مجید امجد کا یہ شعر میں اکثر اپنے آدھے ادھورے خواب بکھر جانے کے بعد گنگناتا ہوں:۔
میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
تجزیات سے لمبی غیر حاضری ایک طرح سے سچ کے قحط کے زمانے میں خاموشی کے فیسٹول میں چپ چاپ شرکت تھی۔آج پھر لکھنے کو دل چاہا تو مجید امجد کا شعر پھر بے اختیار یاد آیا اور سوچنے لگا۔لکھوں۔کون پڑھتا ہے،نہ لکھوں تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ "میرا فکری سافٹ وئیر” سچ کے قحط کے زمانے میں تھوڑا سہم سا گیا تھا۔ اس عرصے میں سوچا لکھنے کی بجائے فقط بات کی جائے۔آج تو کمپیوٹر کے ایسے سافٹ وئیر آ چکے ہیں جو بولے گئے الفاظ کو اچھے برے انداز میں تحریر کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی استاد کلاس روم میں بول کر نالج ٹرانسفر کرتے ہیں۔ میں بچپن سے سوچتا آیا ہوں کہ اسکول لکھنا پڑھنا تو سکھاتے ہیں۔ امتحان بھی تحریری ہوتے ہیں۔اسکول بات کرنا کیوں نہیں سکھاتے،سوال اٹھانے پر معتوب کیوں سمجھا جاتا ہے اور اگر نالج گفتگو سے ٹرانسفر ہوتا ہے تو امتحان زبانی /بول کر کیوں نہیں ہوتے۔ہاں پی ایچ ڈی تھیسس وغیرہ کا دفاع بول کر ضرور ہوتا ہے۔ تاہم تعلیم کے جنگل میں بہت کم لوگ ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ تک پہنچ پاتے ہیں۔ سنا ہے مذہبی تعلیمی اداروں میں باقاعدہ مناظرہ،مجادلہ وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔شاید اس لیے ہمیں مذہبی تقریبات میں شعلہ بیانی نظر آتی ہے۔اس حوالے سے فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مکالمے کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔مذہبی تناظر میں یہ بات سچ ہے کہ الہامی کتب کا نزول "وحی” (فرشتے کے لائے ہوئے پیغام) کی صورت ہوا اور بعد ازاں الہامی کتب کی تدوین ہوئی۔اور آج ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم بولتی کتابوں کے کلچر تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ تہذیبی اعتبار سے بھی سچ یہی ہے کہ دنا میں آنے والے بچے کی پہلی چیخ اور آواز سے لیکر عمدہ تقریروں ،مشاعروں میں پڑھی گئی نظموں،جنگوں میں بجائے گئے نقاروں،قصہ گوئی، ڈرامے ،تھیٹر،گیتوں ،فلموں،ویڈیوز،ایک طویل فہرست ہے جو زبانی اظہار کے توانا انداز ہیں۔ میں تو سینہ گزٹ کو دنیا میں سب سے زیادہ سر کولیشن والا موثر اخبار کہتا ہوں۔ اور یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر درو دیوار بات کر سکتے تو کتنی ایسی باتوں کا تذکرہ ہوتا جو کبھی لکھی نہ جا سکیں۔
اپنی تحریری خاموشی کی اتنی ساری توجہیات ذہن میں آئیں تو سوچا کیوں نہ اپنا سافٹ وئیر خود بخود ہی اپ ڈیٹ کر لیا جائے۔اسی عمل میں احساس ہوا کہ بات تو منتشر خیالات ہوتی ہے۔انہی تک پہنچتی ہے اور وہی سنتے ہیں جو سامنے ہوتے ہیں اور پھر بھول جانا بھی انسانی جبلت ہے اور بات پر کان نہ دھرنا بھی انسانی رویہ ہے۔یہی سوچ کر دوبارہ قلم اٹھانا اور یہ کالم لکھ ڈالا۔ارادہ ہے کہ سوچ،قلم اور کاغذ کا رشتہ اب نہ ٹوٹے،بھلے یہ کالم سائبر دنیا کے سمندر میں ایک نئی پوسٹ آ جانے کے بعد کہیں کھو جائے گا۔امید ہے اس وقت تک نیا کالم لکھ پاؤں گا۔

