گزشتہ دنوں مو لانا وحید الدین خان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نصیحت نامہ ملا ۔یہ نصیحت نامہ ایک عالمِ دین کے نام تھا۔اس نصیحت نامے کو یہاں نقل کرنے کا مقصد نوجوانوں کو اُن اہم باتوں کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے جو اہم باتیں زندگی کی دوڑدھوپ،سیاسی مسائل، نفسیاتی رویوں اور مذہبی اختلافات میں کہیں گم ہو جاتی ہیں ۔پاکستان میں سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پیپر میڈیا پہ تمام دن سیاست غالب رہتی ہے یا مذہبی بحثیں جاری رہتی ہیں۔موجودہ ماحول ہمیں اپنے آپ سے غافل کر دیتا اور دوسروں کی اصلاح اور اُن کی خامیوں پہ کمر بستہ کردیتا ہے۔۔۔
ایسے حالات و ماحول میں یہ نصیحتیں بہت مفید اور کار آمد ہیں۔مولانا لکھتے ہیں :
1۔رسول اللہﷺ کی حدیث کے مطابق ٹھہر ٹھہر کر بو لنا سیکھیں،وہ کبھی تیز نہ بولیں تا کہ سننے والا اس بات کو پکڑتا چلا جائے یہی طریقہ رسول اللہﷺ کا تھا۔
2۔سیاسی مسائل اور شکایت کے مسائل اور دینی اختلافات کے مسائل پر بولنا بالکل چھوڑ دیں اس کو ممنوعاتِ کلام میں شامل کریں۔
اگر آپ نے ان دو نصیحتوں پر عمل کیا تو آپ اِن شا ء اللہ ایک نئے انسان بن جائیں گے۔آخر میں لکھتے ہیں :’’ہر انسان کو اس کے خالق نے کسی خاص صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔انسان کو چا ہیے کہ اپنے اس عطیہ الٰہی کو دریافت کرے اور اس کو منصوبہ بند انداز میں استعمال کرے‘‘یہ نصیحتیں مولانا نے آخری عمر میں کی ہیں ۔گویا یہ اُن کی زندگی کے تجربات،علم اور غور فکر کا خلاصہ ہیں۔ہمارا سیاسی اور فرقہ وارانہ ذہن ان خیالات سے کم ہی متفق ہوتا ہے ۔وہ شو گر کے مریض کی طرح (جو ڈاکٹر سے ایک آم کھانے کی اجازت لے ہی لیتا اور)کہیں نہ کہیں توجیہہ اور عذر کا راستہ پیدا کر ہی لیتا ہے۔سیاست اور فر قہ واریت میں تربیت پانے والا ذہن اس نصیحت سے کلی طور پر اختلاف کرتااور ببا نگ دھل اختلاف کرتا ہے ۔وہ اس راستے کو امت کی تباہی کا راستہ خیال کرتا ہے۔اُس کا عمومی خیال یہی ہے کہ سیاست ہی در حقیقت ہمارا اوڑھنا بچھونا ہونا چاہیے جب کہ مولانا فرد کی تربیت و اصلاح کا ایک نسخہ تجویز کررہے ہیں جس سے ایک اعلیٰ اخلاق و افکار پر مبنی سماج وجود میں آتا ہے ۔جس کے بعد یہ بحث و اختلاف خود ہی دم توڑ جاتے ہیں۔
ڈاکٹر امجد ثاقب لکھتے ہیں
"نوجوان اکثر پوچھتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کیسے ملتی ہے۔ میرا جواب یہ ہے کہ کامیابی کے لیے دل کی آواز سننا اور پہلا قدم اٹھانا ضروری ہے ۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کامیاب ہونا چاہتے ہیں لیکن ان کا وقت سوچنے میں لگ جاتا ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنی مثال پیش کروں۔
کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد مجھے لگا کہ میں اس شعبہ میں آگے نہیں جا سکتا ۔ بہت سے لوگوں نے مجھے روکا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہی کامیابی کی راہ ہے لیکن میرا دل کچھ اور کہہ رہا تھا ۔ اس کشمکش میں کئی روز گزر گئے اور پھر ایک روز میں نے دل کی آواز سنی اور فیصلہ کر لیا۔ میں نے سی ایس ایس کی کتابیں خریدیں اورخود کو گھر کے ایک کمرے تک محدود کرلیا۔ آٹھ ماہ کے بعد امتحان ہوا اور میری پاکستان بھر میں تیسری پوزیشن تھی۔ اگر میں سوچوں میں گم رہتا ‘ دل کی بات نہ مانتا اور پہلا قدم نہ اٹھاتا تو یہ کامیابی کیسے ملتی۔
ایسی ہزاروں مثالیں ہیں۔ جب بھی لوگوں نے اپنے دل کی آواز سنی‘ فیصلہ کیا اور پھر سفر پر چل نکلے وہ ضرور کامیاب ہوئے” ۔
یہ ایک ایسے انسان کی تحریر ہے جس نے تعلیم و خدمت میں قدم رکھا اور محنت،ثابت قدمی اور قوت ارادی سے مقصد کو حاصل کیا۔۔نوجوان وقت اور اپنی صلاحیت کے ضیاع سے بچیں۔۔ سب سے پہلے مقصد کو طے کریں۔مقصد طے کرنے سے پہلے،اپنے اندر کو ٹٹولیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ جو چاہتے ہیں کیا اس کو کرنے کی اہلیت بھی ہے یا نہیں؟مقصد واضح ہو جائے تو اس کے حصول میں انہماک اور توجہ سے مصروف ہوجائیں۔ ۔کامیاب لوگ اپنا کچھ ضائع نہیں کرتے جو ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے،در حقیقت وہ بھی تجربہ کی صورت میں بہت کچھ دے کر جاتا ہے۔۔۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی حیات اور افکار دونوں نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔۔۔
Previous Articleگوادر سالانہ فیسٹیول
Next Article داعش اور ٹی ٹی پی کا معاملہ کیسے حل ہوگا؟

