یاد رہے کہ دانش وری اکیڈمک سرگرمی نہیں جس کے لیے بہرحال Canon کی پیروی کرنی پڑتی ہے۔ دانش وری اپنے قاعدے سماجی حرکت (Social Activity) سے متعین کرتی ہے:
۱۔ دانش ور کا براہِ تعلق سماج کی سیاسی حرکت سے ہوتا ہے، وہ سماج میں جاری روزمرہ زندگی کی حرکیات میں اترتا ہے اور اس سے ظاہری اور پس منظرمیں جاری آئیڈیالوجی کا جائزہ لیتا اور اس سے حل نکالتا ہے۔
۲۔ اکیڈیمیا کا سوال ”سماج کیا ہے؟“ ہو تاہے جب کہ دانش ور کے سامنے سوال ”سماج میں کیا ہو رہا ہے؟“ ہوتا ہے۔
۳۔ اکیڈیمیا کا سوال ”زندگی کیسے وجود میں آئی؟“ ہوتا ہے جب کہ دانش ور کا سوال ”زندگی کیسے گزاری جائے؟“ ہوتا ہے۔
۲۔ دانش ور اور اکیڈیمیا میں گہرا فرق ہے۔ دانش ور اشیا کے بارے میں اکیڈیمیا سے مدد تو لے سکتا ہے مگر اس کا بنیادی سروکار سماجی حرکت کی تشریح ہوتی ہے، علم کی پیداوارنہیں۔ اکیڈیمیا سماج سے ایک فاصلے پر اشیا کو دیکھتی ہے۔ اکیڈیمیا کے سوال علمیاتی ہوتے ہیں جو سماجی حرکات سے ایک فاصلہ قائم کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ اکیڈیمیا، فنون،منطق، طبیعیات اور مابعد الطبیعیات جیسے شعبہ جات میں علم کی تشکیل کرتی ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ علم سماج کی حرکیات پر اثر انداز ہوتا ہے اور دانش ور ہی کے کام آتا ہے۔
سماج کی حرکیات کا مطالعہ ہمیشہ سے انسان کا ورثہ رہا ہے۔ ایسا کوئی دور نہیں آیا جب دانش وری کی روایت موجود نہ ہو۔ سماج کی تشکیل کے ساتھ ہی سیاست (Politics) ناگزیر حیثیت سے سماج کا حصہ بن گئی تھی۔ یہاں سیاست سے مراد وہ قانون و نظام ہے جو سماج میں سماجی سرگرمی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ الگ بات کہ اکیڈیمیا نے بہت دیر بعد انسانی اذہان کو اپنا مسکن بنایا مگر سیاست (قانون و نظامِ سماج) کو شروع سے فروغ حاصل رہا۔ قدیم انسان بھی دانش ور تھا۔ وہ اپنے سماج پر گہری نظر رکھتا رہا اور اس کی حرکیات پر سوال قائم کرتا رہا۔ اگر وہ دانش ور نہ ہوتا تو انسان آج بھی غاروں میں پڑا اونگھ رہا ہوتا۔
زرعی تبدیلیوں سے سماج کی حرکیات پر غورو خوض منظم شکل اختیار کرنے لگا۔ گروہوں کے اجتماعی فیصلے اور وسائل کی تقسیم پر اعتراضات نقطہ نظر بننے لگے۔
ہمیں دانش ور کی بحث میں اکیڈیمیا اور دانش وری میں فرق کرنا ہوگا۔ افلاطون اپنے ”مکالمات“میں اکیڈیمیا کا نمائندہ ہے جب کہ ’ریاست‘ کے تصور کی تشکیل میں وہ دانش ور ہے۔ میکیاولی (Machiavelli) کا "جنگ کا فن” (The Art of War) اکیڈمک کام ہے، جب کہ The Princeمیں اس کا نقطہ نظر دانش ورانہ ہے۔ حسن عسکری کی ‘’وقت کی راگنی“ اکیڈیمیا کی بحثیں ہیں، جب کہ جدیدیت کی فکری گمراہیوں میں وہ سماج کی دانش ورانہ اصلاح کے قائل نظر آتے ہیں۔
برصغیر کی روایت میں دانش وری کا بہت کردار رہا ہے۔ مسلم دانش وروں نے سماج کی ایک خاص تشکیل کی۔ یہ الگ بات کہ ہندی و مسلم فکر پر مذہبی روایت حاوی رہی۔ مذہب کے راستے سماج کی حرکیات کی توضیح کی جاتی۔ اس سلسلے میں مسلمانوں نے دانش وری کو حکمرانوں کے لیے راستے کھولنے کے لیے درپردہ استعمال کیا۔ یہاں کی صوفی روایت نے عوام کو مسلم حکمرانوں کی غاصبانہ طاقت کو قبول کروانے میں اہم کردار اداکیا۔ برصغیر کی صوفی روایت بھی اکیڈیمیا اور دانش وری کی تقسیم کا شکار رہی۔ اکیڈیمیا روایت نے مسلم فکر کو پروان چڑھایا جب کہ دانش ور صوفی روایت نے مسلم ثقافت کو ہندی سماج میں نافذ کرنے اور ہندی یا سنسکرت تہذیب کے بے دخل کرنے میں مدد فراہم کی جس کا براہِ راست فائدہ مسلم کورٹس کو ہوا۔
مغرب میں جدیدیت کے فکری پھیلاؤ کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ اکیڈیمیا سے وابستہ افراد جدیدیت کا علمی راستہ تشکیل دے رہے تھے جو ظاہری بات ہے دیرپا اور گہرا تھا جب کہ دانش ور روایت براہِ راست سماج میں چرچ کی بے دخلی کا عملی بنیادوں پر راستہ ہموار کر رہی تھی، جس نے انسان کی مرکزیت کو ہر شعبے میں داخل کرنے میں مدد دی۔
ہمارے ہاں سرسید کی شخصیت بھی دو حصوں میں تقسیم تھی۔ ایک سرسید دانش ور تھے جو ”تہذیب الاخلاق“ نکال رہے تھے، ولیم مور کا جواب لکھ رہے تھے، ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ میں اپنے سماج کا ردعمل پیش کر رہے تھے اور سماج کی دانش ورانہ تعبیر کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کر رہے تھے۔ جب کہ سرسید کی فکر کا دوسرا حصہ ایکیڈٖیمیا سے جڑا تھا جو برصغیر میں علمی روایت کا نگران تھا جس کی عمدہ مثال ”آثار الصنادید“ یا مختلف تواریخ کی تدوین تھی۔ برصغیر میں مسلم زوال کی ایک تعبیر مذہبی تھی جسے شاہ ولی اللہ کی روایت پروان چڑھا رہے تھی مگر سرسید احمد خان سیاسی تشکیل دینا چاہتے تھے، جو سماجی حرکیات کی حقیقت کو تسلیم کرتی ہے اور پھر اس کی دانش ورانہ تعبیر یا حل نکالتی ہے۔( اس سلسلے میں وہ اکیڈیمیا سے بھی مدد لیتی ہے).سرسید نے یہ حل نکالا کہ خالصتاً اکیڈیمیا سے اس ”صورتِ حال“ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے سماج کے ان بیانیوں کو سمجھنا ہوگا جو مقابلے کی سینس پیدا کرتے ہیں۔ اس کے لیے انھوں نے از خود ایک ردعمل کا بیانیہ تشکیل دیا اور وہ تھا: مفاہمت کا بیانیہ۔ یہ مفاہمت علمی اور سماجی برابری کا تقاضا کرتی تھی۔ سماج کا اتنا گہرا مطالعہ برصغیر کی سیاسی روایت میں پہلے نظر نہیں آتا۔ عموماً طاقت ہی دانش ورانہ روایت کی تشکیل کرتی رہی تھی مگر سرسید نے خالصتاً سماج کا حصہ ہوتے ہوئے طاقت کے ”مقابل“ ایک ”دانش ورانہ“بیانیہ ترتیب دیا۔یہ الگ بات کہ اس سماجی بیانیے کو بعد میں ردعمل کی پالیسی میں بدل دیا گیا اور برصغیرکی محکوم عوام کا ”مقابلے“ کا بیانیہ سیاسی جماعتوں نے ہائی جیک کر لیا۔ پھر عوام اس طرف نہیں آئے۔ آج تک ردعمل کا سیاسی بیانیہ حاوی ہے، علمی بیانیہ اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ سرسید دانش ورانہ روایت ردعمل نہیں، علمی مفاہمت چاہتے تھے، جسے انھوں نے متبادل بیانیہ کے طور پر اپنایا تھا مگر افسوس بعد میں سیاسی جماعتوں نے سارے کا سارا بیانیہ ردعمل میں منتقل کر دیا۔جس کا عروج تحریک آزادی، ریشمی رومال اور خلافت کی تحریکوں کی شکل میں نمودار ہونے لگا۔
اقبال بھی دانش ور اور اکیڈیمیا میں تقسیم تھے۔ برصغیر سے سامراج کی واپسی ان کا دانش ورانہ ردعمل تھا جب کہ پورے دنیا کے مسلمان اکٹھے کسی سماج کی تشکیل کریں (ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے) ان کا اکیڈیمک نقطہ نظر تھا، جس کے لیے وہ مومن میں عشق بطور قوت کار فرما دیکھتے رہے۔
ادیب اپنی نہاد میں دانش ور نہیں ہوتا۔ وہ اکیڈیمیا کے راستے سماج کا مطالعہ کرتا ہے۔ سیاسی حرکیات اس کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ کسی سیاسی توجیح کا سہارا بھی لے تو اسے فن کارانہ اظہار کے زُمرے میں لے آتا ہے، جس سے اس کا نقطہ نظر اکیڈیمیا کا روپ دھار لیتا ہے۔ ترقی پسند جب سماج کی تشریح کر رہے تھے وہ دانش ورانہ سے زیادہ اکیڈیمک تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ترقی پسند ادبی روایت دانش ورانہ ہوئی مگر فوراً ہی اکیڈیمیا میں منتقل ہو گئی۔ راولپنڈی سازش کیس کے بعد اس کے کس بَل نکل گئے۔
دنیا بھر میں اس وقت سماجی حرکیات کو اکیڈیمیا اور دانش ورانہ اسلوب میں سمجھنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ Critique of Political Economy میں مارکس کا جھکاو ایکیڈیمیا کی طرف ہے۔ جب کہ داس کیپیٹل میں وہ مکمل دانش ور نظر آتا ہے۔ سماج کو عملی سطح پر بدلنا چاہتا ہے۔ چومسکی جب ”روگ سٹیٹ“ یا ”آن پیلسٹائن“ لکھتا ہے تو وہ دانش ورانہ استدالال اپنا لیتا ہے جو سماج کو براہِ راست دیکھنا ہے۔ جب کہ Who Rules the World میں وہ ایکیڈیمیا کا سہارا لیتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے بھی اپنی تحریروں میں اکیڈیمیا اور دانش وری کا الگ تھلگ اظہار کیا۔ Culture and Imperialism اور شرق شناسی میں وہ ایکیڈیمیا موقف کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی پروفیسر مہدی حسن، مبارک علی، روبینہ سہگل وغیرہ کے ہاں دانش ورانہ روایت کا اظہار ملتا ہے۔ نئی دانش ورانہ روایت میں وجاہت مسعود، ارشد محمود، مبارک احمد، جمشید اقبال، عثمان قاضی وغیرہ اہم لکھاری ہیں۔ ادیبوں میں سماج کی سیاسی حرکت کا مطالعہ کرتے ہوئے ادب بطور فن حاوی رہتا ہے مگر آج کل کچھ ادیبوں کے ہاں اکیڈیمک اور دانش ورانہ نقطہ نظر میں واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ناصر عباس نیر کی مثال پیش کی جا سکتی ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں میں اکیڈمک مطالعات کے علاوہ سماجی واقعات پر دانش ورانہ نقطہ نظر پیش کیا۔ ناصر عباس نیرصاحب کی تحریروں میں سماجی معاملات کو پس منظر میں جا کے سمجھنے کی دانش ورانہ روایت کا اظہار ملتا ہے۔ سائنس دانوں میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائے نے سماجی معاملہ فہمی کو دانش ورانہ فکر سے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے ہاں سائنسی استدلال بھی بعض اوقات دانش ورانہ فہم سے سامنے آتا ہے۔
شروع میں ذکر ہوا کہ دانش ورانہ فکر سماجی حرکت پر پہلے اپنی رائے قائم کرتی ہے بعد میں اس کا فلسفیانہ یا نظریاتی تجزیہ کرتی ہے۔ اسے ایک علمی فریم عطا کرتی ہے، جس میں چیزوں کو سمجھنے میں آسانی ملتی ہے۔ ایسی دانش ورانہ فکر جو محض اپنی رائے تک محدود ہو جائے بڑی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتی، اسے بہر حال اکیڈیمیا کے قریب جانا پڑتا ہے۔ تاریخ، فلسفہ، ادبیات اور سماجی علوم کی کھوکھ سے حل نکال کے واقعے کی توجیح و تعبیر کرنی ہوتی ہے۔ اردو کی ایک بڑی تعداد کی دانش ورانہ روایت ابھی رائے یا نقطہ نظر تک محدود ہے۔
