افغانستان میں جب صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت قائم تھی تو اس وقت وہاں سکیورٹی سب سےسنگین مسئلہ تھا، روزانہ کابل اور اردگرد کے صوبوں میں بم دھماکے اور بڑے بڑے حملے ہوا کرتے تھے جبکہ اس کے مقابلے میں سرحد کے اس پار پاکستان میں امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر سمجھی جاتی تھی۔

تاہم کابل میں امارت اسلامی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اب حالات اچانک تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ کابل اور آس پاس کے صوبوں میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آرہی ہے لیکن اس کے برعکس ڈیورنڈ لائن کے اس طرف امن و امان کا معاملہ غیر متوقع طورپر روزبروز سنگین اور پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان میں پہلے صرف کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور کچھ دیگر تنظیموں کو سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا لیکن اب کچھ عرصے سے دولت اسلامیہ یا داعش بھی اس لسٹ میں شامل کردی گئی ہے۔ آج کل تو ملک میں شاید ہی ایسا کوئی دن گزرتا ہوگا جب ٹی ٹی پی یا داعش کی طرف سے سکیورٹی اہلکاروں یا عام شہریوں کو نشانہ نہ بنایا گیا ہو۔ اگرچہ ان حملوں کی شدت زیادہ نہیں ہے لیکن اگر یہ سلسلہ اس طرح بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا تو آنے والے دنوں میں اس کا دائرہ کار وسیع ہو گا جس سے سنگین سکیورٹی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

پشاور میں امامیہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے نے ایک مرتبہ پھر سے شہر میں خوف کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ آرمی پبلک سکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پشاور شہر میں یہ اپنی نوعیت کا بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش کی طرف سے قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اپنے قیام کےبعد سے لے کر آج تک ان گزرے سات سالوں میں کبھی داعش پر پاکستان میں کھل کر بات نہیں کی گئی بلکہ پاکستان میں ابتداء ہی سے ایک بیانیہ بنایا گیا تھا کہ داعش کے خلاف صفر برداشت پالیسی ہے اور یہ کہ اس تنظیم کا یہاں کوئی وجود ہی نہیں۔ لیکن افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوجانے کے بعد اب یہاں حکمرانوں کی جانب سے اچانک اس بات پر شدت سے زور دیا جانے لگا کہ داعش اور ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ ہے۔

شاید عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے پہلی مرتبہ داعش کے وجود پر کسی بڑی فورم پر بات کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال دسمبر میں اسلام آباد میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان سے دولت اسلامیہ کے جنگجو یہاں آرہے ہیں اور پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں۔ اس بیان پر افغانستان کے کچھ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے شدید ردعمل بھی سامنے آیا ۔ سابق صدر حامد کرزئی نے عمران خان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الٹا پاکستان پر داعش جنگجوؤں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔

Share.

Comments are closed.

Exit mobile version