلمانوں کی سپین میں آمد و رفت اور یورپ میں قدیم و جدید کی رزم گاہ کی یادگار بھی ہے۔ مسجد کی تعمیر، تاریخ، اور عمارت کا وجود عشق کے ایسے عمل پیہم کی گواہ ہے جو تہذیبی تسلسل کو وحدت بنائے رکھتا ہے۔ مسجد قرطبہ وہ رصد گاہ ہے جو دیدہ انجم میں چمکتی ہے۔ جس کی خرد نےظلمت یورپ میں رہبری کی۔ جس نے اصلاح دین کے ہنگامے دیکھے، فرانس کے انقلاب کا وہ شور سنا جس نے مغربی ذہنوں کو دگر گوں کر دیا۔ لیکن یہ عمارت ان انقلابات کا پر وقار نظر سے مشاہدہ کرتی رہی۔
یہ مسجد نقوش کہنہ کی امین ہے، نقوش نوکی قبلہ نما ہے۔ یہ عشق کے سراپا دوام کی نشانی ہے، اس عشق میں رفت وبود نہیں۔ یہ مسجد گواہ ہے کہ وقت روزو شب کا سلسلہ ہے، کائنات کی صیرفی کا عمل ہے، کھرے اور کھوٹے کی مسلسل پرکھ کا نام ہے۔ گردش دوراں ہے جو سیاق و سباق بدل بدل کرزمان و مکان میں ممکنات کے نئے زیروبم سامنے لاتی رہتی ہے۔ سلسلہ روز و شب وقت کے سمندرکی ایسی موج کی تمثیل ہے جو ایک کروٹ میں لمحات بکھیرتی آتی ہے اور دوسرے لمحے ان لمحات کو سمیٹ کر لوٹ جاتی ہے۔ تہذیبی معاشرت کی پرکھ میں نہ نقش کہن کو ثبات ہے، نہ نقش نو تغیر سے بری۔ پرکھ پر پورا اترنے سے ثبات کا احساس یقین محکم کی قوت بنتا ہےاور عمل پیہم کا عشق اس میں ثبات دوام کے رنگ بھرتا ہے۔
مسجد قرطبہ کے لیے یہ سارے انقلابات آنکھوں دیکھے ہیں۔ آج وہ دیکھتی ہے کہ یورپ کے رومی نژاد جنھیں قدامت پرستی نے پیرکہنہ بنا رکھا تھا تجدید کی لذت سے پھر سے جوان ہو گئے ہیں۔ وہ دیکھ رہی ہے کہ روح مسلمان پھر اضطراب میں ہے۔ روح امم کی حیات کشمکش انقلاب میں ہے۔ دیکھتے ہیں اس بحر کی تہ سے کیا نکلتا ہے۔ اقبال کو یقین ہے کہ فرنگی اس کی نواؤں کی تاب نہیں لا سکیں گے۔ جس میں انقلاب نہ ہو وہ زندگی موت ہے۔
مسجد قرطبہ اقبال کے لیے عبرت گاہ ہے جہاں مقامی سیاق علاقائی ضروریات کے تحت اور عالمی تبدیلیاں زمانی تقاضوں کے حوالے سے کبھی اصلاح، کبھی تجدید اورکبھی تشکیل نو کی متقاضی ہوتی ہیں۔ مشکل اس لیے پیش آتی ہے کہ ہر قدم پر ان دونوں لوازمات کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ تعبیر اور تشکیل کی روایات اسلامی تہذیب اور معاشرت کے لیے اجنبی نہیں۔ اصلاح، تصویب، تعبیر، تخییر، تمییز، تجدید اور دیگر بہت سی اصطلاحات اسلامی فکر وعمل کا حصہ رہی ہیں۔ اصلاح محدود اور عارضی حل تلاش کرتی ہے۔ تجدید لوازمات کے نئے پہلوؤں پر از سر نو غور کی متقاضی ہے۔ تغیرات کا دائرہ وسیع ہو تو اصلاح اور تجدید سے آگے بڑھ کر اصول کی تشکیل نو کی ضرورت پڑتی ہے۔ تشکیل نو مقاصد کے نقطہ نظر سے ان دونوں لوازمات کی نئی تعبیر میں یگانگت کی طالب ہے۔ اس کے لیے رہبری نگاہ کی بلندی اور جاں کی پر سوزی کا تقاضا کرتی ہے لیکن اکثر سخن دلنواز پر اکتفا کی جاتی ہے۔
"شکوہ” اور "جواب شکوہ”
اقبال کی دو نظمیں "شکوہ” اور "جواب شکوہ” 1909 سے 1913 کے درمیان لاہور میں ہونے والے عوامی جلسوں میں پڑھی گئیں۔ یہ وہ وقت تھا جب مسلم تاریخ کی آخری خلافت سلطنت عثمانیہ یورپی حملوں کا ہدف تھی۔۔ اقبال نے "شکوہ” کا عنوان بھی اسی مناسبت سے چنا اور اس میں خدا سے یہ شکایت بھی کی کہ اس کی رحمتیں ہیں تو اغیار کے کاشانوں پر اور برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ یہ دونوں نظمیں اسی تناظر میں لکھی، پڑھی اور سنی گئیں۔ اس وقت کے تناظر میں شکوہ کو شکوہ شکایت، مذمت، ملامت اور احتجاج کے مفہوم ہی میں سمجھا گیا۔
خوشونت سنگھ بھی "شکوہ” کو مسلم کمیونٹی کے ساتھ ناانصافی پر ‘شاعر کا احتجاج’ اور’خدا کے خلاف شکایت’ قرار دیتے ہیں۔ حالیہ مطالعات میں مہر افشاں فاروقی کی رائے میں اقبال کے نزدیک ہندوستانی مسلمانوں کو مقامی اور عالمی دونوں سطح پر مذہب ہی مربوط رکھے ہوئے تھا۔ اقبا ل کی یہ نظمیں اسلامی بھائی چارے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ تاہم وہ سیاسی کو مذہبی کے ساتھ ضم کرنے کی کو شش کو، معمولی ہی سہی، تضاد سمجھتی ہیں۔ عائشہ جلال بھی "شکوہ” اور "جواب شکوہ” کا مقصد مسلم شناخت کے تضاد کی نشان دہی بتاتی ہیں۔ "شکوہ” اور "جواب شکوہ” دونوں میں مرکزی سوال یہی تھا کہ کیا ہندوستان میں مسلمان پرہندوستان کی زمین سے وفاداری فرض ہے یا مسلمانوں کی وفاداری صرف امت مسلمہ، یعنی مسلمانوں کی وسیع تر برادری سے وابستہ ہے۔ عائشہ جلال کی نظر میں دونوں نظموں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مسلمان اپنے زوال کے خود ذمہ دار ہیں۔ اقبال انفرادی آزادی، خود اثباتی کی حمایت کرتے تھے لیکن بطور قوم مسلمانوں کو قبائلی عصبیت والی برادری نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ خود اثباتی ہی اجتماعی قومیت کی طرف لے جاتی ہے۔ عائشہ جلال کی رائے میں انصاف کا قدیم مذہبی تصورجو طبقاتی درجہ بندی پر مبنی تھا جدید سیکولر سیاست میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ہمیں دونوں نظموں کا اصل موضوع تاریخی حافظے کے مغالطے کی نشاندہی اور قومیت کی تشکیل نو کی ضرورت نظر آتا ہے۔ بین السطور شکوہ خود ہی سے تھا۔ اس طرح شکوہ درحقیقت خود احتسابی کا عمل تھا۔ ان نظموں میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد اور ماضی پرستی میں شامل فخرو مباہات اور ناز و غرور کےرویے کا دو طرفہ تجزیہ پیش کیا گیا تھا۔ انھیں مسلم قومیت کا مقبول بیانیہ سمجھ کر بھی پڑھا جا سکتا تھا۔ اور جدید دور میں ریاست کے قومی نظریے کے حوالے سے اس پر نظر ثانی کے تقاضے کا بیان بھی سمجھا جا سکتا تھا۔ اگلی دو دہائیوں میں متعدد مسلم تحریکوں نے استعمار سے آزادی کے پیش منظر میں سیاسی قوت کے حصول کے لیے خلافت کی بحالی اور مسلم قومیت کی بنیاد پر قومی ریاست کی تشکیل کے منشور بھی پیش کیے۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰-۱۹۲۴ کے دوران اپنے خطبات میں خلافت عثمانیہ کی بحالی کی بجائے تہذیبی تسلسل کے تناظر میں مسلم قومیت اور ریاست کا نظریہ پیش کیا تو بات زیادہ واضح ہو گئی۔
ہمارے خیال میں "شکوہ” کو "جواب شکوہ” سے الگ رکھ کے سمجھا نہیں جا سکتا۔ "شکوہ”میں اٹھائے سوالات میں ہی ان کے جواب موجود ہیں۔ "شکوہ” کے بین السطور معانی ایک طرف تو ہندوستان کے، خصوصاً پنجاب میں، معروضی حالات میں مسلمانوں کے جذباتی رد عمل کے سامنے دب کر رہ گئے۔ دوسرے علامہ اقبال کے تعریضی انداز خطاب کی وجہ سے "شکوہ” کا مافی الضمیرکھل کر سامنے نہیں آسکا۔ تعریفی انداز میں شاعر خود کو ہی طنز کا نشانہ بنا کر اندر کی بات کہتا ہے۔
"جوابِ شکوہ”، "شکوہ "میں ہی پس آئینہ موجود ہے۔ مثلاً "شکوہ "کی تمہید میں جہاں شاعر اپنے احتجاج کو خوگر حمد کا گلہ بتا تا ہے۔ وہیں اس سے تاب سخن کی جرات آموزی لے کرداد کی توقع بھی رکھتا ہے۔ "جوابِ شکوہ” میں بھی "شکوہ” کی آواز کی گونج بار بار سنائی دیتی ہے۔ "شکوہ "کی تمہید میں تخلیق آدم کی کہانی کے حوالے سے فرشتوں کے تحفظات کا ذکر ہے تو "جواب شکوہ "میں فرشتوں کے جملوں میں اسی برتری کے احساس کی تکرار ملتی ہے کہ "اس خاک کی چٹکی کی یہ پرواز”، "آداب سے غافل سُکّان زمین "، "یہ پستی کے مکیں ویسے ہی شوخ و گستاخ”، "نادانوں کو بات کرنے کا سلیقہ نہ آیا”۔ دوسری جانب "شکوہ "میں "تاب سخن کی جرات آموزی” پر جس داد کی توقع کا اظہار کیا گیا تھا "جوابِ شکوہ” میں اس پرداد ملتی ہے تو ان لفظوں میں: "ترا نعرہ مستانہ آسمان تک پہنچا”۔ "ترا دیوانہ دل کس قدر شوخ زبان ہے”، ” شکر ہے تو نے شکوے میں بھی حسن ادا کو فراموش نہیں کیا” اور اور اس سے بڑھ کر داد کیا ہو گی کہ "آخر تو نے بندوں کو اپنے خدا سے ہم سخن کر ہی دیا”۔
اسی طرح "شکوہ "میں جتنے بھی گلے کیے گیے، "جواب ِشکوہ "میں ان کا جواب بھی لگی لپٹی رکھے بغیر بڑی بے تکلفی سے دیا گیا۔ اس سارے مکالمے میں ماضی پرستی میں کھوئے شکایت کنندہ کو ماضی کی نیند سے بیدار ہو نے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ حال کی سچائی کو آنکھیں کھول کر دیکھ لے۔ ماضی کے جن لوگوں کے کارنامے اپنے دامن میں ڈال کر داد مانگنے والے ذرا نہیں سوچتے کہ نہ تم وہ ہوجن کے کارنامے اپنے نام کر رہے ہو اورنہ یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہ کارنامے تم سے متوقع ہیں۔ وہ تمہارے آبا تو تھے لیکن تم کیا ہو۔ تم ان کے کیسے نام لیوا ہو کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے پرانے زمانوں کی کہانیاں سنا رہے ہو۔
"شکوہ” کے آخری اشعار میں شکوہ دعا میں بدل جاتا ہے۔ خدایا امت مرحوم کی مشکلیں آسان کردے پھر دعا کا رخ قومیت کی مقامی تشکیل کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کردے۔ پیالہ عجمی ہے تو کیا ہوا مے تو حجازی ہے، نغمہ ہندی ہے تو کیا،لے تو حجازی ہے۔ قوم آوارہ اب پھر حجاز کی طرف متوجہ ہے۔ چمن کے زمزمہ پرداز ڈالیوں سے اڑتے جا رہے ہیں۔ شاعر ایک بلبل کی طرح اب تک محو ترنم ہے۔ شاید اس تنہا بلبل کی نوا بانگ درا بن جائے اور مسلمان جاگ اٹھیں۔ نئے عہد وفا سے دل پھر سے زندہ ہو جائیں۔۔
"جواب شکوہ” کے آخر میں بھی لہجہ بدل جاتا ہے۔ عہد نو برق ہے، ہر خرمن کوجلائے جارہی ہے۔ اقوام کہن اس نئی آگ کا ایندھن بن رہی ہیں۔ملت ختم الرسل کا پیراہن بھی ان شعلوں کی زد میں ہے۔ چمن کا یہ حال دیکھ کے مالی کو تو پریشان نہیں ہونا چاہیے وہ تو دیکھ سکتا ہے کہ ہر غنچے کے کوکب سے شاخیں چمکنے کا وقت آ گیا ہے۔ گلشن ہستی میں سب امتوں کا ایک سا حال نہیں رہتا، کوئی پھل دار ہیں، کچھ پھلوں سے محروم، کچھ خزاں کی زد میں، سینکڑوں درخت ہیں، کچھ نشو و نما پا گئے، کچھ چھوٹے رہ گئے۔کچھ ابھی زیر زمین ہیں۔ نخل اسلام کی نشو ونما کے عمل کی ایک مختلف قسم ہے جوسینکڑوں صدیوں کی چمن بندی کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔ اس کا قافلہ کبھی ویران نہیں ہوتا۔ کعبے کوپاسبان صنم خانوں سے بھی ملتے رہتے ہیں۔جیسے انجم کی محفل جذب باہم سے ہے ایسے ہی قوم مذہب سے ہے، مذہب نہیں تو قوم بھی نہیں۔ دہر میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے اجالا کر کے دیکھو۔ ملت احمد مرسل کو مقامی کر کے دیکھو یہ جہاں کیا لوح وقلم ہم نوا ہو جائیں گے۔
مضمون میں گنجائش تو نہیں لیکن اقبال کے بعد بیسویں صدی کے اواخر میں شائع ہوئی دو تحریروں کا ذکر بہت ضروری ہے جن میں قرونِ وسطی کے حوالے سے یورپ اور مسلم دنیا میں علمی رابطوں کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے اور اس تہذیبی تسلسل کا ذکرکیا ہے جس کا علامہ اقبال نے حوالہ دیا ہے۔
فرانسیسی فلسفی اور مورخ ایتی این جِلساں [م ۱۹۷۸ ] نے بھی اسلام اور دیگر اقوام کے درمیان تہذیبی روابط اور تسلسل اور باہمی مکالمات پر بات کی ہے۔ جنوبی یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے مطالعے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ جدید عقلیت کا آغاز سائنسی اکتشافات سے بہت پہلےمذہب اور عقل میں تضاد کی بحث سے ہو چکا تھا۔ اس تضاد کے مغالطے کو دور کرنے میں ابن رشد کی خالص فلسفیانہ عقلی تجزیاتی تحریک کی دعوت نے بہت مدد کی۔ ابن رشد کی یہ تحریک یورپ میں "ایویرو ازم” یا ابن رشدی فکر کے نام سے معروف ہے۔
اسلام کی تاریخ میں تہذیبی تسلسل کے شعور کی طویل تحریک کے مطالعات میں مارشل ہاجسن [م ۱۹۶۸] کی کتاب ” اسلام کی مہم: عالمی تہذیب میں شعور اور تاریخ” بہت نمایاں ہے۔ تین جلدوں پر مشتمل اس کتاب کے مطابق قرونِ اولی میں فتوحات کے جلو میں مفتوح اقوام سے رابطوں کے دوران یونانی، رومی اور ایرانی علوم اور افکار سے مسلمانوں کی شناسائی ہوئی جو دینی روایت کے لیے چیلنج تو بنے لیکن یہ چیلنج سیاسی فتح و شکست کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اسلامی روایت کے تہذیبی تسلسل میں علمی اور فکری روابط سے پیدا ہوئے تھے۔ تہذیبی تسلسل کی حرکیاتی روایت کے طور پرمسلم دانش نے اس کا مسلسل ناقدانہ جائزہ لیا۔ اس کے نتیجے میں تین رجحانات پیدا ہوئے۔ فلسفیانہ، دینی، اور کلامی۔
فلسفیوں میں فارابی اور ابن رشد نے یونانی تہذیب اور علوم کا ناقدانہ مطالعہ کیا۔ اس وقت کی علمی دنیا میں تہذیبی تسلسل کا مطلب قدیم اور جدید میں تضادات دور کر کے ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ فارابی کے نزدیک تہذیبی اور فکری تسلسل کے لیے تضادات کی بجائے ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کرنا ضروری تھا۔عوام کو معاشرتی عمل میں شامل کرنے کے لیےعقلیات کو عام فہم بنانا ضروری تھا۔فارابی کی نظر میں سماجی اور سیاسی مسائل اتنے سادہ نہیں ہیں کہ صحیح اور غلط میں محض عقلی بنیاد پر فرق کیا جا سکے۔ سماجی پیچیدگیوں کو طبیعیات اور منطق کی دو ٹوک قطعیت سے نہ پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے اور نہ دور کیا جا سکتا ہے۔ معاشرت تنوع اور زمان و مکان کی تبدیلیاں حتمی اور قطعی پیمانوں کی پابند نہیں۔ منظم معاشرے کی تشکیل کے لیے ہر فرد میں شمولیت اور ذمہ داری کا احساس لازمی ہے۔ ورنہ انسانی زندگی کےعارضی اور بے مقصد ہونے کا تصور معاشرے سے لا تعلقی کے رویے کو تقویت دیتا ہے۔
ہاجسن نے اسی تسلسل کے تناظر میں برصغیر میں قومیت کی تحریک کے حوالے سے اقبال اور گاندھی کے درمیان فرق کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ گاندھی سیاسی سرگرمیوں کی وقتی اہمیت کے پیش نظر انتہائی اور فوری عملی اقدامات کے قائل تھے۔ وہ صحیح وقت پر صحیح آدمی کے انتخاب میں کبھی غلطی نہیں کرتے تھے۔ وہ فلسفیانہ سوالات میں کبھی نہیں الجھتے تھے۔ چنانچہ ان کے تاریخ کے نقطہ نظر میں وسعت بالکل نہیں تھی جبکہ تاریخ کی حرکیات پر اقبال کی نظر کہیں زیادہ گہری تھی۔ وہ بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ روایت کے تسلسل میں بڑی جان ہوتی ہے۔ اسی لیے انھوں نے اپنی ہم عصر نسل میں ثقافتی اداروں کی سیاسی ضرورتوں کے ادراک کو زیادہ حقیقی اور "عملی” قراردیا۔ چنانچہ جیسے جیسے مسلمان گاندھی کے اثر سے نکلتے گئے، ہندو مسلم تفریق کا دباؤبڑھتا گیا اور تاریخی اسلام عملی طور پر زیادہ اہم ہوتا گیا، تعلیم یافتہ نوجوان تیزی سے اقبال کے حلقہ اثر میں شامل ہوتے گئے۔
غور طلب نکات
پاکستان میں بھی اکیسویں صدی بہت سے نئے زاویے اور تکلیف دہ سوالات لے کر آئی ہے۔ پہلے تو پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں ایسے بڑے صدموں کی یادیں ہیں جن سے اس کی قومی شناخت بے حد متاثر ہوئی ہے۔ ملک کی سرحدوں کے تعین کے وقت لاکھوں لوگ شہید ہوئے، اس کے بعد اب تک ان سرحدوں کے لیے قومی ریاست مسلسل حالت جنگ میں ہے۔ ایسے میں ہم بد انتظامی اور بد عنوانی جیسے روزمرہ مسائل کی طرف توجہ نہیں دے پائے۔ دوسرے ہمارے ہاں قومی ریاست کا آغاز چونکہ استعماری دور میں ہوا تھا اس لیے اس کی تکلیف دہ تلخ یادیں قومی ریاست کے تصور کو اپنانے میں ابھی تک رکاوٹ ہیں اور متبادل تصورِ ریاست کی تلاش جاری ہے۔ اس صورت حال میں نہ بنیاد پرست، شدت پسند اور متعصب قومیت امن اور سلامتی کی ضمانت ہے، نہ شہرت پرست لاابالی سیاست کی قومیت دیر پا ہے۔ تیسرے جب تک قومیت کے جدید تقاضوں کا ادراک نہ ہو ہم نہ خود مختار ہو سکتے ہیں نہ خود اعتمادی سے جی سکتے ہیں۔
آخر میں چند نکات پیش کیے جاتے ہیں جو اس مکالمے کو جاری رکھنے کے لیے مزید غور طلب ہیں۔
- علامہ اقبال کے ہاں قومی ریاست کے حوالے سے تسلسل کی بحث کو پوری طرح سمجھنے کے لیے جہاں بعض ایسے نکات پر گفتگو ضروری ہے جن کی اہمیت اب اکیسویں صدی کے جدید تناظر میں پہلے سے زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہے، وہاں ان نکات کو بھی سامنے رکھنا لازم ہے جو انیسویں صدی سے استعماری استبداد کے خلاف ایک نئی قومی شناخت کی بنیاد ڈال چکے ہیں۔
- اکیسویں صدی میں قومی ریاست کا تصور بہت سے ابہامات کی زد میں ہے۔ قومی ریاست کی خود مختاری کا بلکہ خود قومیت کا تصور بتدریج کمزور ہوتا جارہا ہے۔ آج قومیت ذات سے زیادہ ریاست کی شناخت بن گئی ہے۔
- جدید دور میں قومی ریاست کے تصورمیں مذہب کے عمل دخل میں کمی کا مطالبہ یورپی سلطنتوں کے مابین طویل مذہبی جنگوں کی تلخ یادوں یا جدیدیت میں اثباتیت کے حوالے سے کیا گیا۔ اس پس منظر میں مذہب سے بیزاری اثباتیت کی پہچان بنی اور سیکولرزم اور لبرلزم کے اصولوں سے منسوب ہوئی۔
- قومیت کے نظریے کی دو پہلوؤں سے تشکیل نو کی ضرورت ہے: قانون کی حکمرانی اور تہذیبی تسلسل۔ یہ تشکیل مستحکم تبھی ہو سکتی ہے جب ایک جانب اس کی جڑیں مقامی شہری حکومت میں ہوں اور دوسری جانب حکومت بتدریج عالمی نظام کا حصہ بنے۔
- اقبال کے ہاں شکوہ درحقیقت خود احتسابی کا عمل ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی یاد اور ماضی پرستی میں شامل فخرو مباہات اور ناز و غرور کےرویے کا تجزیہ پیش کیا تھا۔ ایک جانب ان یادوں پر ناقدانہ نظر ڈالنے کی دعوت دی اور دوسری جانب تسلسل قائم رکھنے کے لیے عصر حاضرمیں نظریات کی تشکیل میں ان یادوں کی افادیت اور واقعیت کا جائزہ لینا ضروری قرار دیا۔
